نیشنل

الانا ہاؤس مقدمہ: ممبئی میں سڑکوں پر نماز کے تنازع کا آغاز (1986–1988)

جاوید جمال الدین

ممبئی میں سڑکوں پر نماز کی ادائیگی کا مسئلہ پرممبئی میں سڑکوں پر نماز کی ادائیگی کے مسئلے کو لے کر جاری بحث کے درمیان سابق رکنِ پارلیمان (راجیہ سبھا) اور معروف قانون داں مجید میمن کاایک بیان سامنے آیاہے کہ اس حساس معاملے کو سیاسی یا فرقہ وارانہ رنگ دینے کے بجائے افہام و تفہیم، باہمی احترام اور انتظامی تدبر کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ مسلمان خود نہیں چاہتے کہ عوامی راستوں یا ٹریفک میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو اور سڑکوں پر نماز کی ادائیگی اکثر جگہ کی کمی اور مجبوری کا نتیجہ ہوتی ہے۔

 

مجید میمن نے بعض فرقہ پرست عناصر کی جانب سے اس مسئلے پر اشتعال انگیزی کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی اور کہاکہ مذہبی آزادی اور عوامی سہولت کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرنا ہی دانشمندانہ حل ہے۔انتظامیہ، مسجد کمیٹیوں اور مقامی آبادی کے درمیان مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایسے معاملات کا پائیدار حل بہتر شہری منصوبہ بندی، اعتماد سازی اور آئینی اقدار کے احترام میں مضمر ہے۔

 

ویسے بظاہرآج سیاسی مباحث، انتظامی فیصلوں، عدالتی بحثوں اور ذرائع ابلاغ کے مباحث کا مستقل موضوع بن چکا ہے۔ وقتاً فوقتاً یہ مسئلہ مختلف شکلوں میں دوبارہ سرخیوں میں آتا رہتا ہے، لیکن اس تنازع کی تاریخی جڑیں کہاں پیوست ہیں، اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے تقریباً چار دہائیاں پیچھے جانا پڑتا ہے۔

 

ممبئی میں سڑکوں پر نماز سے متعلق پہلا بڑا، دستاویزی اور عدالتی تنازع جنوبی ممبئی کے کولابہ علاقے میں واقع الانا ہاؤس سے وابستہ ہے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں 1986 میں ایک مقامی انتظامی مسئلہ رفتہ رفتہ شہری حقوق، مذہبی آزادی اور عوامی مقامات کے استعمال کے درمیان ایک اہم قانونی بحث میں تبدیل ہوگیا۔ بعد ازاں یہی تنازع بمبئی ہائی کورٹ کے معروف مقدمہ "نوین کمار و دیگر بنام میونسپل کارپوریشن فار گریٹر بمبئی و دیگر” کی صورت اختیار کر گیا، جس کا فیصلہ 16 جون 1988 کو سنایا گیا اور جو آج بھی عوامی مقامات پر مذہبی اجتماعات سے متعلق ایک بنیادی عدالتی نظیر سمجھا جاتا ہے۔

 

الانا ہاؤس: ایک عمارت اور ایک تنازع

1980 کی دہائی میں کولابہ کے الانا روڈ پر واقع الانا ہاؤس معروف صنعت کار اور تاجر مرحوم محمد حسین الانا کے کاروباری اور انتظامی مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔ جنوبی ممبئی کے نسبتاً پرسکون اور متمول علاقے میں واقع یہ عمارت شہر کی ممتاز تجارتی شناختوں میں شمار ہوتی تھی۔

 

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 1986 کے دوران عمارت کے گراؤنڈ فلور پر واقع ایک گیراج کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ ابتدا میں نمازیوں کی تعداد محدود تھی اور تمام افراد عمارت کے اندر ہی سما جاتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اجتماع بڑھنے لگا۔چند ہی برسوں میں صورتحال یہ ہوگئی کہ گیراج نمازیوں کی تعداد کو سمو نہیں پاتا تھا۔ نتیجتاً نمازی فٹ پاتھوں اور بعد ازاں سڑک تک پھیلنے لگے۔ ہر جمعہ الانا روڈ کے ایک حصے پر چٹائیاں بچھائی جاتیں اور بعض اوقات سڑک کے دونوں سروں پر رکاوٹیں لگا کر ٹریفک محدود یا بند کر دی جاتی تھی۔

