نیشنل

وزیرِ اعظم مودی کا آج رات ساڑھے 8 بجے پر قوم سے خطاب

نئی دہلی: وزیرِ اعظم نریندر مودی آج رات ساڑھے آٹھ بجے قوم سے خطاب کریں گے۔ یہ خطاب خواتین ریزرویشن بل کے لوک سبھا سے منظور نہ ہونے کے بعد ہونے جا رہا ہے۔ ہفتہ کے روز ہونے والی کابینہ میٹنگ میں بھی وزیرِ اعظم مودی نے

 

اپوزیشن کے رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھااور یہاں تک کہا تھا کہ اس غلطی کی قیمت اپوزیشن کو چکانی پڑے گی۔ اب اسی دوران رات ساڑھے آٹھ بجے وزیرِ اعظم کا خطاب متوقع ہے۔واضح رہے کہ لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن ترمیمی

 

بل، یعنی آئین کی 131ویں ترمیم، منظور نہیں ہو سکی تھی۔ اس بل پر دو دن تک مسلسل بحث ہوئی۔ بعد ازاں جمعہ کی شام ووٹنگ میں یہ بل مسترد کر دیا گیا۔ اس ترمیمی بل کے حق میں 298 اراکینِ پارلیمنٹ نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں

 

230 ووٹ ڈالے گئے۔خواتین ریزرویشن سے متعلق ترمیمی بل پر ووٹنگ میں مجموعی طور پر 528 اراکینِ پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔ بل کی منظوری کے لیے 326 ووٹ درکار تھے، لیکن حق میں صرف 298 ووٹ ہی پڑ سکے، جس کے باعث یہ بل منظور

 

نہ ہو سکا۔بی جے پی مسلسل پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپوزیشن پر تنقید کر رہی ہے۔ بی جے پی رہنما اسمرتی ایرانی نے کہا کہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں نے اس بات کا جشن منایا کہ ملک کی وہ خواتین جو برسوں سے

 

سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں اور صرف 33 فیصد حقوق مانگ رہی تھیں، انہیں ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے یہ اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ برابری کے حق کا سوال تھا۔ آج کانگریس کی پریس کانفرنس

 

میں یہ طنز کیا گیا کہ بی جے پی میں کچھ لوگ خود کو مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پرینکا گاندھی نے بھی اپوزیشن کی طرف سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل جو کچھ ہوا وہ جمہوریت کی بڑی فتح ہے۔ ان کے

 

مطابق حکومت کی جانب سے وفاقی ڈھانچے کو بدلنے اور جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کو روکا گیا۔ یہ آئین کی جیت، ملک کی جیت اور اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے، جو حکمران جماعت کے رہنماؤں کے چہروں سے بھی ظاہر ہو

 

رہی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک منصوبہ بندی ہو سکتی ہے کہ کسی طرح اقتدار میں برقرار رہا جائے، اور اس کے لیے خواتین کے مسئلے کو استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ پرینکا گاندھی کے مطابق اگر

 

بل پاس ہو جاتا تو حکومت اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرتی، اور اگر نہ ہوتا تو دوسری جماعتوں کو خواتین مخالف قرار دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button