44 سال بعد بوفورٹ قلعہ پر پھر اسرائیلی پرچم – گولانی بریگیڈ نے تاریخی مقام پر دوبارہ قبضہ کر لیا

جنوبی لبنان میں واقع بوفورٹ قلعہ پر اسرائیل کی گولانی بریگیڈ نے دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور قلعہ پر اسرائیلی پرچم لہرا دیا گیا ہے۔ 1982 کی پہلی لبنان جنگ کے دوران بھی اسرائیلی فوج نے پہلی مرتبہ اسی قلعہ پر قبضہ کیا تھا۔ اس وقت بھی گولانی بریگیڈ نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے جنگجوؤں سے لڑائی کے بعد اس قلعہ کو اپنے کنٹرول میں لیا تھا۔
یہ قلعہ 1982 سے لے کر سال 2000 تک اسرائیل کے قبضے میں رہا۔ تازہ پیش رفت میں اسرائیل پر حماس کے بڑے حملوں کے اگلے ہی روز اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک بار پھر اس قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل پر نظر رکھنے کے لیے بوفورٹ قلعہ انتہائی اہم اور تزویراتی حیثیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں موجود راکٹ لانچنگ نظاموں پر خصوصی توجہ مرکوز کرے گی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا کہ ’’بیٹل آف بوفورٹ کے اختتام کے 44 سال بعد اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر قلعے پر اپنا پرچم لہرا دیا ہے۔‘‘
اس قلعہ پر قبضے کے لئے اسرائیلی فوج نے جنگی طیاروں کی مدد سے شدید بمباری کی، جبکہ زمینی کارروائی بھی بڑے پیمانے پر انجام دی گئی، جس کے بعد قلعہ اسرائیلی کنٹرول میں آ گیا۔




