ہنستے ہنساتے رُلا گئے — حیدرآباد کے کامیڈی شہنشاہ ببن خان ہمیشہ کے لئے خاموش
حیدرآباد ہنسنے سے محروم — کامیڈی کے شہنشاہ ببن خان کا انتقال
حیدرآباد: شہر کی ثقافتی پہچان اور اسٹیج کامیڈی کے بے تاج بادشاہ ببن خان کا انتقال ہو گیا، جس سے فنِ مزاح کی دنیا سوگوار ہو گئی ہے۔ وہ ایک نجی اسپتال میں مختصر علالت کے بعد داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے، اور اپنے پیچھے ہنسی اور یادوں کا ایک ایسا خزانہ چھوڑ گئے جو مدتوں زندہ رہے گا۔
ببن خان نے 1965 میں اپنے مشہور ڈرامے “ادرک کو پنجے” کے ذریعے نہ صرف حیدرآباد بلکہ ملک و بیرونِ ملک میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ ان کا اندازِ مزاح محض قہقہوں تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ طنز کے ذریعے سماج کی تلخ حقیقتوں—جیسے غربت، خاندانی مسائل اور معاشرتی برائیوں—کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے لیے وقف کی، اور آج ان کے بچھڑنے سے حیدرآباد کی محفلیں واقعی سنسان محسوس ہو رہی ہیں۔



