اردو زبان کا تحفظ، ہماری شناخت اور تہذیب کی بقا کی ضمانت

زبان کی بقاء کے لئے عظیم جدوجہد وقت کی اہم ترین ضرورت
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی) (اقبال)
کسی بھی سماج کی شناخت اسکی زبان ، تہذیب، ثقافت اور اقدار سے ہوتی ہے۔
مادری زبان سماج کی تہذیبی روح اور فکری سرمایہ ہوتی ہے ۔
از : قاری محمد نذیر الدین
جو قوم اپنی مادری زبان کو پس پشت ڈال دیتی ہے وہ رفتہ رفتہ اپنی تہدیبی شناخت ، ادبی ورثے اور ثقافتی امتیاز سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔ اردو دنیا کی مقبول ترین شریک دل نشین اور باوقار زبانوں میں شمار ہوئی۔ اس کی مٹھاس ، شائستگی، وسعت اظہار اور ادبی حُسن نے اسے عالمی سطح پر ایک ممتاز مقام عطاء کیا ہے۔ صرف اردو داں طبقہ ہی نہیں بلکہ غیر اردو داں حضرات بھی اسکی شیرنی سے محظوظ ہوتے اور اسکے ادب سے خصوصی رغبت کا اظہار کرتے ہیں
۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اردو مشاعروں اور ادبی محافل کو بڑی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ اس نے عربی، فارسی، ہندی، ترکی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کے بہتریں الفاظ اور اسالیب کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔
اس اعتبار سے اردو مختلف زبانوں کے حسین امتزاج کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔
عربی زبان کو یہ منفرد شرف حاصل ہے کہ خدا تعالی نے تو اپنی آخری کتاب قرآن مجید اسی میں نازل فرمائی ہے ۔
رسول الله اکرم کی زبان بھی عربی ہی تھی اسی لئے اسلامی علوم کا سر چشمہ عربی ہی ہے۔ اردو کا عربی سے بڑا گہرا تعلق ہے۔
اردو میں ایسے سینکڑوں عربی الفاظ اصطلاحات اور تراکیب موجود ہیں۔ جنکی وجہ سے اردو جاننے والا قرآن کریم، احادیث نبوی فقہ، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم کا نسبتا زیادہ آسانی سے ادراک کر سکتے۔ ہیں ۔ اسی بنا پر بعض اہلِ علم محبت و عقیدت کے اظہار کے طور پر اردو کو عربی کی بہن بھی قرار دیتے ہیں۔ ملحوظ خاطر رہے کہ مادری زبان انسان کے جذبات احساسات اور خیالات کے اظہار کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
انسان جس سہولت اعتماد اور روانی کے ساتھ اپنی زبان میں اظہار خیال کر سکتا ہے دوسری کی زبان میں وہ خوبی پیدا نہیں کر سکتا ۔ دور حاضر میں ایک تشویش ناک رجحان رومن اسکریپٹ کا بے جا استعمال ہے۔
ایسے افراد جو رسمی تعلیم سے محروم رہے ہوں انکے سلسلہ میں کسی حد تک اس عمل کو برداشت کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن تعلیم یافتہ افراد، خصوصا طلباء میں اسکا رواج انتہائی افسوس اور نامناسب ہے۔ اس سے رسم الخط پر عبور حاصل ہوتا ہے اور نہ انگریزی زبان میں ہی کچھ مہارت حاصل ہوتی ہے ۔
اس طرح رومن اسکریپٹ دونوں زبانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یقینا انگریزی موجودہ دور کی اہم بین الا قومی زبان ہے اور سائنس ٹکنالوجی ،طب ،تجارت اور اعلی تعلیم میں اسکی اہمیت مسلم ہے اس لئے انگریزی میں ضرور ہی کمال حاصل کیا جائے لیکن اسکی خاطر اپنی مادری زبان کو نظر انداز کر دینا قطعا مناسب نہیں۔
مادری زبان پر مضبوط جکڑ ہی دوسری زبانوں کے بہتر اکتساب کی بنیاد بن سکتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اردو کے ذریعے اسلامی علوم تک رسائی آسان ہوتی ہے اور اس طرح کسی بھی عظیم علمی و ادبی سرمایہ کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ اگر نسل نو کو اردو سے دور کر دیا جائے تو وہ اپنی تہذیب، شناخت اور علمی ورثے سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو سکتی ہے ۔
اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد
دور حاضر میں مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ اردو داں احباب کے زیر نگرانی ایک پوری نسل انگریزی اسکولوں میں تعلیم
پارہی ہے ایسی صورت میں نہایت ضروری ہے کہ سرکاری اور خانگی | پرائیویٹ اسکولوں میں کم از کم اردو کو بطور زبانِ اول یا دوم کو ایک لازمی مضمون کے طور پر اختیار کیا جاے ،اور اسکے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اردو کی انجمنیں ، ادبی و تعلیم ادارے دانشور حضرات ! ور حضرات اور سماجی تنظمیں متحدہ طور پر سنجیدہ بور منظم کوشش کریں تاکہ نئی نسل کا اردو زبان سے رشتہ برقرار رہے اور اسکا فروغ یقینی بنایا جاسکتے
چند عملی تجاویر
تحتانوی ، اعلی تحتانوی انگلیش
ذریعہ تعلیم میں جہاں 20 فیصد اردو داں طلباء موجود ہوں انہیں اسے زبان اول یا دوم کے طور پر اختیار کرنے کی سہولت دی جائے۔
دوم یہ کہ تمام مدارس اور اسکولوں میں کم از کم ایک اردو معلّم کا تقرر کیا جائے اگر مستقل سرکاری تقرر فوری طور پر ممکن نہ ہو تو اردو اکیڈمی حکومت کے تعاون سے کنٹراکٹ کی بنیاد پر اردو اساتذہ کا تقرر کرے تاکہ کسی بھی طالب علم کو اپنی مادری زبان سے محرومی کا سامنانہ کرنا پڑے ۔
سوم یہ کہ نصاب ساز ادارے کمزور طلباء کی صلاحیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے عملی طور پر مناسب نصاب اور سہل طریقہ امتحان اختیار کریں ۔
چوتھے یہ کہ اس زبان کی خدمت انجام دینے والے اساتذہ ادباء کالم نگار اور مثالی معلمین کی حوصلہ افزائی کے لئے اردو اکیڈمی کی جانب سے اعزازات ، اسنادات اور انعامات کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے ۔
پانچو یہ کہ مساجد سے ملحق دینی مراکز، دینی تعلیم کے ساتھ ہر روز کم از کم دس منٹ اردو کے لئے ضرور مختص کریں۔ اردو کی تعلیم کے دوران حروف تہجی اور حروف کے جوڑ (مرکبات) کو سیکھے کے ساتھ ساتھ براہ راست Directed طریقہ تدریس اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ان امور کے لئے بولتا قاعدہ اور اسی نوعیت کے علاوہ عام طلباء کے لئے بھی مفید و مؤثر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ لفظ کی مکمل شکل درست تلفظ اور معنی کو ایک ساتھ ذہن نشین کیا جا سکتا ہے۔ نتیجتا نو نہال مکمل حروف کو بار بار جوڑنے کے بجائے راست طور پر روانی سے پہچاننے اور پڑھنے کے قابل بن سکتے ہیں۔ اور اس طرح کم وقت میں پوری زبان پر قادر ہو جاتے ہیں۔ نیز یہ کہ اساتذہ اور والدین اپنے نو نہالوں کو رسائل اور اخبارات پڑھنے کی ترغیب دیتے رہیں۔ مزید یہ کہ مشاعرے ، مضمون نویسی، تقریری مقابلے بیت بازی وغیرہ کے پروگرام مسلسل منعقد کئے جاتے رہیں۔
اور پورا سماج فطری طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ آج کے طلباء کل کے اور قوم کے معمار ہیں ۔ گویا یہ درخت کی اہم جڑ ہیں۔ اگر جڑ مضر مضبوط اور راسخ ہو تو درخت تناور اور اور ثمر آور بنتا ہے ۔ اسی طرح اگر نے نسل کو اردو سے دور دیں تو اپنی ممتاز و منفرد تہذیب کو محفوظ رکھ سںکتے ہیں ۔ مکرر طور پر یادر ہے کہ اردو کا فروغ صرف ایک زبان کی ترقی نہیں بلکہ ہماری شناخت ، دینی ورثے علمی روایات – و – مشترکہ ثقافت کے تحفظ کا ذریعہ ہیں۔ آخر میں قارئیں سطور هذا سے التماس ہے کہ اپنی مشترکہ ذمہ داری کو پس پشت نہ ڈالیں عملی اقدامات کریں،تا کہ ہماری یہ ہماری پیاری زبان آنے والی نسلوں تک پوری آب و تاب کے ساتھ منتقل ہو سکے، خدا ہمیں اپنی حفاظت کی توفیق مرحمت فرمائے ۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتےہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ۔
از۔قاری محمد نذیر الدین 9395579608



