جنرل نیوز

قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ خود کو اللہ کے سپرد کرنے کا پیغام ۔ مفتی شعیب فیصل حُسینی الاشرفی

عادل آباد۔ 23/مئی(اردو لیکس)

 

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، اما بعد!

 

جب ذوالحجہ کی مبارک گھڑیاں قریب آتی ہیں تو مسلمانوں کے گھروں میں قربانی کی تیاری شروع ہوجاتی ہے بازار آباد ہوجاتے ہیں، جانوروں کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور ہر طرف قربانی کا ذکر ہوتا ہے مگر ایک سوال ہم سب کے سامنے کھڑا ہے کیا قربانی صرف ایک جانور ذبح کرنے کا نام ہے یا اس کے اندر کوئی ایسا پیغام پوشیدہ ہے جو ہماری پوری زندگی بدل سکتا ہے

حقیقت یہ ہے کہ قربانی ایک جانور کے خون کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات اپنے غرور اپنی انا اور اپنی نافرمانیوں کو اللہ کے حکم کے سامنے قربان کرنے کا نام ہے

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کا حکم ملا تو یہ صرف ایک باپ کا امتحان نہیں تھا بلکہ پوری انسانیت کے ایمان کی جانچ تھی بڑھاپے میں ملنے والا بیٹا محبتوں کا مرکز آنکھوں کی ٹھنڈک مگر اللہ کا حکم آیا تو عرض کیا

يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ

 

اور دوسری طرف فرزندِ وفا حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا

 

يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ

 

یہاں قربانی کی اصل روح سامنے آتی ہے جہاں محبت بھی اللہ کے حکم کے آگے سر جھکا دے

آج ہم جانور تو ذبح کرتے ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنی ضد کو قربان کیا اپنی آنکھوں کے گناہوں کو قربان کیا اپنی زبان کے جھوٹ کو قربان کیا اپنے دل کی حسد اور تکبر کو قربان کیا

قربانی کا دن سال میں ایک مرتبہ آتا ہے مگر قربانی کا سبق روزانہ مانگا جاتا ہے

کچھ لوگ بہترین جانور خریدتے ہیں مگر رشتہ داروں کے حقوق ذبح کردیتے ہیں کچھ لوگ بڑے جانور میں حصہ لیتے ہیں مگر اپنے اندر موجود تکبر کا حصہ باقی رکھتے ہیں کچھ لوگ قربانی کا گوشت تقسیم کرتے ہیں مگر اپنے اخلاق میں بخل نہیں چھوڑتے

اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے

 

لَن يَنَالَ اللّٰهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ

 

ترجمہ اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے،

یہ آیت ہمیں جھنجُھوڑتی ہے کہ اللہ کو جانور نہیں چاہیے اللہ کو دل چاہیے اللہ کو خون نہیں چاہیے اللہ کو اخلاص چاہیے

آج امت کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے عبادات کو رسم بنادیا ہے نماز رسم روزہ رسم اور کہیں قربانی بھی رسم نہ بن جائے اگر قربانی کے بعد بھی ہمارے اخلاق نہ بدلیں گناہوں سے نفرت پیدا نہ ہو، اور اللہ کی اطاعت کا جذبہ نہ بڑھے تو ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے صرف جانور ذبح کیا یا اپنے نفس کو بھی

قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اللہ کے راستے میں سب کچھ دیا جاسکتا ہے مال بھی، وقت بھی، خواہشات بھی اور ضرورت پڑے تو اپنی پسند بھی

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کو صرف عید کا عمل نہ سمجھیں بلکہ زندگی کا نظام بنائیں کیونکہ جس انسان نے اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم پر قربان کرنا سیکھ لیا، وہی حقیقت میں ابراہیمی راستے کا مسافر ہے

اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی ظاہری اور باطنی دونوں حقیقتوں کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،

 

متعلقہ خبریں

Back to top button