حیدرآباد میں ذات پر مبنی سروے رپورٹ پر گول میز کانفرنس، سماجی انصاف پر زور
حیدرآباد میں ذات پر مبنی سروے رپورٹ پر گول میز کانفرنس، سماجی انصاف پر زور

حیدرآباد(پریس نوٹ)سماج وادی پارٹی، تلنگانہ کے زیر اہتمام ذات پر مبنی سروے رپورٹ کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کے لیے ایک گول میز کانفرنس پریس کلب،سوماجی گوڑہ میں منعقدہوئی۔ اس موقع پر معاشرے کے مختلف طبقات کے نمائندوں، دانشوروں، سماجی کارکنوں اور میڈیا سے وابستہ افراد نے شرکت کی اور سماجی انصاف و مساوات کے موضوع پر سنجیدہ تبادلہ خیال کیا۔
کانچا ایلیا نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی سروے معاشرے میں موجود عدم مساوات کو سمجھنے اور اسے دور کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک مختلف طبقات کی حقیقی صورتِ حال کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہوں گے، اس وقت تک مؤثر پالیسی سازی اور سماجی انصاف کا قیام ممکن نہیں۔اس موقع پر سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر پروفیسر ایس. سمہادری یادو، نائب صدر ڈاکٹر این. وینکٹیشورلو، جنرل سکریٹری اوکلا بابو گوڑ اور کنوینر محمد رضوان حسین سمیت دیگر اہم عہدیداران بھی موجود تھے۔
مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذات سروے رپورٹ کو شفاف، سائنسی اور مؤثر انداز میں نافذ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ پسماندہ اور محروم طبقات کی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔کانفرنس کا بنیادی مقصد اس رپورٹ کے مختلف پہلوؤں پر جامع گفتگو کرنا تھا تاکہ ماہرین اور مختلف طبقات سے حاصل ہونے والی تجاویز کی روشنی میں مؤثر پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی انصاف، مساوی مواقع اور جامع ترقی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔اجلاس میں متفقہ طور پر چند اہم قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن میں تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ذات سروے کو مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کی تفصیلی رپورٹ جلد جاری کی جائے۔
اس کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور دیگر پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی کے مطابق ریزرویشن کو مؤثر بنایا جائے اور ان طبقات کی سماجی، تعلیمی اور معاشی ترقی کے لیے خصوصی اسکیمیں مرتب کی جائیں
۔مرکزی حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ ملک گیر سطح پر ذات کی مردم شماری کرائی جائے تاکہ تمام طبقات کی حقیقی صورت حال سامنے آسکے اور پالیسیاں زیادہ منصفانہ بنائی جا سکیں۔ ساتھ ہی حکومت سے یہ بھی اپیل کی گئی کہ سروے رپورٹ کی بنیاد پر بروقت اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر طبقے کے حقوق کا تحفظ اور مساوی مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔پروگرام کی نظامت راجکمار یادو نے انجام دی۔



