جنرل نیوز

حضرت ہاجرہؓ کی سیرت خواتین کے لیے عظیم عملی نمونہ : مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب 

حضرت ہاجرہؓ کی سیرت خواتین کے لیے عظیم عملی نمونہ: دین پر عمل میں شوہروں کا ساتھ دینے کی تلقین: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

 

حیدرآباد، 22 مئی (پریس ریلیز):مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد میں ماہِ ذوالحجہ کے پہلے جمعۃ المبارک کے موقع پر منعقدہ ایک عظیم الشان اور روح پرور اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خطیب و امام مسجد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے سال کے بعض مہینوں اور ایام کو خصوصی عظمت، حرمت اور برکت سے نوازا ہے تاکہ بندگانِ خدا ان مبارک اوقات سے بھرپور روحانی استفادہ کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو تقویٰ، عبادت اور اطاعتِ الٰہی سے آراستہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ذیقعد، ذوالحجہ، محرم اور رجب وہ مقدس مہینے ہیں جنہیں قرآنِ مجید نے “اشہرِ حرم” قرار دیا ہے، ان مہینوں میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے جبکہ گناہوں سے بچنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔

مولانا نے کہا کہ ذوالحجہ کا پہلا عشرہ اسلامی سال کے نہایت بابرکت، نورانی اور رحمتوں والے ایام میں شمار ہوتا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں ان دنوں کی عبادت کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی محبوب قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مبارک دنوں میں ایک نفلی روزہ پورے سال کے روزوں کے ثواب کا ذریعہ بنتا ہے جبکہ یومِ عرفہ کا روزہ دو سال کے صغیرہ گناہوں کی معافی کا وسیلہ ہے۔ یہی وہ مقدس ایام ہیں جن میں بندۂ مومن اپنے رب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتا، ذکر و اذکار سے دلوں کو منور کرتا اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنی روحانی زندگی کو تازگی بخشتا ہے۔

خطاب کے دوران مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی عظیم قربانیوں، بے مثال اطاعت اور ایمان افروز سیرت کے مختلف پہلوؤں پر نہایت مؤثر انداز میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جن عظیم صفات کو نمایاں فرمایا ان میں “صادق الوعد” یعنی وعدے کے سچے ہونا ایک نمایاں وصف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو “ حلیم” قرار دے کر صبر، حلم، برداشت اور اطاعت کا عظیم پیکر بتایا۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کا حکم آیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کامل رضا و تسلیم کے ساتھ اپنی جان پیش کر دی اور تاریخِ انسانیت میں وفاداری و اطاعت کی لازوال مثال قائم کر دی، اسی نسبت سے آپ کو “ذبیح اللہ” کا عظیم لقب عطا ہوا۔

مولانا نے کہا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حبیبِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے درمیان ایک مبارک، مقدس اور نورانی واسطہ ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کا مبارک شجرۂ نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام تک پہنچتا ہے، جس سے ان کی عظمت و فضیلت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی کے ساتھ “رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ” کی دعا مانگی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کا طلب کرنا انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے، لیکن اس کے ساتھ صالح، نیک اور فرمانبردار اولاد کی دعا کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں والدین کو اپنی اولاد کے لیے صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ دینی تربیت، اخلاقی پاکیزگی اور صالحیت کی دعا کرنی چاہیے۔

مولانا حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی عظیم قربانیوں اور مثالی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ نے شاہانہ ماحول اور دنیاوی آسائشوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر مکہ مکرمہ کی بے آب و گیاہ وادی میں رہائش اختیار کی۔ آپ نے صبر، استقامت، توکل اور وفاداری کی ایسی عظیم مثال قائم کی کہ رہتی دنیا تک صفا و مروہ کے درمیان آپ کی سعی کو عبادت کا حصہ بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا آج کی خواتین کے لیے ایک روشن اور قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔ خواتین اگر گھروں میں دینی ماحول قائم کریں، اپنی اولاد کی صحیح اسلامی تربیت کریں اور اپنے شوہروں کے دینی مشن میں معاون بنیں تو معاشرہ خیر و صلاح کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، غرور، تکبر، نفس پرستی اور گناہوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا نام ہے۔ اگر انسان جھوٹ، غیبت، بے نمازی، حرام کمائی اور دیگر گناہوں کو ترک نہ کرے تو قربانی کی حقیقی روح حاصل نہیں ہو سکتی۔ قربانی کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع بنا دے اور ہر معاملے میں اطاعت و وفاداری کا مظاہرہ کرے۔

مولانا نے حاضرینِ اجتماع کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ان مبارک دنوں میں نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآنِ مجید، ذکر و اذکار، درود شریف، نفلی روزوں، صدقہ و خیرات اور محتاجوں کی امداد کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور کے فتنوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان اپنے کردار، اخلاق اور معاملات کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ علیہم السلام کی عظیم سیرت کو اپنی زندگی کا عملی نمونہ بنائیں۔

خطاب کے اختتام پر مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے خصوصی دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو ذوالحجہ کے مبارک ایام کی حقیقی برکتیں نصیب فرمائے، مسلمانوں کے دلوں میں ایمان، تقویٰ، اخلاص اور قربانی کا جذبہ پیدا فرمائے، نوجوان نسل کو دینِ اسلام پر ثابت قدم رکھے، عالمِ اسلام کو اتحاد و اتفاق کی نعمت عطا کرے اور ہم سب کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت، حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے صبر اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفاداری و قربانی کی حقیقی روح اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button