نیشنل

شرد پوار کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات، سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیاں تیز

نئی دہلی :  نیٹ پرچہ لیک معاملہ پر اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ این سی پی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار نے چہارشنبہ کو  وزیر اعظم نریندر مودی سے نئی دہلی میں ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے خود دفتر کے دروازے پر جا کر شرد پوار کا استقبال کیا، جس کی تصاویر وزیر اعظم کے دفتر  نے ایکس پر جاری کیں۔

 

اس ملاقات میں شرد پوار کی دختر اور رکن پارلیمنٹ سپریا سولے بھی موجود تھیں۔ ملاقات کے دوران کسانوں کے مسائل، زراعت سے متعلق مشکلات اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرد پوار نے کسانوں کے مطالبات پر مبنی ایک یادداشت بھی وزیر اعظم کے حوالے کی۔

 

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ کچھ عرصے سے یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ شرد پوار کی این سی پی (ایس پی) این ڈی اے اتحاد کی حمایت کر سکتی ہے۔ تاہم ملاقات کے بعد سپریا سولے کا اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شرکت کرنا بھی خاصی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

 

دوسری جانب پارلیمنٹ میں حلقوں کی حد بندی سے متعلق مجوزہ بل کی منظوری کے لئے مرکزی حکومت دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں این سی پی (ایس پی) کی ممکنہ حمایت سے متعلق سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔

 

حال ہی میں مہاوکاس اگھاڑی اتحاد میں شامل شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے چھ ارکان پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کے گروپ میں شامل ہو گئے تھے، جس کے بعد اپوزیشن اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ان بدلتے سیاسی حالات میں شرد پوار کی شندے اور پھر وزیر اعظم مودی سے ملاقات نے سیاسی حلقوں میں نئی چہ مگوئیوں کو جنم دیا ہے۔

 

یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں این سی پی کے دونوں گروپ دوبارہ متحد ہو کر این ڈی اے کا حصہ بن سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button