"یہ افغانستان یا پاکستان نہیں ہے” سائبر آباد پولیس ملازم پر فرقہ وارانہ ریمارکس کا الزام

حیدرآباد: سائبر آباد ٹریفک پولیس کے ایک کانسٹیبل پر گچی باؤلی میں موٹر سائیکل پارکنگ کے تنازعہ کے دوران ایک مسلم خاتون اور ان کے کم عمر بیٹے کے خلاف مبینہ طور پر فرقہ وارانہ توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے کا الزام عائد کیا
گیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہر کی اقلیتی برادری کے بعض حلقوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔یہ واقعہ جمعرات 2 جولائی، دوپہر کے وقت گچی باؤلی رائے درگم روڈ پر آئکیا کے ایگزٹ گیٹ کے سامنے واقع
بی پی پٹرول پمپ کے باہر پیش آیا۔ یہ تفصیلات محمد سمیر کی جانب سے سائبر آباد کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس (ٹریفک) کو دی گئی تحریری شکایت میں سامنے آئی ہیں۔شکایت کے مطابق محمد سمیر کی اہلیہ اور بیٹے نے اپنی
موٹر سائیکل ایک ایسے بیریکیڈس کے پیچھے کھڑی کی تھی جو ٹریفک کے لیے بند تھی۔ اسی مقام پر مزید تین موٹر سائیکلیں بھی کھڑی تھیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ جب وہ واپس آکر اپنی موٹر سائیکل لینے پہنچے تو دیکھا کہ سڑک کو مکمل طور پر بیریکیڈس لگا کر بند کر دیا گیا تھا جس س پر انہوں نے وہاں ڈیوٹی پر موجود ٹریفک ملازم جے ملیشم سے درخواست کی کہ
بیریکیڈس ہٹا دیے جائیں تاکہ وہ اپنی موٹر سائیکل نکال سکیں۔شکایت کے مطابق ٹریفک ملازم نے بیریکیڈس ہٹانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مقام پارکنگ کے لیے مختص نہیں ہے۔ الزام ہے کہ اس کے بعد اس نے خاتون اور ان کے
بیٹے کے ساتھ بدزبانی کی اور انہیں جسمانی طور پر نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دی۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ اسی دوران ملازم پولیس نے مبینہ طور پر یہ متنازعہ جملہ کہا ’’یہ پاکستان اور افغانستان نہیں ہے کہ جہاں چاہو گاڑی
پارک کر دو۔‘‘ یہی بیان اب تنازع کا سبب بن گیا ہے۔محمد سمیر نے اپنی شکایت میں مزید کہا کہ اس کے بعد پولیس ملازمنے ان کی بات سننے کے بجائے اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیو ریکارڈ کرنا شروع کر دی۔سوشل میڈیا پر وائرل
ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بحث شدت اختیار کر جاتی ہے جبکہ ملازم پولیس مسلسل اپنے موبائل فون سے خاندان کی ویڈیو بناتا رہتا ہے۔ ایک موقع پر وہ کہتا ہے، ’’پہلے میرے سوال کا جواب دو۔‘‘ اس پر خاتون کا بیٹا جواب دیتا
ہے ’’اگر ہم مسلمان ہیں تو کیا آپ ہمیں پاکستانی کہیں گے؟ آپ ہمارے ساتھ اس طرح ہراسانی کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘



