مضامین

بنگلورو میں قیامت خیز بارش — دس جانیں، ہزار سوال۔ایک گھنٹے نے ترقی، منصوبہ بندی اور حکمرانی کی حقیقت بے نقاب کر دی

از : عبدالحلیم منصور

شہرِ بنگلورو پر 29 اپریل 2026 کی شام برسنے والی بارش محض موسمی تبدیلی نہ تھی، بلکہ ایک ایسے شہری نظام کا امتحان تھی جو بارہا ناکام ثابت ہو چکا ہے۔ اپریل کی شدید گرمی سے نڈھال شہریوں نے جب بادل دیکھے تو اسے راحت سمجھا، مگر چند ہی لمحوں میں یہی بارش ایک ایسے سانحے میں تبدیل ہو گئی

 

جس نے شہر کی ترقیاتی کہانی کو چیلنج کر دیا۔ صرف ایک گھنٹے کے اندر دس قیمتی جانوں کا ضیاع اس حقیقت کا واضح اعلان ہے کہ یہ سانحہ اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک مسلسل غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بارش کتنی ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ شہر اس بارش کے لیے تیار کیوں نہیں تھا؟ یہ وہ لمحہ تھا جب “آئی ٹی دارالحکومت” کا دعویٰ زمینی حقیقت کے سامنے بے معنی دکھائی دیا۔

 

محکمۂ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق سنٹرل بنگلورو میں چند گھنٹوں کے اندر 111.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس میں سے تقریباً 78 ملی میٹر صرف تیس منٹ میں برسی۔ یہ شدت اپنی جگہ غیر معمولی ضرور ہے، مگر دنیا کے دیگر بڑے شہر اس سے زیادہ بارش کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں اصل مسئلہ بارش کی شدت نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں شہر کی تیاری کا فقدان ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے ہر بار نظرانداز کیا جاتا ہے اور ہر سانحہ اسی نظراندازی کا نتیجہ بن کر سامنے آتا ہے۔

 

اس بار کا سب سے دلخراش واقعہ شیواجی نگر کے معروف بورنگ اینڈ لیڈی کرزن اسپتال کے باہر پیش آیا، جہاں ایک خستہ حال کمپاؤنڈ دیوار گرنے سے سات افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ حادثہ کسی اچانک پیش آنے والی آفت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک پیشگی خطرے کی نظراندازی کا انجام تھا۔ مقامی سطح پر دیوار کی کمزوری کے بارے میں پہلے سے شکایات موجود تھیں۔ اگر ایسا تھا تو سوال یہ ہے کہ ذمہ داران نے کارروائی کیوں نہیں کی؟ کیا انسانی جان کی قیمت اتنی کم ہو چکی ہے کہ خطرہ واضح ہونے کے باوجود اقدام ضروری نہیں سمجھا جاتا؟

 

دیگر اموات بھی اسی نوعیت کی غفلت کی داستان سناتی ہیں۔ یارب نگر میں ایک طالب علم کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونا، بنر گھٹہ روڈ کے قریب ایک مزدور کی موت، اور چامراج پیٹ میں ایک شخص کا ملبے تلے دب جانا—یہ سب واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شہری تحفظ کے بنیادی اصولوں پر عمل نہیں ہو رہا۔ بجلی کے کھمبوں کی دیکھ بھال، عمارتوں کی مضبوطی، اور نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام

 

یہ سب وہ بنیادی ذمہ داریاں ہیں جو ایک شہری انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہئیں، مگر یہاں یہ سب ثانوی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ یہ سب اس بات کے شواہد ہیں کہ شہر کا بنیادی انفراسٹرکچر اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہے اور یہ ایک مربوط ادارہ جاتی ناکامی ہے، جہاں ہر محکمہ اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتا ہے۔

 

یہ پہلا موقع نہیں کہ بنگلورو بارش کے سامنے بے بس نظر آیا ہو۔ گزشتہ برسوں میں بھی متعدد مواقع پر معمولی سے شدید بارش نے شہر کو مفلوج کیا، آئی ٹی کوریڈورز زیرِ آب آئے، رہائشی کالونیاں ڈوب گئیں، اور شہری گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہے۔ 2022 اور 2023 میں ہونے والی بارشوں نے بھی یہی منظرنامہ دہرایا تھا، جب عالمی کمپنیوں کے دفاتر تک پانی میں گھر گئے تھے اور شہری انفراسٹرکچر کی حقیقت عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنی تھی۔ ہر بار ایک ہی طرز کا ردعمل سامنے آیا—تحقیقات، وعدے، اور پھر خاموشی۔ کیا اس بار بھی یہی ہوگا؟ کیا یہ سانحہ بھی چند دنوں کی سرخیوں کے بعد فراموش کر دیا جائے گا؟

 

سیاسی سطح پر اس سانحے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے انتخابات قریب ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے فوری ردعمل دیتے ہوئے افسران کو طلب کیا اور سخت سوالات اٹھائے، مگر یہ ردعمل اس بنیادی حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا کہ بلدیاتی سطح پر جمہوری ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے۔ مقامی نمائندوں کی عدم موجودگی نے جوابدہی کے عمل کو متاثر کیا ہے۔ جب شہری مسائل براہِ راست کسی منتخب نمائندے تک نہ پہنچیں تو ان کا حل بھی تاخیر کا شکار ہوتا ہے، اور بیوروکریسی کی کارکردگی پر عوامی نگرانی کمزور پڑ جاتی ہے۔

 

مزید برآں، شہری پھیلاؤ اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے قدرتی آبی گزرگاہوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جھیلوں کے درمیان جو قدرتی ربط تھا، وہ ٹوٹ چکا ہے، اور راجکالوے پر تجاوزات نے پانی کے بہاؤ کو محدود کر دیا ہے۔ ماہرین بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ جب تک ان قدرتی نظاموں کو بحال نہیں کیا جائے گا، تب تک بارش کا پانی شہری علاقوں میں داخل ہوتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سالانہ بنیادوں پر نالوں کی صفائی اور ڈرینج سسٹم کی اپ گریڈیشن کو ترجیح نہیں دی جاتی، جس کا نتیجہ ہر بارش میں سامنے آتا ہے۔

 

یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ایسے سانحات کا سب سے زیادہ شکار کمزور طبقات ہوتے ہیں۔ جو لوگ اس بار مارے گئے، وہ وہی تھے جو روزی کمانے کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، جو بارش میں بھی کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور جن کے پاس محفوظ پناہ گاہ کا کوئی متبادل نہیں ہوتا۔ کیا شہری ترقی کا یہی ماڈل ہے کہ ایک طبقہ محفوظ عمارتوں میں بیٹھ کر ترقی کے ثمرات سمیٹے اور دوسرا طبقہ اسی ترقی کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کرے؟ یہ سوال صرف انتظامیہ سے نہیں بلکہ پورے سماجی و معاشی نظام سے ہے۔

 

اب سوالات واضح ہیں اور ان سے فرار ممکن نہیں۔ کیا خستہ حال عمارتوں اور دیواروں کا باقاعدہ سروے کیا گیا ہے؟ اگر کیا گیا تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ نکاسیٔ آب کے نظام کی صفائی بارش سے پہلے کیوں مکمل نہیں کی گئی؟ بجلی کے نظام کو محفوظ بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ اور سب سے اہم—کیا اس بار واقعی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا؟ کیا احتساب محض کاغذی کارروائی تک محدود رہے گا یا عملی مثال قائم کی جائے گی؟

 

یہ وقت رسمی بیانات کا نہیں بلکہ واضح اور سخت فیصلوں کا ہے۔ ضروری ہے کہ شہر کی تمام پرانی اور خطرناک عمارتوں کا فوری آڈٹ کیا جائے، نکاسیٔ آب کے نظام کو سائنسی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے، قدرتی آبی راستوں سے تجاوزات ختم کی جائیں، اور لاپرواہی برتنے والے افسران کے خلاف محض تبادلے نہیں بلکہ قانونی کارروائی کی جائے۔ شہری منصوبہ بندی کو وقتی مفادات سے نکال کر طویل مدتی پالیسی کے تحت استوار کرنا ہوگا۔ جب تک احتساب کا عمل حقیقی نہیں ہوگا، بہتری محض ایک نعرہ ہی رہے گی۔

 

یہ سانحہ ایک آئینہ ہے جس میں بنگلورو اپنا اصل چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس آئینے کو توڑ دیا جائے گا یا اس میں نظر آنے والی حقیقت کو قبول کر کے اصلاح کی جائے گی؟ یہ سانحہ دراصل ایک انتباہ ہے—ایک واضح پیغام کہ اگر اب بھی اصلاح نہ کی گئی تو ہر بارش ایک نئے المیے کو جنم دے گی۔ بنگلورو کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لے اور ایک ایسا شہری نظام تشکیل دے جو صرف ترقی کے دعوے نہ کرے بلکہ اپنے شہریوں کی جان و مال کا حقیقی محافظ بھی ہو۔

haleemmansoor@gmail.com

متعلقہ خبریں

Back to top button