مضامین

محمد عبدالمجید نور ‘تعلیم و تربیت کا روشن ستارہ 

 

مجیدعارف نظام آبادی

ریاض ‘سعودی عرب

majeedaarif@gmail.com

کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے مخلص، باکردار اور باصلاحیت اساتذہ میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ ایک سچا استاذ صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ کردار بناتا، نسلوں کی تربیت کرتا اور قوم کے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ ایسے اساتذہ اپنی پوری زندگی علم کی شمع روشن رکھنے اور معاشرے کو بہترین انسان فراہم کرنے میں صرف کر دیتے ہیں۔استاذ وہ چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کی زندگیاں روشن کرتا ہے، اور اس کی روشنی نسلوں تک باقی رہتی ہے۔

اہلیان نظام آباد کے لئے عبدالمجید نور محتاج تعارف نہیں ہیں۔ ابتدائی و اعلی تعلیم انہوں نے نظام آباد سے ہی حاصل کی ہے۔ حیدرآباد میں پیشہ درس و تدریس سے وابستہ ہوئے اور اپنی بہترین خدمات کے اعلی نقوش چھوڑتے ہوئے 30 جون کو وظیفہ حسن خدمت سے سبکدوش ہورہے ہیں۔

آپ ایک بہترین ادیب و مقرر ہیں۔زمانہ طالب علمی میں انہوں نے برادر یوسف الدین خان صاحب ایڈیٹر روزنامہ "آئینہ نظام آباد ” و نیوز اینڈ ویوز میڈیا سرویس” ،نمائندہ خصوصی اردو لیکس” نظام آباد کے ہمراہ پھولانگ ،نظام آباد میں "ادارہ پاکیزہ ادب'” کی بنیاد رکھی تھی۔ ہم جیسے نوآموز قلمکاروں کو ایک پلاٹ فارم مہیا کیا کہ صالح ادب کو کیسے فروغ دیا جاتاہے۔ ضلع نظام آباد کی کئی ادبی و فلاحی تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔ اصلاح معاشرہ اور نوجوانوں کی اسلامی نہج پر تربیت کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے۔

آج ہم ایک ایسے ہی محترم استاذ کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جو اپنے قلمی نام "نور” کی طرح اپنی بے لوث خدمات کو روشن کیا ہے۔

جنہوں نے اپنی ملازمت کو صرف ذریعۂ معاش نہیں بلکہ عبادت، امانت اور خدمتِ خلق کا ذریعہ سمجھا۔ انہوں نے بے شمار طلبہ کو علم، ادب، اخلاق، دیانت اور انسانیت کے اعلیٰ اصولوں سے آراستہ کیا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ ایک مخلص معلم اپنے بعد بھی اپنے شاگردوں کی صورت میں زندہ رہتا ہے۔

اسلام نے استاذ کے مقام کو نہایت بلند رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔”اسی تعلیم نبوی کی روشنی میں ایک استاذ کی ذمہ داری صرف تعلیم دینا نہیں بلکہ اخلاق و کردار کی تعمیر بھی ہے۔

عبد المجید نور نے اسی عظیم مقصد کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا۔

ان کی شخصیت میں اخلاص، عاجزی، وقت کی پابندی، دیانت داری، محبت، شفقت اور عدل نمایاں صفات تھیں۔ وہ ہر طالب علم کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتے، کمزور طلبہ کی خصوصی رہنمائی کرتے اور ہر ایک کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے تھے۔ ان کے حسنِ اخلاق نے طلبہ، والدین اور ساتھی اساتذہ سب کے دل جیت لیے۔

فنِ تدریس میں بھی انہیں نمایاں مہارت حاصل تھی۔ وہ مشکل مضامین کو آسان انداز میں سمجھاتے، طلبہ میں تحقیق، مطالعہ اور مثبت سوچ پیدا کرتے اور انہیں زندگی کے عملی میدان میں کامیاب ہونے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کی کلاس صرف سبق کی نہیں بلکہ تربیت، تہذیب اور کردار سازی کی درسگاہ ہوتی تھی۔

آج اگرچہ وہ سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو رہے ہیں، لیکن علم و خدمت کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک حقیقی معلم ریٹائر ضرور ہوتا ہے مگر اس کی تعلیم، اس کے اخلاق اور اس کے شاگرد ہمیشہ اس کا صدقۂ جاریہ بنے رہتے ہیں۔ ان کے سینکڑوں اور ہزاروں شاگرد آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان کی محنت اور اخلاص کا بہترین ثمر ہیں۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی تمام علمی، دینی اور سماجی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، انہیں صحت، عافیت، برکت اور عمرِ خضری عطا فرمائے، ان کے علم کو صدقۂ جاریہ بنائے، اور آنے والی نسلوں کو بھی ایسے ہی مخلص، باکردار اور خدا ترس اساتذہ نصیب فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button