ایڈوکیٹ خواجہ معز الدین قتل معاملہ ۔ بائیک اسٹنٹس کے ماہر کو دی گئی تھی ٹکر مارنے کی ذمہ داری

حیدرآباد: ماساب ٹینک میں پیش آئے معروف وکیل خواجہ معز الدین کے قتل کیس میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ پولیس تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمین نے قتل کو ’’ہٹ اینڈ رن‘‘ حادثے کا رنگ دینے کی منصوبہ بندی کی تھی۔یاد رہے
کہ ہائی کورٹ اور سٹی سیول کورٹ میں وکالت کرنے والے خواجہ معز الدین حالیہ دنوں وقف بورڈ اراضی پر مبینہ قبضوں کے خلاف سرگرم جدوجہد کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد سے یہ بات سامنے
آئی ہے کہ ملزمین نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خواجہ معین الدین کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ چار افراد صبح سے ان کے گھر کے قریب موجود رہے اور بعد ازاں بغیر نمبر پلیٹ والی اسکارپیو گاڑی سے انہیں ٹکر مار کر قتل کر دیا۔اس
کیس میں کانگریس رہنما محبوب عالم خان ان کے بیٹے مجاہد عالم خان سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔تازہ اطلاعات کے مطابق مرکزی ملزم نے قتل کو سڑک حادثہ ظاہر کرنے کے لیے ایک ایسے نوجوان سے رابطہ کیا جو
انسٹاگرام پر بائیک اسٹنٹس کی ویڈیوس پوسٹ کرتا تھا۔ ذرائع کے مطابق ونئے نامی شخص نے ’’ابھجیت عرف نانی‘‘ نامی نوجوان کو اس منصوبے میں شامل کرنے کی کوشش کی۔
پولیس کو شبہ ہے کہ ابھجیت کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ ایک شخص کو ٹکر مارنی ہے جس کے عوض دو لاکھ روپے ملیں گے اور اگر پکڑے بھی گئے تو معاملہ صرف ایک حادثے کا کیس ہوگا جس میں جلد رہائی ممکن ہو جائے گی۔تحقیقات کے
دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ خواجہ معز الدین کو ٹکر مارنے کے بعد ملزمین نامپلی سے تقریباً 50 کلومیٹر دور تُکّوگوڑہ تک انتہائی کم وقت میں پہنچ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی سازش، اس میں شامل افراد کے کردار اور
ممکنہ محرکات کے تمام پہلوؤں کی تفتیش جاری ہے اور مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔



