ہجومی تشدد میں جاں بحق نذیر احمد کے کیس میں 14 گاو رکھشکوں کو عمر قید کی سزا – مدھیہ پردیش کی ضلع جج تبسم خان کا فیصلہ
بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع نرمداپورم کی ایک عدالت نے 14 افراد کو ایک مسلم شخص کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ واقعہ اگست 2022 میں مبینہ گائے اسمگلنگ کے الزام کے تحت پیش آیا تھا۔
سیونی مالوا-نرمداپورم کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج تبسم خان نے جمعہ کے روز فیصلہ سناتے ہوئے تمام 14 ملزمین کو مجرم قرار دیا۔ یہ سزا مہاراشٹر کے ضلع امراؤتی سے تعلق رکھنے والے نذیر احمد کے 3 اگست 2022 کے قتل کے مقدمے میں سنائی گئی۔
عمر قید کی سزا پانے والوں میں دیپک عرف بابا کیوات (38)، اججو عرف اجے راٹھور (36)، پرکاش کاؤشل (33)، چیتن مراٹھا (23)، پون باتھاو (31)، امر عرف بھولا باتھاو (38)، کنہیا باتھاو (32)، دیویندر عرف چھوٹو کوری (22)، سندیپ عرف راجا کاؤشل (26)، انوج عرف بلّو رگھونشی (24)، سنجو عرف راجندر کاؤشل (39)، آکاش عرف پنٹولی باتھاو (31)، گورو یادو (24) اور آکاش سارتھے (33) شامل ہیں۔
عدالتی فیصلہ کے بعد ملزمین کے گھر والے بڑی تعداد میں عدالت کے باہر جمع ہوگئے۔ پولیس کی جانب سے سزا یافتہ افراد کو جیل منتقل کئے جانے کے دوران ان کے اہلِ خانہ نے پولیس گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، جبکہ بعض افراد گاڑی کے سامنے لیٹ کر راستہ روکنے کی بھی کوشش کرتے رہے۔
ملزمین کے گھر والے آبدیدہ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے “گاو سیوا” اور “گاو رکشا” کے لئے گئے تھے لیکن اب انہیں اس واقعے کے نتائج بھگتنے پڑ رہے ہیں۔
یہ افسوسناک واقعہ 3 اگست 2022 کی رات سیونی مالوا علاقے میں پیش آیا تھا۔ مہاراشٹر کے امراؤتی سے مویشی لے جانے والا ایک ٹرک تقریباً رات 1 بجے بَرکھڑ گاؤں کے قریب 10 سے 15 افراد کے ایک گروہ نے روک لیا تھا۔
الزام ہے کہ گاڑی میں مویشی دیکھنے کے بعد اس گروہ نے ٹرک ڈرائیور اور دو دیگر افراد پر حملہ کیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ نذیر احمد دورانِ علاج دم توڑ گئے جبکہ دو دیگر افراد زندہ بچ گئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے 14 افراد کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی۔ تقریباً تین سالہ عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے تمام ملزمین کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا دی۔



