پیدائش کے فوراً بعد ’’موت‘‘ کا جھوٹ، ہاسپٹل کے نرسوں نے نومولود بچی ڈیڑھ لاکھ میں بیچ ڈالی، 24 دن بعد پولیس نے زندہ برآمد کرلیا – تلنگانہ کے میدک میں افسوسناک واقعہ
میدک میں دل دہلا دینے والا واقعہ، نومولود بچی فروخت کرنے کے الزام میں نرسیں گرفتار

تلنگانہ کے میدک میں ایک خانگی ہاسپٹل کی دو نرسوں کو نومولود بچی کو فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ نرسوں نے والدین کو یہ جھوٹ بول کر گمراہ کیا تھا کہ پیدائش کے فوراً بعد بچی کی موت ہوگئی ہے۔ بچی کو خریدنے والے افراد کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا، جبکہ معصوم بچی کو بحفاظت والدین کے حوالے کردیا گیا۔
یہ چونکا دینے والا واقعہ 12 اپریل کو پیش آیا تھا، تاہم اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب متاثرہ والدین نے میدک پولیس سے رجوع کیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق میدک ضلع کے پاپن پیٹ منڈل کے لکشمی نگر تانڈا سے تعلق رکھنے والی خاتون ناصرہ فاطمہ سکندرآباد کے مولا علی علاقے میں رہائش پذیر ہے اور وہ سات ماہ کی حاملہ ہے
اطلاعات کے مطابق خاتون گزشتہ ماه اپنے سسرال لکشمی نگر آئی تھی اس کے ہاتھ میں چپس کا پیکٹ دیکھ کر بندروں نے اچانک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ زمین پر گر پڑیں اور شدید خون بہنے لگا۔موقع پر موجود ان کی سہیلی نے فوری طور پر انہیں میدک کے خانگی ہاسپٹل منتقل کیا،.
، جہاں ناصرہ فاطمہ کا نے ہاسپٹل میں بچی کو جنم دیا تھا۔ نرسوں نے بچی کو لیبارٹری لے جانے کے بعد والدین کو بتایا کہ بچی کی موت ہوگئی ہے اور اس کی نعش کو ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔ نرسوں کی بات پر یقین کرتے ہوئے خاتون ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوکر گھر چلی گئی۔
تاہم بعد میں کچھ ذرائع سے اطلاع ملی کہ دراصل نرسوں نے نومولود بچی کو سدی پیٹ کے رہائشی محمد اقبال اور اختری بیگم کے ہاتھوں ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کردیا ہے۔ اس اطلاع کے بعد والدین نے فوری طور پر پولیس سے شکایت کی، جس پر پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔
پولیس ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے بچی کا سراغ لگایا اور پیدائش کے 24 دن بعد اسے بازیاب کراکر والدین کے حوالے کردیا۔
اپنی بچی کو واپس پاکر والدین بے حد خوشی اور جذبات سے مغلوب نظر آئے۔ پولیس اور آئی سی ڈی ایس عملہ نے بھی اس کارروائی میں اہم کردار ادا کیا۔