 

عدالت کے مطابق جنوبی ممبئی میں تاج محل ہوٹل کے عقب میں واقع الانا روڈ تقریباً 26 فٹ چوڑی عوامی سڑک تھی جس کے دونوں جانب فٹ پاتھ موجود تھے۔ نماز جمعہ عموماً صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان ادا کی جاتی تھی اور اس دوران سڑک کا ایک حصہ عملاً نماز گاہ میں تبدیل ہو جاتا تھا۔

 

مقامی آبادی کے اعتراضات

ابتداء میں یہ معاملہ ایک انتظامی مسئلہ سمجھا گیا، لیکن جلد ہی مقامی رہائشیوں کی شکایات سامنے آنے لگیں۔ کولابہ اور کف پریڈ کے رہائشیوں کا مؤقف تھا کہ عوامی سڑک شہری آمدورفت کے لیے مختص ہوتی ہے اور اس کی ہفتہ وار بندش سے معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں۔درخواست گزاروں کے مطابق اسی وقت اسکولوں سے بچوں کی واپسی، دفاتر سے آنے جانے اور مقامی نقل و حرکت کا اہم وقت ہوتا تھا۔ بعض رہائشیوں نے ہنگامی حالات، ایمبولینسوں اور بزرگ شہریوں کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا۔

 

4 اپریل 1986: وہ واقعہ جس نے مقدمے کو جنم دیا

 

4 اپریل 1986 کو تنازع نے ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا۔

 

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک مقامی رہائشی اپنے ضعیف سسر کو، جو دل کے دورے کے بعد صحت یاب ہو رہے تھے، نرسنگ ہوم سے گھر واپس لا رہا تھا۔ اس دوران نماز کے اجتماع کی وجہ سے راستہ متاثر ہوا اور فریقین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

عدالت کے سامنے پیش کردہ ریکارڈ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس موقع پر درخواست گزار، اس کی اہلیہ اور معمر سسر کے ساتھ بدسلوکی اور دھکم پیل کا واقعہ پیش آیا۔ یہی وہ موڑ تھا جس کے بعد مقامی باشندوں نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا۔

قلابہ-کف پریڈ سٹیزنز گروپ کی تشکیل

 

اس واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے "کولابہ-کف پریڈ سٹیزنز گروپ” تشکیل دیا اور بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ:

الانا روڈ ایک عوامی شاہراہ ہے۔

اس پر مستقل نوعیت کی رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے۔

میونسپل کارپوریشن اور پولیس اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہیں۔

شہریوں کے بنیادی حقِ آمدورفت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

 

عدالت کے سامنے اصل سوال

 

اس مقدمے کا اہم پہلو یہ تھا کہ عدالت کے سامنے سوال نماز یا مذہبی آزادی کے حق کا نہیں تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کو عبادت اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کا مکمل آئینی حق حاصل ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا عوامی سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو مستقل یا معمول کی بنیاد پر مذہبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

یہی وہ بنیادی قانونی سوال تھا جس نے اس مقدمے کو محض ایک مقامی تنازع سے نکال کر ایک اہم آئینی بحث میں تبدیل کر دیا۔

جسٹس سجاتا منوہر کااہم فیصلہ

 

16 جون 1988 کو جسٹس سجاتا منوہر نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ مذہبی آزادی ایک بنیادی حق ضرور ہے، لیکن اس حق کا استعمال اس انداز میں نہیں کیا جا سکتا جس سے دوسرے شہریوں کے قانونی حقوق متاثر ہوں۔

عدالت نے بمبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کی دفعہ 61(او) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی ذمہ داری ہے کہ عوامی سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو تجاوزات اور رکاوٹوں سے پاک رکھے۔

فیصلے میں یہ اصول بھی دہرایا گیا کہ عوامی سڑکوں کا بنیادی مقصد عوامی آمدورفت ہے اور انہیں معمول کے طور پر کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

 

ڈوم موریس اور لیلا نائیڈو: ایک اہم پہلو

 

اس تنازع کا ایک دلچسپ تاریخی پہلو معروف شاعر و صحافی ڈوم موریس اور ممتاز اداکارہ لیلا نائیڈو سے بھی جڑا ہوا ہے۔

عینی شاہدین اور مقامی روایات کے مطابق دونوں اس دور میں الانا ہاؤس کے سامنے واقع تاریخی سارجنٹ ہاؤس میں مقیم تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سڑک کی بندش پر ابتدائی اعتراضات کرنے والوں میں ڈوم موریس بھی شامل تھے۔ اگرچہ وہ مقدمے کے فریق نہیں تھے، لیکن ہر جمعہ پیدا ہونے والی صورتحال کے براہ راست مشاہد تھے۔

 

تنازع کا اختتام

عدالتی فیصلے کے بعد الانا روڈ پر سڑک بند کرکے نماز ادا کرنے کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ بعد ازاں عمارت کے اندر اضافی انتظامات کیے گئے تاکہ نمازیوں کو سڑک پر آنے کی ضرورت نہ پڑے۔

بظاہر ایک مقامی تنازع ختم ہوگیا، لیکن اس کے قانونی اثرات باقی رہے۔

 

بابری مسجد کے بعد بدلتا ہوا منظرنامہ

1988 کے عدالتی فیصلے کے بعد یہ مسئلہ ملکیں سیاسی اتھل پتھل کے سبب کچھ عرصہ نسبتاً پس منظر میں چلا گیا، لیکن 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت اور اس کے بعد ممبئی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے شہر کے سماجی اور سیاسی ماحول کو یکسر تبدیل کر دیا۔

 

اس دور میں اذان، لاؤڈ اسپیکر، نماز جمعہ اور عوامی مقامات پر مذہبی سرگرمیوں کے معاملات زیادہ شدت کے ساتھ زیر بحث آنے لگے۔ مختلف سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے اپنے اپنے نقطۂ نظر سے ان مسائل کو اٹھایا۔

فسادات کے بعد کئی علاقوں میں سڑکوں پر نماز، لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور مذہبی اجتماعات کے حوالے سے مقامی سطح پر تنازعات سامنے آئے۔ پولیس اسٹیشنوں میں منعقد ہونے والی امن کمیٹیوں اور محلہ کمیٹیوں کی میٹنگوں میں بھی یہ موضوعات بار بار زیر بحث آتے رہے۔

 

سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ

 

ممبئی فسادات کی تحقیقات کے لیے قائم سری کرشنا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا۔

رپورٹ میں بعض علاقوں میں منعقد ہونے والی مہا آرتیوں، جلوسوں اور ان کے بعد پیدا ہونے والے کشیدہ ماحول کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کمیشن نے یہ رائے ظاہر کی کہ بعض مواقع پر اشتعال انگیز ماحول نے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں تشدد، توڑ پھوڑ اور جانی و مالی نقصان کے واقعات رونما ہوئے۔دراصل یہ افراد سڑک پر نماز کی مخالفت کررہے تھے۔

جنوری 1993 کے فسادات بعد ازاں ممبئی کی تاریخ کے بدترین فرقہ وارانہ فسادات میں شمار کیے گئے۔

 

تین دہائیوں کی تبدیلی

 

1990 کی دہائی کے بعد سے ممبئی میں سڑکوں پر نماز کے حوالے سے صورت حال میں نمایاں تبدیلی آئی۔ جہاں ماضی میں بعض مقامات پر نمازی سڑکوں تک پھیل جاتے تھے، وہیں رفتہ رفتہ نماز کے اجتماعات محدود ہو کر فٹ پاتھوں یا مخصوص مقامات تک سمٹنے لگے۔

اسی عرصے میں عدالتوں اور انتظامیہ نے لاؤڈ اسپیکر، مذہبی جلوسوں، گنیش وسرجن، محرم، عیدین، مہا آرتی اور دیگر عوامی مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد ضابطے اور پابندیاں بھی نافذ کیں۔لیکن چند معاملات میں جانبداری بھی مبینہ طور پر نظر آئی۔

 

چار دہائیوں بعد بھی مقدمہ کیوں اہم ہے؟

 

الانا ہاؤس مقدمہ دراصل ایک ایسے سوال کا پہلا عدالتی جواب تھا جو آج بھی مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہتا ہے:

جب مذہبی آزادی اور عوامی راستوں کے استعمال کا حق ایک دوسرے سے متصادم ہوں تو توازن کیسے قائم کیا جائے؟

بعد کے برسوں میں لاؤڈ اسپیکر، اذان، مذہبی جلوسوں، سڑکوں پر مذہبی اجتماعات اور عوامی مقامات کے استعمال سے متعلق جو تنازعات سامنے آئے، ان سب میں کسی نہ کسی درجے میں وہی اصول زیر بحث رہا جو پہلی مرتبہ الانا ہاؤس مقدمے میں واضح کیا گیا تھا۔

 

تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو الانا ہاؤس مقدمہ محض ایک سڑک یا ایک عمارت کا تنازع نہیں تھا بلکہ یہ ممبئی کے شہری ارتقاء، مذہبی آزادی، شہری حقوق اور قانون کی حکمرانی کے درمیان توازن تلاش کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔

گزشتہ چالیس برسوں کے تجربے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ممبئی میں سڑکوں پر نماز، مذہبی اجتماعات اور عوامی مقامات کے استعمال کا مسئلہ صرف مذہبی نوعیت کا نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی، آبادی کے دباؤ، قانونی اصولوں اور انتظامی صلاحیت سے بھی وابستہ ہے۔

 

الانا ہاؤس مقدمے سے لے کر آج تک عدالتوں نے عمومی طور پر تین بنیادی اصول برقرار رکھے ہیں:

مذہبی آزادی ایک آئینی حق ہے۔

عوامی راستے بنیادی طور پر عوامی استعمال کے لیے مخصوص ہیں۔

انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ مختلف حقوق کے درمیان متوازن اور منصفانہ ہم آہنگی قائم کرے۔

ممبئی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مذہبی آزادی اور شہری حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک جمہوری معاشرے کے دو اہم ستون ہیں۔ اصل چیلنج یہ نہیں کہ کون سا حق زیادہ اہم ہے، بلکہ یہ ہے کہ مختلف حقوق کے درمیان ایسا توازن کیسے قائم کیا جائے جس سے نہ مذہبی آزادی متاثر ہو اور نہ ہی شہری زندگی کا معمول۔ الانا ہاؤس مقدمہ اسی توازن کی تلاش کی ایک اہم تاریخی مثال کے طور پر آج بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

 

ممبئی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مذہبی آزادی اور شہری حقوق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک متوازن جمہوری نظام کے دو اہم ستون ہیں۔ اصل چیلنج یہ نہیں کہ کون سا حق زیادہ اہم ہے، بلکہ یہ ہے کہ مختلف حقوق کے درمیان ایسا توازن کیسے قائم کیا جائے جس سے نہ مذہبی آزادی متاثر ہو اور نہ ہی شہری زندگی کا معمول۔ الانا ہاؤس مقدمہ اسی توازن کی تلاش کی ایک اہم تاریخی مثال کے طور پر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

 

تاہم 1988 کے عدالتی فیصلے کے بعد بھی یہ بحث مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ 1980 کی دہائی کے اختتام پر اگرچہ سڑکوں پر نماز اور اذان سے متعلق تنازعات نسبتاً پس منظر میں چلے گئے تھے، لیکن 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت اور اس کے بعد ممبئی میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات نے شہر کے سماجی اور سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا۔

اس دور میں بعض دائیں بازو کی تنظیموں نے لاؤڈ اسپیکر پر اذان اور سڑکوں پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے معاملات کو زیادہ شدت کے ساتھ اٹھانا شروع کیا۔ اس کے ردِعمل میں شہر کے مختلف علاقوں میں مہا آرتیوں اور دیگر مذہبی اجتماعات کا سلسلہ بھی بڑھا، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر ماحول کشیدہ ہونے لگا۔ یہ وہ دور تھا جب مذہبی شناخت اور عوامی مقامات کے استعمال سے متعلق مباحث محض انتظامی یا قانونی دائرے تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاسی اور سماجی کشمکش کا حصہ بنتے چلے گئے۔

