انٹر نیشنل

تہران پر دنیا کی نظریں – آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور تعزیتی تقاریب کا آغاز ؛ دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنی ای جو امریکی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے، کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کے عمل کا آغاز جمعہ سے ہوگیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کے جسدِ خاکی کو پہلے جائے شہادت پر لے جایا گیا، جس کے بعد اسے تہران کی گرینڈ مصلیٰ مسجد منتقل کر دیا گیا، جہاں نمازِ جنازہ اور عوامی دیدار کا انتظام کیا گیا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 جولائی کو تہران میں عوام اپنے محبوب رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ اندازہ ہے کہ تقریباً دو کروڑ افراد آخری دیدار اور جنازے میں شریک ہوں گے۔ تدفین کے سلسلے میں ایک ہفتہ تک مختلف شہروں میں مذہبی اور تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی، جن کی تیاریاں اسلامی مذہبی قیادت کی نگرانی میں مکمل کر لی گئی ہیں۔

 

اس وقت آیت اللہ خامنہ ای کا تابوت تہران کی گرینڈ مصلیٰ مسجد میں رکھا گیا ہے، جہاں جمعہ کو خصوصی دعائیہ اجتماع منعقد ہوگا، جبکہ ہفتہ کو ہونے والی دعائیہ تقریب میں مختلف ممالک کے سرکاری وفود شرکت کریں گے۔ تابوت کو ایران کے قومی پرچم میں لپیٹا گیا ہے۔

 

ایران میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے پیش نظر حکام نے شرکاء اور غیر ملکی وفود کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت چین، افغانستان اور دیگر ممالک کے نمائندوں کی بھی آخری رسومات میں شرکت متوقع ہے۔

 

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر احمد وحیدی بھی گرینڈ مصلیٰ مسجد پہنچے۔ ایرانی میڈیا نے ان کی وہ تصاویر جاری کی ہیں جن میں وہ آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت کے قریب اشکبار آنکھوں سے تعزیت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

 

آیت اللہ خامنہ ای کا تابوت تین روز تک گرینڈ مصلیٰ مسجد میں رکھا جائے گا۔ پیر کے روز تہران میں، منگل کو شیعہ مقدس شہر قم میں اور بعد ازاں 9 جولائی کو مشہد میں عظیم الشان جلوس نکالے جائیں گے، جس کے بعد ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button