عتیق احمد کے بیٹے کو 23 شدید زخم، جگر و پھیپھڑے پھٹ گئے، پسلیاں ٹوٹ گئیں – آبان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات
لکھنو: اترپردیش کے ضلع جھانسی میں سڑک حادثے میں جاں بحق ہونے والے مقتول سابق سیاست دان عتیق احمد کے سب سے چھوٹے بیٹے آبان احمد (21) کے پوسٹ مارٹم میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آبان کے جسم پر 23 شدید چوٹیں تھیں۔ تیز رفتار ٹکر کے باعث ان کا جگر، پھیپھڑے اور تلی پھٹ گئے تھے، کئی پسلیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں۔ جسم کے اندر شدید خون بہنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔
آبان کے پیچھے والی نشست پر بیٹھے ان کے ساتھی سونو کی موت سر کی ہڈی ٹوٹنے سے ہوئی، جبکہ ان کے دونوں ہاتھوں میں بھی فریکچر پایا گیا۔ جمعرات کی رات ساڑھے گیارہ بجے جھانسی میڈیکل کالج میں تین ڈاکٹروں کے پینل نے دونوں نعشوں کا پوسٹ مارٹم کیا۔
آبان کے بڑے بھائی احضم احمد پوسٹ مارٹم ہاؤس پہنچے۔ بھائی کی نعش دیکھتے ہی وہ زار و قطار رونے لگے۔ رشتہ داروں نے انہیں سنبھالا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس سے پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کی، تاہم افسران نے بتایا کہ رپورٹ بعد میں دی جائے گی۔
پوسٹ مارٹم کے بعد احضم احمد نے رشتہ داروں کی مدد سے دونوں نعشیں ایک ہی ایمبولینس میں رکھوائیں اور رات تقریباً 12 بجے پریاگ راج کے لئے روانہ ہوگئے۔ آج دونوں کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔
جمعرات کی صبح آبان اپنے بڑے بھائی علی احمد سے ملاقات کے لئے جھانسی جا رہے تھے، جو اس وقت جھانسی جیل میں قید ہیں۔ کریٹا کار میں ان کے ساتھ چار دوست بھی سوار تھے۔ جھانسی-کانپور ہائی وے پر جھانسی سے تقریباً 70 کلومیٹر پہلے پونچھ پولیس اسٹیشن علاقے میں ان کی کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں آبان اور سونو کی موت ہوگئی، جبکہ عمر احمد، محمد زید اور فاروق زخمی ہوگئے۔
پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر رجنیش نے بتایا کہ دونوں کی موت حادثہ میں لگنے والی شدید چوٹوں کے باعث ہوئی۔ آبان کے بعد سونو کی نعش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں ڈاکٹر پنکج مستاریا اور ڈاکٹر ضیا ظفر بھی شامل تھے۔
پولیس کے مطابق آبان اگلی نشست پر بیٹھے تھے جبکہ کار ان کے ساتھی محمد زید چلا رہے تھے۔ آبان کے پیچھے سونو بیٹھے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کار تقریباً 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی اور جس طرف آبان بیٹھے تھے، اسی جانب سے ڈیوائیڈر سے ٹکرائی۔ اسی وجہ سے انہیں سب سے زیادہ چوٹیں آئیں۔
حادثہ کے فوراً بعد موقع پر پہنچنے والے عینی شاہد دیپک یادو نے بتایا کہ انہوں نے زور دار آواز سنی تو فوراً جائے حادثہ پر پہنچے، مگر کار کا دروازہ نہیں کھل رہا تھا۔ وہ قریبی گھر سے لوہے کی سلاخ لے کر آئے اور دروازہ توڑ کر زخمیوں کو باہر نکالا۔
دیپک یادو کے مطابق انہوں نے سب سے پہلے ایک نوجوان کو باہر نکالا، جس کے منہ میں خون بھرا ہوا تھا۔ اس نے کہا، "میرا نام آبان ہے، مجھے بچا لو”، اور اتنا کہنے کے بعد بے ہوش ہوگیا۔
آبان جمعرات کی صبح پانچ بجے پریاگ راج سے جھانسی کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ پونچھ پولیس اسٹیشن علاقے میں ان کی کریٹا کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کار تقریباً سات فٹ ہوا میں اچھل گئی اور اس کے پرزے تقریباً چالیس فٹ تک ہائی وے پر بکھر گئے۔ کار کا بایاں حصہ بری طرح تباہ ہوگیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی آبان کے بڑے بھائی احضم احمد پریاگ راج سے جھانسی پہنچے۔ پہلے وہ جائے حادثہ پر گئے اور پولیس سے معلومات حاصل کیں، پھر سیدھے جھانسی میڈیکل کالج پہنچ کر زخمیوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کے قید بھائیوں کو آبان کی تدفین میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ ان کے پہنچنے کے بعد پولیس نے دونوں نعشوں کا پنچنامہ تیار کرکے پوسٹ مارٹم کرایا۔ احضم احمد نے پولیس کو تحریری درخواست بھی دی، جس کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
سونو کی نعش لینے کے لیے مدھیہ پردیش کے ضلع ستنا سے پہنچنے والے ان کے بہنوئی نے بتایا کہ سونو ٹریلر چلانے کا کام کرتے تھے۔ وہ کچھ عرصہ قبل دبئی سے واپس آئے تھے، لیکن کانوریوں کی یاترا کی وجہ سے کام بند تھا۔ وہ ڈرائیور محمد زید اور دیگر ساتھیوں کے دوست تھے، اسی لئے ان کے ساتھ جھانسی جا رہے تھے۔
جھانسی پولیس کے مطابق فارنسک ٹیم کو حادثہ زدہ کار سے سگریٹ کے پیکٹ، جوتے اور دو کتابیں "دی ایڈیٹ” اور "دی اسٹیشنری شاپ آف تہران” ملی ہیں۔ پولیس کا ماننا ہے کہ آبان یہ سامان اپنے بھائی علی احمد کے لیے لے جا رہے تھے۔ کار محمد زید چلا رہے تھے، جو عتیق احمد کی ماموں زاد بہن کے داماد ہیں۔ یہ کار انہیں شادی میں تحفے کے طور پر ملی تھی۔
عتیق احمد کے پانچ بیٹے تھے۔ آبان سب سے چھوٹے تھے۔ ان سے بڑے بھائی اسد احمد 2023 میں جھانسی میں پولیس انکاؤنٹر میں مارے گئے تھے۔ اب خاندان میں تین بیٹے باقی ہیں، جن میں عمر احمد لکھنؤ جیل، علی احمد جھانسی جیل میں قید ہیں، جبکہ احضم احمد گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ فروری 2023 میں پریاگ راج میں وکیل امیش پال کے قتل کے مقدمہ میں عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو پیشی کے لئے لایا گیا تھا۔ 15 اپریل 2023 کو دونوں کو پولیس حراست کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، جبکہ عتیق احمد کی اہلیہ شائستہ پروین اب بھی مفرور ہیں۔




