تربوز کھانے کے بعد چار افراد کی موت کا معاملہ – ڈاکٹروں نے تربوز کو اموات کی وجہ ماننے سے کردیا انکار- اصل وجہ تاحال معمہ

ممبئی کے پائیدھونی علاقے میں عبداللہ ڈوکادیا خاندان کے چار افراد کی پُراسرار موت کا معمہ تاحال برقرار ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بریانی اور اس کے بعد تربوز کھانے کے بعد خاندان کے ماں، باپ اور دو بیٹیوں کی حالت اچانک بگڑ گئی۔ تاہم زہر جیسی کس چیز سے ہوئی، یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا، جبکہ جے جے ہاسپٹل کے ڈاکٹروں نے واضح طور پر تربوز کو اموات کی وجہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
خاندان کی سب سے کم عمر 12 سالہ زینب نے “میرے ماں باپ کو بچا لو” کی دل دہلا دینے والی فریاد کی، جس نے پڑوسیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ خاندان بھینڈی بازار کی مغل بلڈنگ میں مقیم تھا، جہاں اتوار کی صبح ایک خوفناک سانحہ پیش آیا۔ حالت بگڑنے پر پڑوسیوں نے ہومیوپیتھک ڈاکٹر زید قریشی کو طلب کیا، جنہوں نے بتایا کہ زینب کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا اور نبض محسوس نہیں ہو رہی تھی، جبکہ دیگر افراد نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے۔
چاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ زینب کو سبو صدیقی اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا، جبکہ دیگر افراد کو جے جے اسپتال منتقل کیا گیا۔ نسرین کی دوپہر 1:30 بجے، عائشہ کی شام 5:15 بجے اور عبداللہ کی رات 10:15 بجے موت واقع ہوئی۔
جے جے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سنجے سورسے نے کہا کہ باسی تربوز کے باعث اتنی مہلک صورتحال پیدا ہونا “بالکل ممکن نہیں”۔ ان کے مطابق اگر یہ عام فوڈ پوائزننگ ہوتی تو اس کی علامات اور رفتار مختلف ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیماری کی شدت اور ایک ہی خاندان کے افراد پر اس کا تیز اثر کسی عام غذائی زہرخورانی سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ کسی زہریلے یا کیمیائی مادے کا شبہ ظاہر ہوتا ہے۔
متاٹرین کا علاج کرنے والے جے جے ہاسپٹل کے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ متاثرین میں شدید فوڈ پوائزننگ جیسی علامات پائی گئیں، جن میں گردوں کو اچانک نقصان بھی شامل ہے۔ تاہم ڈاکٹرس نے واضح کیا کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ تربوز — چاہے وہ خراب ہی کیوں نہ ہو — چاروں افراد کی اتنی تیز اور مہلک موت کی وجہ بنے۔ علاج میں شامل ایک سینئر ڈاکٹر کے مطابق، “کسی آلودگی، کیمیکل یا کسی اور پوشیدہ وجہ کا امکان ہو سکتا ہے، اس مرحلے پر کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔”
ماہرینِ صحت کم ہاسپٹل نے بھی اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ تربوز عموماً محفوظ اور گرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والا پھل ہے، کیونکہ اس میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ماہر معدہ Dr Akash Shukla نے کہا کہ اگرچہ بعض سبزیوں سے زہریلے ردِ عمل کے نادر واقعات سامنے آئے ہیں، لیکن تربوز کو اس نوعیت کے مہلک واقعات سے جوڑنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔
ادھر جے جے مارگ پولیس نے حادثاتی موت کے مقدمات درج کر لئے ہیں اور پوسٹ مارٹم و فارنسک رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تربوز کے نمونے، ساتھ ہی جسمانی اعضا اور معدے کی صفائی کے نمونے محفوظ کر لئے گئے ہیں تاکہ تفصیلی جانچ کی جا سکے۔
اموات کی ترتیب نے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔ زینب کی موت سب سے پہلے صبح تقریباً 10:30 بجے ہوئی، اس کے بعد تین گھنٹے بعد نسرین، شام میں عائشہ اور رات گئے عبداللہ دم توڑ گئے۔
اندھیری میں موبائل پارٹس کی دکان چلانے والا یہ خاندان علاقے میں معروف تھا۔ پیر کے روز انہیں مارین لائنس بڑا قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ خاندان والوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جبکہ تفتیشی ٹیمیں اچانک پیش آئے اس المناک واقعے کی وجوہات جاننے میں مصروف ہیں۔
فی الحال ڈاکٹروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور تربوز کے استعمال سے متعلق کسی خوف میں مبتلا نہ ہوں، کیونکہ اموات کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق اصل وجہ فارنزک رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ اس واقعے کے بعد عوام میں خوف پھیل گیا ہے اور تربوز کی فروخت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بغیر ثبوت کے کسی ایک غذا کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں، کیونکہ اس کیس میں تربوز کے خلاف کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔



