مضامین

سوشل میڈیا مفید یا مضر۔سوشل میڈیا کے فائدے نقصانات اور ماں باپ کا کردار اور ڈوپامین کی حقیقت 

مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی

جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ 

Mufti

موجودہ عہد کو اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا عہدِ زریں قرار دیا جائے تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا، اور اس عہد کی سب سے درخشاں اور ہمہ گیر ایجاد سوشل میڈیا ہے، جس نے انسانی زندگی کے ہر گوشے میں ایک ہمہ گیر انقلاب برپا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک ایسے عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں فاصلے اپنی معنویت کھو بیٹھے ہیں اور سرحدیں محض نقشوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اب انسان محض چند لمحات میں نہ صرف اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود افراد سے فوری رابطہ بھی قائم کر سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا وسیلہ بن چکا ہے جس نے ابلاغِ عامہ کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور انسانی روابط کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ مزید برآں، اس نے نہ صرف معلومات کے تبادلے کو برق رفتاری عطا کی ہے بلکہ انسانی شعور، فہم اور ادراک کے دائرہ کار کو بھی غیر معمولی وسعت بخشی ہے، جس کے اثرات زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

 

سوشل میڈیا کے فوائد کا جائزہ لیا جائے تو اس کا اولین اور نمایاں پہلو ابلاغ اور ترسیلِ معلومات کی بے مثال سہولت ہے، جس نے انسانی روابط کو ایک نئی توانائی عطا کی ہے۔ آج انسان دنیا کے کسی بھی گوشے میں موجود اپنے عزیز و اقارب سے نہایت سہولت اور سرعت کے ساتھ رابطہ قائم کر سکتا ہے، ان کے حالات سے باخبر رہ سکتا ہے اور اپنے جذبات و احساسات کو فوری طور پر ان تک منتقل کر سکتا ہے۔ یہ سہولت نہ صرف جسمانی فاصلے کم کرتی ہے بلکہ جذباتی قربت کو بھی فروغ دیتی ہے۔ مزید برآں، تعلیمی میدان میں سوشل میڈیا نے ایک خاموش مگر ہمہ گیر انقلاب برپا کیا ہے، جہاں طلبہ محض کتابوں کے محدود دائرے تک مقید نہیں رہے بلکہ عالمی سطح کے علمی وسائل تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ آن لائن لیکچرز، ڈیجیٹل لائبریریز، اور تعلیمی پلیٹ فارمز نے علم کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھول دیے ہیں، جس سے سیکھنے کا عمل نہایت سہل، مؤثر اور ہمہ گیر ہو گیا ہے۔

 

کاروباری نقطۂ نظر سے بھی سوشل میڈیا نے ایک انقلابی کردار ادا کیا ہے، جس نے تجارت کے روایتی اصولوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب ایک معمولی تاجر بھی عالمی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اپنی مصنوعات کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا نے مارکیٹنگ کو نہایت سستا، آسان اور مؤثر بنا دیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری حضرات اپنے ہدفی صارفین تک براہِ راست پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کاروباری ترقی ممکن ہوئی ہے بلکہ روزگار کے بے شمار نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ مزید برآں، سوشل میڈیا اطلاعات کی ترسیل کا ایک نہایت تیز رفتار ذریعہ بھی ہے، جہاں دنیا کے کسی بھی حصے میں پیش آنے والا واقعہ لمحوں میں عالمی سطح پر زیرِ بحث آ جاتا ہے۔ یہ خصوصیت خاص طور پر ہنگامی حالات میں نہایت اہمیت کی حامل ہے، جہاں بروقت معلومات انسانی جانوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

 

سوشل میڈیا انسانی صلاحیتوں کے اظہار کا بھی ایک نہایت مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے، جہاں ہر فرد کو اپنی تخلیقی، فکری اور فنی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم نہ صرف افراد کو اپنی شناخت بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں ترقی کی نئی راہیں بھی دکھاتا ہے۔ بہت سے افراد نے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کی، جو اس کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر اس کا استعمال اعتدال، شعور اور دانشمندی کے ساتھ کیا جائے تو یہ نہ صرف ایک مفید ذریعہ ہے بلکہ ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کو علم، ترقی اور کامیابی کی راہوں پر گامزن کر سکتی ہے اور اس کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

