تلنگانہ

حیدرآباد میں احتجاج ۔ کانگریس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان جھڑپ

حیدرآباد: کانگریس اور بی جے پی کے احتجاج کے باعث حیدرآباد کے مرکزی علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔نیٹ پیپر لیک معاملے اور راہول گاندھی کو مبینہ طور پر زبردستی حراست میں لیے جانے کے خلاف کانگریس کی جانب سے لوک بھون کے گھیراؤ کا اعلان ریاستی کانگریس صدر مہیش کمار گوڑ نے کیا۔

 

دوسری جانب بی جے پی قائدین نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی کی رہائش گاہ کے سامنے دھرنا دے کر جمہوریت کو نقصان پہنچایا گیا اور اس کے خلاف گاندھی بھون کے گھیراؤ کا اعلان کیا۔اس دوران پولیس نے بی جے پی کارکنوں کو نامپلی میں واقع بی جے پی دفتر کے قریب ہی روک دیا جبکہ کانگریس رہنماؤں کو خیرت آباد سرکل کے مقام پر روک لیا گیا۔

 

اسی دوران کچھ کانگریس کارکنوں نے بی جے پی دفتر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی جس پر بی جے پی کارکنوں نے مبینہ طور پر لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ کانگریس کارکنوں نے بھی پولیس گاڑیوں پر چڑھ کر لاٹھیاں پھینکیں اور حملہ کیا۔اس صورتحال کے باعث بی جے پی دفتر کے قریب کشیدگی بڑھ گئی۔

 

پولیس نے پہلے ہی ریاستی کانگریس صدر مہیش کمار گوڑ اور بی جے پی کے ریاستی صدر رام چندر راؤ کو حراست میں لے لیا ہے۔کارکنوں کے ایک دوسرے پر حملوں کے باعث صورتحال پر قابو پانا پولیس کے لیے مشکل ثابت ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button