 

ممبئی فسادات کی تحقیقات کے لیے قائم سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ میں بھی بعض علاقوں میں منعقد ہونے والی مہا آرتیوں، اشتعال انگیز ماحول اور اس کے بعد پیش آنے والے تشدد کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر ایسے اجتماعات کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوئے اور تشدد، توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور جانی نقصان کے واقعات رونما ہوئے۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی جنوری 1993 کے پہلے ہفتے میں وسیع پیمانے کے فسادات میں تبدیل ہوگئی، جنہیں آزاد ہندوستان کی تاریخ کے سنگین ترین شہری فسادات میں شمار کیا جاتا ہے۔

 

جیسا کہ پہلے ذکر کیاجاچکاہے ،اسی عرصے میں مقامی پولیس تھانوں، امن کمیٹیوں اور محلہ کمیٹیوں کی میٹنگوں میں بھی سڑکوں پر نماز، اذان، لاؤڈ اسپیکر اور عوامی مقامات کے استعمال کے مسائل بار بار زیر بحث آتے رہے۔ رفتہ رفتہ ممبئی کے بیشتر علاقوں میں نماز جمعہ اور نماز عیدین کے اجتماعات شاہراہوں سے محدود ہو کر فٹ پاتھوں یا متبادل مقامات تک سمٹنے لگے۔ شہری آبادی میں اضافے، ٹریفک کے بڑھتے دباؤ اور انتظامی پالیسیوں نے بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔

 

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ مسئلہ مختلف ادوار میں مختلف شدت کے ساتھ زیر بحث رہا۔ بالخصوص 2014 کے بعد ملک اور ریاست میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے تناظر میں سڑکوں پر نماز، لاؤڈ اسپیکر پر اذان اور عوامی مذہبی سرگرمیوں سے متعلق مباحث ایک بار پھر نمایاں ہوئے۔ مختلف سرکاری پالیسیوں، عدالتی احکامات اور انتظامی اقدامات کے نتیجے میں کئی علاقوں میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور عوامی مقامات پر مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے نئی پابندیاں اور ضابطے نافذ کیے گئے۔

 

مسلم تنظیموں اور سماجی کارکنوں کا موقف رہا ہے کہ ان اقدامات کا اثر بعض اوقات یکطرفہ طور پر مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں پر پڑا، جبکہ سرکاری اداروں کا مؤقف یہ رہا کہ یہ فیصلے شور کی آلودگی، ٹریفک کے نظم اور عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے۔ اس موضوع پر سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور شہری حلقوں کے درمیان اختلافِ رائے آج بھی موجود ہے۔

 

بہرحال تاریخی حقیقت یہ ہے کہ الانا ہاؤس مقدمے سے شروع ہونے والی بحث وقت کے ساتھ محض ایک سڑک یا ایک محلے کے تنازع تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ مذہبی آزادی، شہری حقوق، انتظامی اختیارات اور آئینی توازن کے ایک وسیع تر سوال میں تبدیل ہو گئی۔ چار دہائیوں بعد بھی جب ممبئی میں سڑکوں پر نماز، اذان، لاؤڈ اسپیکر یا دیگر مذہبی اجتماعات کے حوالے سے بحث چھڑتی ہے تو اس کے پس منظر میں 16 جون 1988 کا وہی عدالتی فیصلہ موجود نظر آتا ہے جس نے پہلی مرتبہ اس حساس مسئلے کو قانونی اور آئینی تناظر میں واضح کرنے کی کوشش کی تھی۔

 

ممبئی جیسے کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور گنجان آباد شہر میں یہ بحث مستقبل میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ تاہم ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ پائیدار حل محاذ آرائی، اشتعال انگیزی یا سیاسی فائدہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ آئین، قانون، باہمی احترام اور شہری مفاد کے اصولوں کے تحت مختلف حقوق کے درمیان منصفانہ توازن قائم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

 

javedjamaluddin@gmail.com

9867647741

متعلقہ خبریں

Back to top button