 

اگرچہ سوشل میڈیا بظاہر سہولتوں کا ایک دلکش مرقع معلوم ہوتا ہے، تاہم اس کے باطن میں ایسے متعدد مضمرات اور منفی اثرات پوشیدہ ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نہایت تشویشناک صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ سب سے نمایاں نقصان وقت کا بے دریغ ضیاع ہے، جہاں انسان شعوری یا لاشعوری طور پر گھنٹوں اسکرین کے سحر میں گرفتار رہتا ہے اور اپنی قیمتی زندگی کو بے مقصد مشاغل کی نذر کر دیتا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیمی اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ انسان کی عملی صلاحیتوں کو بھی مضمحل کر دیتا ہے۔ مزید برآں، سوشل میڈیا ذہنی صحت پر بھی نہایت گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، کیونکہ یہاں دکھائی جانے والی زندگی اکثر حقیقت کے برعکس ایک مصنوعی اور مرصع عکس ہوتی ہے، جسے دیکھ کر افراد احساسِ کمتری، اضطراب اور افسردگی جیسے عوارض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

 

اسی طرح لائکس، کمنٹس اور فالوورز کی دوڑ ایک نفسیاتی دباؤ کو جنم دیتی ہے، جو انسان کی خود اعتمادی کو متزلزل کر دیتی ہے اور اسے ایک غیر حقیقی معیار کے حصول کی لاحاصل کوشش میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جھوٹی خبروں، افواہوں اور گمراہ کن معلومات کا سیلاب بھی سوشل میڈیا کا ایک نہایت خطرناک پہلو ہے، جہاں بغیر تحقیق کے مواد کو پھیلایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرتی بے چینی، بداعتمادی اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ مزید برآں، سائبر بُلنگ، کردار کشی اور پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزیاں بھی اسی پلیٹ فارم کے ذریعے فروغ پا رہی ہیں، جو افراد کی عزتِ نفس اور ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ خاندانی اور سماجی تعلقات بھی اس کے مضر اثرات سے محفوظ نہیں رہے، کیونکہ افراد حقیقی میل جول کے بجائے مجازی دنیا میں محو رہنے لگے ہیں، جس سے رشتوں کی حرارت اور خلوص میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے ممتاز معمار جیسے Mark Zuckerberg، Kevin Systrom اور Steve Jobs نے بھی اس کے استعمال میں اعتدال اور احتیاط کو ترجیح دی، جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ اس کا غیر متوازن استعمال فرد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

 

بچوں کو موبائل دینے کی مناسب عمر اور اصول

عصرِ حاضر میں بچوں کو موبائل فون کی فراہمی ایک نہایت حساس اور پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر مرتب ہوتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت اور کردار کی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اور ماہرینِ تعلیم کے مطابق بچوں کو موبائل فون دینے کی مناسب عمر تقریباً بارہ سے چودہ سال کے درمیان ہونی چاہیے، کیونکہ اس عمر میں بچے کسی حد تک شعوری پختگی حاصل کر لیتے ہیں اور درست و غلط میں امتیاز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس کم عمری میں موبائل کا استعمال بچوں کو ایک ایسی مصنوعی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں وہ حقیقت سے دور ہو کر محض اسکرین کے اسیر بن جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی جسمانی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں اور ذہنی ارتکاز متاثر ہوتا ہے۔

 

مزید برآں، کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا ایک ایسا دروازہ ثابت ہو سکتا ہے جس کے ذریعے وہ غیر مناسب اور مضر مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جو ان کی اخلاقی تربیت اور ذہنی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کے موبائل استعمال کی نگرانی کریں بلکہ ان کے لیے واضح حدود و قیود بھی متعین کریں، تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کو محدود رکھنا، انہیں تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا، اور حقیقی زندگی کے تجربات جیسے کھیل، مطالعہ اور سماجی میل جول کی حوصلہ افزائی کرنا نہایت ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو یہ شعور دیں کہ موبائل فون محض ایک ذریعہ ہے، مقصد نہیں، اور اس کا استعمال صرف ضرورت اور اعتدال کے دائرے میں رہ کر ہی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر بروقت اور دانشمندانہ رہنمائی فراہم کی جائے تو یہی ٹیکنالوجی بچوں کی ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے، بصورت دیگر یہ ان کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی بن سکتی ہے۔

 

*بچوں کو سوشل میڈیا سے بچانے کے لیے والدین کو خود بھی اس کے بے جا استعمال سے اجتناب کرنا ہوگا*

موجودہ عہد میں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایسا جزوِ لاینفک بن چکا ہے کہ اس سے مکمل کنارہ کشی تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے، مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس کے بے جا اور غیر محتاط استعمال نے معاشرتی توازن کو شدید متاثر کیا ہے، خصوصاً بچوں کی تربیت اور نشوونما کے حوالے سے اس کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہیں۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ اس کا سب سے بنیادی اور مؤثر جواب یہی ہے کہ والدین خود اپنے طرزِ عمل میں اعتدال پیدا کریں، کیونکہ بچے الفاظ سے زیادہ اعمال سے سیکھتے ہیں اور والدین ہی ان کے لیے اولین نمونۂ عمل ہوتے ہیں۔

 

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اگر والدین خود ہر وقت موبائل فون اور سوشل میڈیا میں مصروف رہیں گے تو بچے بھی لاشعوری طور پر اسی طرزِ زندگی کو اختیار کریں گے۔ جب ایک بچہ اپنے والد یا والدہ کو ہر وقت اسکرین کے سامنے دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ یہی زندگی کا معمول اور ترجیح ہے۔ یوں وہ بھی کم عمری میں ہی اسکرین کی دنیا کا عادی بن جاتا ہے، جو اس کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین سب سے پہلے خود اپنے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں اور بچوں کے سامنے ایک متوازن اور صحت مند طرزِ زندگی کی مثال پیش کریں۔

 

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں ایسے ماحول کو فروغ دیں جہاں حقیقی گفتگو، باہمی تعلق اور خاندانی میل جول کو ترجیح دی جائے۔ کھانے کے اوقات میں موبائل فون کا استعمال ترک کر دینا، گھر میں مخصوص اوقات کو “نو موبائل زون” قرار دینا، اور بچوں کے ساتھ وقت گزارنا نہایت مؤثر اقدامات ہو سکتے ہیں۔ جب بچے دیکھیں گے کہ ان کے والدین ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں، ان کی بات سن رہے ہیں اور ان کے ساتھ کھیل رہے ہیں تو وہ بھی اسکرین سے زیادہ حقیقی زندگی کی طرف مائل ہوں گے۔

 

مزید برآں، والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں اور انہیں مثبت مشاغل کی طرف راغب کریں، جیسے کتابوں کا مطالعہ، کھیل کود، تخلیقی سرگرمیاں اور سماجی میل جول۔ یہ تمام سرگرمیاں بچوں کی شخصیت کو متوازن بناتی ہیں اور انہیں ایک صحت مند ذہن فراہم کرتی ہیں۔ اگر والدین خود بھی ان سرگرمیوں میں حصہ لیں تو بچوں پر اس کے مثبت اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر والدین خود سوشل میڈیا میں گم رہیں تو بچے بھی تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں اور اپنی توجہ اسکرین کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔

 

والدین کی ذمہ داری صرف نگرانی تک محدود نہیں بلکہ رہنمائی بھی ان کا اہم فریضہ ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ بچوں کو سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں آگاہ کریں اور انہیں یہ سکھائیں کہ اس کا استعمال کس طرح مفید بنایا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کے لیے واضح اصول مقرر کیے جائیں، جیسے اسکرین ٹائم کی حد، مخصوص اوقات میں موبائل کا استعمال، اور غیر مناسب مواد سے بچاؤ کے طریقے۔ لیکن یہ اصول اسی وقت مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب والدین خود بھی ان پر عمل کریں، کیونکہ تضاد بچوں کے ذہن میں منفی اثرات پیدا کرتا ہے۔

