یو پی آئی فیس کی تجویز سے عوام پریشان – وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے کیا بڑا انکشاف

یو پی آئی (UPI) ڈیجیٹل لین دین پر چارجس عائد کیے جانے کی تجویز سے متعلق خبروں اور عوام میں پیدا ہونے والے خدشات پر مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے سوشل میڈیا کے ذریعہ وضاحت پیش کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ نئی قانونی ترامیم کے باعث عام صارفین اور خریداروں پر کسی قسم کا اضافی چارج عائد نہیں ہوگا۔
مرکزی حکومت نے ’ٹیکسیشن اینڈ اَدر لاز بل 2026‘ کے ذریعہ ’پے منٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ 2007‘ کی دفعہ 10A میں تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے۔ وزیر فینانس کے مطابق یہ فیصلہ 2020 سے نافذ ’زیرو مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (زیرو ایم ڈی آر)‘ نظام میں ترمیم کے لیے کیا گیا ہے۔
نرملا سیتارامن نے کہا کہ یو پی آئی خدمات استعمال کرنے والے عام لوگوں سے کوئی چارج وصول نہیں کیا جائے گا۔ اگر کوئی فیس عائد کی بھی گئی تو وہ صرف ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں پر ہوگی، عام صارفین پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ’ٹیکسیشن اینڈ اَدر لاز بل 2026‘ میں ترمیم سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بینکوں اور پیمنٹ سروس پرووائیڈرز (PSPs) کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے بنیادی ڈھانچے، سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کو مزید جدید بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزیر فینانس نے مزید واضح کیا کہ یو پی آئی پر چارجز عائد کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) کی قیادت میں قائم کمیٹی جلد کرے گی۔




