ناسک ٹی سی ایس معاملہ – ندا خان کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار مجلسی کارپوریٹر متین پٹیل کی ضمانت منظور

ناسک کی سیشن عدالت نے پیر کے روز ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (TCS) کے ناسک دفتر میں مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں گرفتار آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے کارپوریٹر متین مجید شیخ عرف متین پٹیل کو ضمانت منظور کرلی۔
ایڈیشنل سیشن جج کیدار راجارام جوگلیکر نے کہا کہ تفتیش کے دوران پولیس نے متین شیخ کی گرفتاری ضروری نہیں سمجھی تھی، اسی بنیاد پر انہیں ضمانت دی گئی۔
متین شیخ پر الزام تھا کہ انہوں نے اس معاملے کی ایک ملزمہ ندا خان کو پناہ دی تھی، جو گرفتاری سے بچ رہی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ متین شیخ کے خلاف صرف غیر ضمانتی جرم کے ملزم کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ موجودہ درخواست گزار کا معاملہ دیگر ملزمین سے مختلف ہے اور ان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 249 کے تحت صرف کسی ملزم کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ناسک پولیس نے TCS کے ناسک دفتر کے آٹھ ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ ان پر جنسی ہراسانی، مذہبی جذبات مجروح کرنے اور درج فہرست ذات و قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ ملزمین نے شکایت کنندہ کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے متاثر کرنے اور اس کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی سازش کی تھی۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ تفتیش کے دوران پولیس نے متین شیخ کی تحویل کبھی طلب نہیں کی۔ عدالت کے مطابق، تفتیشی افسر نے BNSS کی دفعہ 35(3) کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں جانے دیا تھا، جس کے بعد چارج شیٹ بھی داخل کردی گئی۔
تاہم، چارج شیٹ پیش کئے جانے کے بعد عدالت کی جانب سے باقاعدہ نوٹس دیے جانے کے باوجود متین شیخ عدالت میں حاضر نہیں ہوئے، جس کے بعد ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا۔ اس وارنٹ پر عمل درآمد کے بعد انہیں 7 اگست کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔
پیر کو ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ متین شیخ کو صرف عدالتی کارروائی میں حاضر نہ ہونے کی وجہ سے جیل بھیجا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ایسی صورت میں انہیں دیگر ملزمین کی طرح جیل میں رکھنے اور ضمانت مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
عدالت نے متین شیخ کو 75 ہزار روپے کے شخصی مچلکے اور اسی رقم کی ایک یا دو ضمانتیں پیش کرنے کی شرط پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ اس کیس میں متین پٹیل کی عمارت کو ضلع انتظامیہ نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منہدم کردیا تھا



