غوث نگر ہائی اسکول میں یومِ آزادی کی تین روزہ تقریبات، 500 سے زائد طلبہ کو میڈلز سے نوازا گیا

غوث نگر ہائی اسکول میں یومِ آزادی کی تین روزہ تقریبات، 500 سے زائد طلبہ کو میڈلز سے نوازا گیا
*طلبہ کی شاندار ثقافتی و تعلیمی پیشکشیں، حب الوطنی کے جذبے نے تقریب کو یادگار بنا دیا*
حیدرآباد، 17 اگست: گورنمنٹ ہائی اسکول غوث نگر میں یومِ آزادی کے موقع پر منعقدہ تین روزہ تقریبات جوش و خروش، حب الوطنی اور طلبہ کی غیر معمولی صلاحیتوں کے مظاہرے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئیں۔ تقریبات کے دوران طلبہ نے دیش بھکتی کے گیتوں، تقاریر، ثقافتی پروگراموں، تعلیمی سرگرمیوں اور مختلف تخلیقی پیشکشوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جبکہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے 500 سے زائد طلبہ کو میڈلز سے نوازا گیا۔
تین روزہ پروگرام کے دوران اسکول میں مختلف تعلیمی و ہم نصابی سرگرمیوں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں طلبہ نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ دیش بھکتی پر مبنی گیتوں، تقاریر اور ثقافتی پروگراموں نے تقریب میں قومی یکجہتی، حب الوطنی اور ہندوستان کی متنوع تہذیبی روایات کے رنگ نمایاں کیے۔ طلبہ کی پُراعتماد پیشکشوں کو اساتذہ اور حاضرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔
تقریب کا اہم پہلو طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے 500 سے زائد میڈلز کی تقسیم رہا۔ تعلیمی، ثقافتی، ہم نصابی اور مختلف سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو میڈلز سے نوازا گیا۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق اس طرح کی حوصلہ افزائی طلبہ میں خود اعتمادی، مسابقتی جذبہ اور مستقبل میں بہتر کارکردگی کے لیے تحریک پیدا کرتی ہے۔
حب الوطنی صرف نعرہ نہیں، ذمہ داری کا نام ہے: شاہد علی حسرت
اس موقع پر گورنمنٹ ہائی اسکول غوث نگر کے ہیڈ ماسٹر شاہد علی حسرت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حب الوطنی محض قومی پرچم لہرانے یا نعرے لگانے تک محدود نہیں، بلکہ وطن کی مٹی، اس کے عوام، آئین، قومی اقدار اور قومی اثاثوں سے محبت اور ان کے احترام کا نام ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم کا دیانت داری سے تعلیم حاصل کرنا، نظم و ضبط اختیار کرنا، اپنے فرائض کو سمجھنا، دوسروں کا احترام کرنا اور مستقبل میں ایک ذمہ دار شہری بن کر ملک کا نام روشن کرنا ہی حقیقی حب الوطنی ہے۔
شاہد علی حسرت نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے علم، کردار اور صلاحیتوں کو ملک و قوم کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کی حقیقی طاقت ان کے نوجوانوں کے کردار، علم، صلاحیت اور عزم میں پوشیدہ ہوتی ہے اور آج کے طلبہ ہی کل ملک کی ترقی و خوشحالی کے معمار بنیں گے۔
تقریب کی کامیابی میں اساتذہ کا کلیدی کردار
یومِ آزادی کی تین روزہ تقریبات کی کامیابی میں اسکول کے اساتذہ کی اجتماعی محنت اور باہمی تعاون نمایاں رہا۔ سید خالد محمد رفیع، حمیرا بیگم، عارفہ بیگم، حمیرا فاطمہ، نازیہ تنویر، رقیہ فاطمہ، سوری بلیم اسٹین، سمرین فاطمہ، فرحین خاتون، عرفانہ انجم، نسیم النسا، شیخ میمونہ بیگم، شگفتہ، یاسمین، اقبال حسین، تمیم الدین، عبداللہ، مظہر، اعجاز الدین، محمد وحید خان، عبدالحفیظ، سید سلیم الدین، محمد فرید الدین، اسماء جبین، مبینہ بیگم اور دیگر اساتذہ نے مختلف ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تقریب کی نظامت کے فرائض سمرین فاطمہ، سید خالد، عارفہ بیگم اور حمیرا فاطمہ نے انجام دیے، جبکہ رقیہ فاطمہ نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔
"ٹیم غوث نگر” کی اجتماعی کوشش قابلِ ستائش: ہیڈ ماسٹر
ہیڈ ماسٹر شاہد علی حسرت نے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل طاقت اس کی عمارت یا وسائل نہیں بلکہ اس کے مخلص، باصلاحیت اور متحد اساتذہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غوث نگر اسکول کی ان تقریبات کی کامیابی کسی ایک فرد کی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ پوری ٹیم کی اجتماعی محنت کا ثمر ہے۔ ہر استاد نے اپنی ذمہ داری کو ادارے کی مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہوئے انجام دیا، جس سے ایک منظم اور کامیاب پروگرام کا انعقاد ممکن ہوا۔
انہوں نے کہا:
"ایک فرد اچھا کام کرسکتا ہے، لیکن ایک متحد ٹیم غیر معمولی نتائج حاصل کرسکتی ہے۔ ٹیم غوث نگر کی اصل طاقت باہمی اعتماد، تعاون، خلوص اور ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرنے میں ہے۔”
شاہد علی حسرت نے Team Ghouse Nagar کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی کامیابی دراصل پوری ٹیم کی کامیابی ہے اور اسکول کے ہر معلم و معلمہ کا کردار اس کامیابی میں اہم ہے۔
ہر استاد کا فرداً فرداً شکریہ
ہیڈ ماسٹر نے تقریب کی کامیابی پر تمام اساتذہ کا فرداً فرداً نام لے کر شکریہ ادا کیا اور ان کی محنت، ذمہ داری، وقت کی پابندی، طلبہ کی تیاری اور پروگرام کے مختلف مراحل میں ادا کیے گئے کردار کی ستائش کی۔
انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی بہت سی خدمات ایسی ہوتی ہیں جو اسٹیج پر دکھائی نہیں دیتیں، تاہم طلبہ کی پُراعتماد پیشکش، ان کے چہروں کی خوشی اور ان کی کامیابی دراصل انہی اساتذہ کی پسِ پردہ محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔
انہوں نے پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ غوث نگر اسکول کے اساتذہ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے کہ واضح مقصد، مضبوط قیادت، باہمی تعاون اور ٹیم ورک کے ذریعے محدود وسائل میں بھی شاندار نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
تعلیم کے ساتھ کردار سازی پر زور
تقریبات کے اختتام پر شاہد علی حسرت نے کہا کہ اسکول کی سرگرمیوں کا مقصد صرف طلبہ کو اسٹیج فراہم کرنا نہیں بلکہ ان میں خود اعتمادی، قیادت، تخلیقی صلاحیت، باہمی تعاون، نظم و ضبط اور قومی شعور پیدا کرنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے؛ حقیقی تعلیم وہ ہے جو بچے کو علم کے ساتھ کردار، ذمہ داری اور انسانیت کا شعور بھی عطا کرے۔
غوث نگر ہائی اسکول کی تین روزہ یومِ آزادی تقریبات اسی پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئیں کہ وطن سے محبت کا بہترین اظہار ایک باکردار انسان اور ذمہ دار شہری بن کر ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرنا ہے۔
تقریب کے اختتام پر طلبہ کے ہاتھوں میں میڈلز، چہروں پر کامیابی کی مسکراہٹ اور دلوں میں وطن سے محبت کا جذبہ نمایاں تھا، جبکہ اساتذہ کی اجتماعی محنت نے "ٹیم غوث نگر” کے جذبے کو ایک بار پھر عملی طور پر ثابت کردیا۔




