جنرل نیوز

کاماریڈی میں اصلاحی و تربیتی اجتماع سے مفتی عبد الرشید قاسمی مظاہری ممبئی کا خطاب 

ایمان اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت اس کی قدر شکر گزاری کے ساتھ حفاظت کی فکر ہر مسلمان کی ذمہ داری 

کاماریڈی میں اصلاحی و تربیتی اجتماع سے مفتی عبد الرشید قاسمی مظاہری ممبئی کا خطاب 

 

نظام آباد 22/اگست (اردو لیکس)اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ایمان و توحید ہے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے محسنِ حقیقی اللہ تعالیٰ کو پہچانے اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے اور اپنی زندگی اس کے احکام کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے ممبئی سے تشریف لائے معروف عالمِ دین حضرت مولانا مفتی عبدالرشید صاحب قاسمی مظاہری دامت برکاتہم العالیہ نے مسجد نور مدرسہ مصباح الہدی کاماریڈی میں اصلاحی و تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ انسان دنیا میں کسی شخص کی طرف سے ملنے والے معمولی تحفے اور احسان کو بھی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کو اکثرفراموش کردیتا ہے

 

اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی صحت عقل آنکھیں کان ہاتھ پاؤں رزق اور بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور سب سے بڑھ کر ایمان و ہدایت کی دولت سے نوازا ہے حقیقی شکر یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں استعمال کرے حضرت مفتی صاحب نے کہا کہ دنیاوی مال جائیداد عہدہ شہرت اور اقتدار عارضی چیزیں ہیں جبکہ ایمان کی دولت انسان کی اصل کامیابی ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والا انسان مخلوق کی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات جب انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے تو وہ اپنی حقیقت اور زندگی کے مقصد کو بھی بھول جاتا ہے

 

اور کبھی مال کبھی شہرت کبھی خواہشات اور کبھی شخصیات کا غلام بن جاتا ہےانہوں نے واضح کیا کہ توحید صرف زبان سے کلمہ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات صفات قدرت علم اور اختیار میں کسی کو شریک نہ سمجھنا اور ہر حال میں اسی پر حقیقی اعتماد رکھنا توحید کا تقاضا ہے خوشحالی ہو یا پریشانی آسانی ہو یا مشکل مسلمان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط رہنا چاہیے اسباب اختیار کیے جائیں لیکن بھروسہ اللہ تعالیٰ ہی پر ہو رسالتِ محمدی ﷺ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب انسانیت گمراہی اور شرک کے اندھیروں میں بھٹک رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رحمت بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا آپ ﷺ نے انسانیت کو توحید عبادت اخلاق عدل و انصاف حقوق العباد اور پاکیزہ زندگی کا راستہ دکھایا آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور عقیدۂ ختمِ نبوت مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی عقیدہ ہے اس عقیدے کی حفاظت اور اس کی صحیح تعلیم نئی نسل تک پہنچانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ آج ہمیں صرف اپنی ذات کی اصلاح نہیں بلکہ اپنے گھروں اور نسلوں کی اصلاح کی بھی فکر کرنی چاہیے والدین اپنی اولاد کو قرآن کریم نماز بنیادی دینی تعلیم اور سنتِ نبوی ﷺ سے وابستہ کریں

 

بچوں کو دینی مکاتب سے جوڑنا اور ان کے عقیدہ و اخلاق کی تربیت کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے دینی اجتماعات کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مفتی عبدالرشید صاحب نے کہا کہ اصلاحی مجالس دینی اجتماعات مدارس اور مکاتب کا مقصد صرف تقریریں سننا یا چند گھنٹے گزارنا نہیں بلکہ زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنا ہے

 

مجلس سے اٹھتے وقت نماز کی پابندی سنتوں پر عمل گناہوں سے اجتناب والدین اور اہلِ خانہ کے حقوق کی ادائیگی معاملات کی درستگی اور حلال و حرام کا شعور پیدا ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے ہر شخص کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق کیسا ہے نماز اور قرآن سے اس کا رشتہ کتنا مضبوط ہے اس کے اخلاق کیسے ہیں اورمعاملات کس حد تک درست ہیں دین صرف مسجد تک محدود نہیں

 

بلکہ عبادات کے ساتھ حسنِ اخلاق معاملات کی پاکیزگی تجارت میں دیانت رشتہ داروں پڑوسیوں اور دیگر لوگوں کے حقوق کی ادائیگی بھی دین کا حصہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا نے مادی ترقی کے میدان میں بہت کچھ حاصل کیا ہے لیکن اس کے باوجود انسان سکون و اطمینان سے محروم ہوتا جارہا ہے گھروں میں بے سکونی رشتوں میں دوریاں خود غرضی اور اخلاقی زوال بڑھ رہا ہے

 

اس کی ایک بڑی وجہ اللہ تعالیٰ سے دوری اور تعلیماتِ نبوی ﷺ سے بے رغبتی ہےجس دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوجائے وہ مشکلات کے باوجود بے سہارا نہیں رہتاانہوں نے مسلمانوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنا چاہیے اور یہ عہد کرنا چاہیے کہ توحید کی حفاظت کریں گے رسالتِ محمدی ﷺ پر کامل ایمان رکھیں گے عقیدۂ ختمِ نبوت کی صحیح تعلیم اپنی نسلوں تک پہنچائیں گے نماز کی پابندی کریں گے سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے اپنے اخلاق و معاملات درست کریں گے

 

حقوق العباد ادا کریں گے اور اپنے گھروں کو دینی ماحول فراہم کریں گے آخر میں حضرت مولانا مفتی عبدالرشید قاسمی مظاہری دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا کہ دنیا کی دولت عہدے شہرت اور جائیداد سب ختم ہونے والی چیزیں ہیں لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو ایمان توحید رسالتِ محمدی ﷺ اور سنت کی دولت عطا فرمادی تو یہی حقیقی کامیابی ہے دینی مجلس کی اصل کامیابی اس میں نہیں کہ کتنے لوگ شریک ہوئے یا کتنی دیر بیٹھے بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ مجلس سے اٹھنے کے بعد کتنی زندگیوں میں اصلاح اور مثبت تبدیلی پیدا ہوئی موجودہ دور میں والدین کی ذمہ داری صرف اپنی اولاد کی دنیاوی تعلیم اور مستقبل کی معاشی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ ان کے ایمان عقیدہ دینی فکر اخلاق اور کردار کی حفاظت بھی ہے بچوں کو اسکول کالج اور اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ انہیں قرآن و سنت اور بنیادی اسلامی عقائد کی تعلیم دینا بھی ناگزیر ہے

 

آج بچوں اور نوجوانوں کو مختلف ذرائع ابلاغ سوشل میڈیا اور متنوع فکری ماحول سے واسطہ پڑتا ہے ایسے ماحول میں اگر گھر سے صحیح دینی بنیاد فراہم نہ کی جائے تو وہ مختلف گمراہ کن نظریات اور باطل افکار سے متاثر ہوسکتے ہیں اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے ماحول صحبت مطالعے اور فکری رجحانات سے باخبر رہیں اور محبت و حکمت کے ساتھ ان کی دینی رہنمائی کریں مکاتب اور دینی تربیت گاہوں سے بچوں کو جوڑنا ضروری ہے مفتی صاحب نے بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ہر مسلمان گھرانے کو اپنی اولاد کو دینی مکاتب سے وابستہ کرنے کی فکر کرنی چاہیے مکتب صرف ناظرہ قرآن پڑھانے کی جگہ نہیں، بلکہ بچوں کے عقائد عبادات مسنون دعاؤں اسلامی آداب اور اخلاق و کردار کی بنیادی تربیت کا اہم ذریعہ ہےاگر بچے کم عمری ہی سے نماز، قرآن، سنت، حلال و حرام اور اسلامی آداب سے واقف ہوجائیں تو ان کے اندر دین سے تعلق مضبوط ہوتا ہے

 

اور وہ بڑے ہوکر فکری و اخلاقی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کرسکتے ہیں کاماریڈی میں مساجد کی تعمیر و آبادی مکاتب و مدارس کی دینی سرگرمیوں اور تحفظِ ختمِ نبوت کے سلسلے میں جاری کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تمام دینی خدمات اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہیں کسی شخص کو دینی خدمت کا موقع مل جائے تو اسے اپنا کمال سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے

 

دینی کام کرنے والوں کو چاہیے کہ اخلاص کے ساتھ خدمتِ دین جاری رکھیں ایک دوسرے کی قدر کریں اور اصل مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں دینی خدمت میں شہرت نام و نمود اور ذاتی مفاد شامل ہوجائے تو اس کی روح متاثر ہوجاتی ہے اس لیے ہر مرحلے پر نیت کی اصلاح ضروری ہے

 

نیز عامۃ المسلمین سے کہا کہ وہ اپنی مالی ترجیحات پر غور کریں غیر ضروری تقریبات نمائشی اخراجات اور وقتی آسائشوں پر بڑی رقوم خرچ کرنے کے بجائے مساجد مکاتب مدارس اور دینی و اخلاقی تربیت کے منصوبوں کو ترجیح دی جائےآج ایک مسجد تعمیر کرنا یقیناً بڑی سعادت ہے لیکن اس مسجد کو آباد رکھنے والی نسل تیار کرنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے اسی طرح مدرسہ اور مکتب کی عمارت بنانا ضروری ہے لیکن وہاں بچوں کی صحیح دینی اخلاقی اور اعتقادی تربیت کا مضبوط انتظام کرنا اصل مقصد ہےاپنی اصلاح کے بغیر دینی کام ادھورے ہیں یہ بھی واضح کیا گیا کہ دینی کام صرف دوسروں کی اصلاح کا نام نہیں بلکہ جو شخص دین کی خدمت کررہا ہے

 

اسے سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اس کی نماز معاملات اخلاق گھر والوں کے ساتھ برتاؤ اور حقوق العباد کی ادائیگی درست ہونی چاہیےدینی کام کی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان خود بھی بدلے اس کا گھر بھی بدلے اور اس کے ذریعے معاشرے میں بھی خیر پیدا ہوآخر میں اس عزم کی ضرورت پر زور دیا گیا کہ ہر گھر اپنے بچوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے انہیں دینی ماحول فراہم کرے مکاتب و مدارس سے وابستہ کرے اور نئی نسل کو قرآن و سنت سے مضبوطی کے ساتھ جوڑنے کے لیے اجتماعی طور پر سنجیدہ اور مستقل کوشش کی جائےحافظ محمد فہیم الدین منیری ناظم مدرسہ مصباح الہدیٰ و امام و خطیب مسجد نور نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مدرسہ سے حفظِ قرآنِ مجید مکمل کرنے والے 8 طلبۂ کرام اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی

 

ساتھ ہی مدرسہ کے تمام معاونین بالخصوص طلبۂ کرام کی کفالت کرنے والے احباب کا خصوصی طور پر اظہارِ تشکر کیا حضرت مولانا مفتی عبدالرشید صاحب قاسمی مظاہری دامت برکاتہم العالیہ سرپرستِ مدرسہ ہٰذا نے حفاظِ کرام کی تکمیلِ حفظ پر خصوصی دعا فرمائی محترم جناب محمد انور صاحب دامت برکاتہم مجازِ صحبت حضرت مولانا منیر احمد صاحب نوراللہ مرقدہ نے صدارت فرمائی محمد نواز خان صاحب رکنِ شوریٰ مسجد نور نے حفاظِ کرام کو تہنیت پیش کی جبکہ حافظ محمد عبدالواجد حلیمی نے اظہارِ تشکر کے کلمات پیش کیے حافظ محمد عبدالرحمن حلیمی کی قرات کلام پاک سے اصلاحی تربیتی اجتماع کا بابرکت آغاز ہوا اس موقع پر الحاج شیخ مقیم الدین صدر مسجد نور محمد جاوید علی خازنِ مدرسہ حافظ محمد یوسف حلیمی محمد فیروز الدین محمد عبدالرزاق حافظ سید عمران احمد اور مسجد و مدرسہ کے کارکنان نے مہمانوں کا استقبال کیا مدرسہ کے اساتذۂ کرام کی دینی و تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں تہنیت پیش کی گئی

متعلقہ خبریں

Back to top button