تلنگانہ

جامعہ نظامیہ کی وقف اراضی کی نیلامی کے خلاف علماء و مسلم تنظیموں کو متحد کرنے محمد امتیاز اسحاق اور ایم اے حکیم کی کوشش

حیدرآباد: جامعہ نظامیہ کی قیمتی وقف اراضی کی نیلامی کے معاملہ پر مسلم مذہبی و سماجی حلقوں میں تشویش کے درمیان بی آر ایس کے سینئر قائد اور سابق چیئرمین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن محمد امتیاز اسحاق اور ایم اے حکیم کی قیادت میں علماء و مسلم تنظیموں کو متحد کرنے کی کوشش شروع کردی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں وفد نے حیدرآباد کی مختلف مذہبی تنظیموں کے سربراہان اور اسلامی علماء سے ملاقات کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر مشاورت کا آغاز کیا

 

۔اس وفد نے جماعت اسلامی ہند حلقہ تلنگانہ کے امیر جماعت محمد اظہرالدین اور تحریک مسلم شبان کے صدر جناب مشتاق ملک اور مولانا جعفر پاشاہ ثانی کے فرزند و دیگر شخصیات سے ملاقات کی.

 

ان ملاقاتوں کے دوران جامعہ نظامیہ کی وقف اراضی کی نیلامی کو انتہائی اہم معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وقف املاک مسلمانوں کی مذہبی اور اجتماعی امانت ہیں، جن کا تحفظ صرف کسی ایک ادارے یا تنظیم کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وفد نے علماء اور مسلم تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملہ پر متحد ہوکر آواز بلند کریں اور حکومت سے نیلامی کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کریں۔

 

جامعہ نظامیہ کی وقف اراضی کا معاملہ دراصل حیدرآباد کے رائے درگ علاقے میں واقع سروے نمبر 83/1 سے متعلق ہے۔ جامعہ نظامیہ اور وقف بورڈ سے وابستہ ذرائع کے مطابق مذکورہ اراضی کو وقف جائیداد قرار دینے والے دستاویزات موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وقف نامہ 13 اردی بہشت 1358 فصلی کو رجسٹر کیا گیا تھا، جبکہ 1990 کی دہائی اور بعد کے برسوں میں سرکاری محکمہ رجسٹریشن و اسٹامپس اور جامعہ نظامیہ کے درمیان ہونے والی مراسلت میں بھی اس جائیداد کے وقف ہونے کا حوالہ ملتا ہے۔

 

وفد میں نوید اقبال، جموں خان، بدرالدین، معراج خان، ایم اے معیز غوث اور دیگر افراد شامل تھے۔ مختلف ملاقاتوں میں حکومت کے خلاف احتجاجی پروگرام مرتب کرنے، قانونی و آئینی طریقہ کار اختیار کرنے اور وقف اراضی کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کے امکانات پر غور کیا گیا۔

 

محمد امتیاز اسحاق اور ایم اے حکیم کی جانب سے علماء اور مذہبی تنظیموں سے رابطہ مہم کو اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ مسلم حلقوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر وقف املاک کے تحفظ کے معاملہ پر بروقت متحدہ آواز بلند نہ کی گئی تو مستقبل میں دیگر قیمتی وقف جائیدادیں بھی تنازعات کی زد میں آسکتی ہیں۔

 

وفد کے ارکان کا کہنا ہے کہ اس معاملہ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر صرف وقف املاک کے تحفظ کے مسئلہ کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ آئندہ دنوں میں مزید علماء، دینی اداروں، مذہبی تنظیموں، قانونی ماہرین اور مسلم نمائندوں سے مشاورت کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج اور قانونی اقدامات کا مشترکہ لائحہ عمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button