 

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے خالقین نے بھی اپنے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کو محدود رکھا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس کا بے جا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں توازن پیدا کریں تاکہ وہ اپنے بچوں کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل فراہم کر سکیں۔

 

اگر والدین خود شعوری طور پر سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں، اپنے وقت کو منظم کریں اور بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں تو وہ نہ صرف بچوں کو اس کے مضر اثرات سے بچا سکتے ہیں بلکہ انہیں ایک صحت مند، متوازن اور کامیاب زندگی کی طرف بھی گامزن کر سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط خاندان اور ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے، اور یہی وہ حکمتِ عملی ہے جس کے ذریعے ہم آنے والی نسلوں کو اس ڈیجیٹل طوفان کے منفی اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

 

*ڈوپامین (Dopamine) اور ذہنی لگاؤ*

 

ڈوپامین ایک نہایت اہم کیمیائی مادہ ہے جو انسانی دماغ میں پایا جاتا ہے اور جسے سادہ الفاظ میں “خوشی اور انعام کا ہارمون” بھی کہا جاتا ہے۔ جب انسان کوئی خوشگوار یا دلچسپ کام کرتا ہے، جیسے کہ کھیلنا، سیکھنا، تعریف حاصل کرنا یا کوئی کامیابی حاصل کرنا، تو دماغ میں ڈوپامین خارج ہوتا ہے جو انسان کو خوشی، اطمینان اور تحریک (motivation) کا احساس دلاتا ہے۔ یہی ڈوپامین انسان کو دوبارہ وہی کام کرنے پر آمادہ کرتا ہے، کیونکہ دماغ اسے ایک مثبت تجربہ سمجھتا ہے۔ اس طرح ڈوپامین نہ صرف خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے بلکہ انسان کی عادات، رویوں اور فیصلوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

 

ذہنی لگاؤ (Mental Attachment) سے مراد کسی چیز، عادت یا سرگرمی کے ساتھ انسان کا ایسا جذباتی اور نفسیاتی تعلق ہے جس میں وہ اس کے بغیر خود کو ادھورا یا بے چین محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ لگاؤ مثبت بھی ہو سکتا ہے، جیسے علم حاصل کرنے یا اچھے کاموں کی طرف رغبت، اور منفی بھی ہو سکتا ہے، جیسے کسی نقصان دہ عادت یا چیز پر انحصار۔ جب کوئی سرگرمی بار بار ڈوپامین پیدا کرتی ہے تو انسان کا ذہن اس کے ساتھ گہرا تعلق قائم کر لیتا ہے، اور یہی تعلق آگے چل کر عادت یا بعض اوقات نشے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

 

موجودہ دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا ایسی چیزیں بن چکی ہیں جو بچوں کے دماغ میں مسلسل ڈوپامین خارج کرتی رہتی ہیں۔ جب بچہ ویڈیوز دیکھتا ہے، گیم کھیلتا ہے یا سوشل میڈیا پر اسکرول کرتا ہے تو ہر نئی چیز، ہر نیا ویڈیو یا ہر نئی تصویر اس کے دماغ میں ایک چھوٹا سا “انعامی سگنل” پیدا کرتی ہے، جس سے ڈوپامین خارج ہوتا ہے۔ یہ عمل بار بار ہونے کی وجہ سے بچے کا دماغ اس کا عادی ہو جاتا ہے، اور وہ بار بار موبائل استعمال کرنے کی خواہش محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچے موبائل سے جلدی دور نہیں ہو پاتے اور بار بار اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

 

مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب یہ ڈوپامین کا اخراج غیر فطری حد تک بڑھ جاتا ہے۔ حقیقی زندگی کی سرگرمیاں، جیسے کھیل کود، مطالعہ یا خاندانی میل جول، آہستہ آہستہ کم دلچسپ محسوس ہونے لگتی ہیں کیونکہ ان میں فوری اور زیادہ ڈوپامین نہیں ملتا۔ اس کے برعکس موبائل اور سوشل میڈیا فوری اور مسلسل خوشی کا احساس فراہم کرتے ہیں، جس سے بچے کا ذہن انہی چیزوں کی طرف زیادہ مائل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً بچے کی توجہ، صبر اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے۔

 

اس کے علاوہ زیادہ موبائل استعمال بچوں کی ذہنی نشوونما (development) پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ کم عمری میں جب دماغ تیزی سے ترقی کر رہا ہوتا ہے، اس وقت ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ بچے حقیقی دنیا کے تجربات حاصل کریں، جیسے کھیلنا، دوسروں سے بات چیت کرنا، چیزوں کو چھونا اور سمجھنا۔ لیکن جب بچہ زیادہ وقت اسکرین پر گزارتا ہے تو یہ قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے، جس سے اس کی زبان سیکھنے کی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور سماجی مہارتیں کمزور ہو سکتی ہیں۔

 

مزید برآں، مسلسل ڈوپامین کے اخراج سے بچے میں ایک قسم کا انحصار (dependence) پیدا ہو جاتا ہے، جسے عام زبان میں عادت یا لت کہا جا سکتا ہے۔ اگر موبائل نہ ملے تو بچہ چڑچڑا ہو جاتا ہے، غصہ کرتا ہے یا بے چینی محسوس کرتا ہے۔ یہ علامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بچے کا ذہن اس “ڈیجیٹل خوشی” کا عادی ہو چکا ہے۔

 

اس صورتحال میں والدین کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ بچوں کے موبائل استعمال کو محدود کریں، اسکرین ٹائم کو کنٹرول کریں اور بچوں کو حقیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ کھیل کود، کتابوں کا مطالعہ، تخلیقی کام اور خاندانی وقت بچوں کے دماغ کے لیے زیادہ صحت مند اور مفید ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو خود بھی موبائل کے استعمال میں اعتدال اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ بچے زیادہ تر اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں۔

 

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈوپامین ایک قدرتی اور ضروری نظام ہے جو انسان کو خوشی اور تحریک فراہم کرتا ہے، لیکن جب یہ غیر متوازن ہو جائے، خاص طور پر موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے، تو یہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس جدید ٹیکنالوجی کو سمجھداری کے ساتھ استعمال کریں اور بچوں کو ایک متوازن اور صحت مند ماحول فراہم کریں تاکہ وہ ایک مضبوط، بااعتماد اور ذہنی طور پر صحت مند شخصیت کے حامل بن سکیں۔

*خلاصہ کلام*

 

اگر مجموعی طور پر سوشل میڈیا کے جملہ پہلوؤں کا عمیق اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ تو سراسر فائدہ ہے اور نہ ہی مکمل نقصان، بلکہ یہ ایک ایسا دو رُخی وسیلہ ہے جس کی افادیت یا مضرت کا انحصار مکمل طور پر انسان کے طرزِ استعمال پر ہے۔ اگر اسے شعور، اعتدال اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ علم، ترقی اور کامیابی کی راہوں کو ہموار کرتا ہے، لیکن اگر اس کا استعمال بے لگام اور غیر محتاط انداز میں کیا جائے تو یہی ذریعہ انسان کو زوال، بے چینی اور مسائل کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔

 

لہٰذا وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس جدید ٹیکنالوجی کو محض تفریح یا وقتی مشغلے کے طور پر نہ لیں بلکہ اسے ایک سنجیدہ اور با مقصد ذریعہ سمجھ کر استعمال کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کے فوائد سے بھرپور استفادہ کریں، اس کے نقصانات سے آگاہ رہیں اور اپنی زندگی میں ایک متوازن طرزِ عمل اختیار کریں۔ اسی میں ہماری انفرادی اور اجتماعی فلاح مضمر ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی جانب لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button