نیشنل

بیرون ملک سفر کرنے والوں کیلئے راحت کی خبر، اب بورڈنگ پاس پر امیگریشن کی مہر کی شرط ختم

نئی دہلی: انٹر نیشنل ایرپورٹس پر قطاروں اور کاغذی کارروائیوں سے دوچار ہونے والے مسافروں کو حکومت نے بڑی راحت دی ہے۔ وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کے تحت کام کرنے والے ’بیورو آف امیگریشن‘ (بی او آئی) نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ یکم ستمبر سے امیگریشن کاؤنٹروں پر بورڈنگ پاس پر مہر لگوانے کا پرانا نظام ختم کر دیا جائے گا۔

 

اس فیصلے کے بعد بیرون ملک جانے والے مسافر اپنے اسمارٹ فون پر موجود ’الیکٹرانک بورڈنگ پاس‘ (ای- بورڈنگ پاس) دکھا کر آسانی سے امیگریشن کلیئرنس حاصل کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ سفر کا تجربہ بھی زیادہ سہل اور آسان ہو جائے گا۔

 

اب تک بیرون ملک جانے کے وقت مسافروں کو امیگریشن کاؤنٹر پر اپنا پرنٹ شدہ بورڈنگ پاس دکھانا ہوتا تھا جس پر حکام مہر لگاتے تھے۔ یکم ستمبر سے اس لازمی ضابطے کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اب فزیکل بورڈنگ پاس کے ساتھ ساتھ ای- بورڈنگ پاس بھی امیگریشن کاؤنٹروں پر قابل قبول ہوں گے۔

 

بیورو آف امیگریشن نے موجودہ طریقہ کار کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے حکام کو اس نئی ہدایت سے آگاہ کر دیا ہے۔اس نئے ضابطے کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ آپ کے ہاتھ میں موجود کاغذی بورڈنگ پاس فضول ہو جائے گا۔

 

جو مسافر ڈیجیٹل طریقے کے بجائے پرنٹ شدہ بورڈنگ پاس رکھنا پسند کرتے ہیں، وہ پہلے کی طرح ہی اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ فرق صرف اتنا آئے گا کہ یکم ستمبر سے امیگریشن آفیسرس اس کاغذ پر کوئی مہر نہیں لگائیں گے۔ مسافروں کو یہ مکمل آزادی ہوگی کہ وہ اپنی سہولت کے مطابق ڈیجیٹل پاس دکھائیں یا پھر پرنٹ شدہ کاپی ساتھ رکھیں۔

 

بس مہر لگوانے کی جو لازمی شرط تھی وہ اب ختم ہو جائے گی۔ بیورو آف امیگریشن نے پایا کہ بورڈنگ پاس پر مہر لگانے کا یہ پرانا طریقہ مسافروں کے لیے بلاوجہ کی پریشانی پیدا کر رہا تھا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ غلط یا بے ترتیب طریقے سے مہر لگنے کی وجہ سے بورڈنگ پاس پر درج ضروری معلومات پڑھ پانا بہت مشکل ہو جاتا تھا۔

 

انہی عملی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مہر لگانے کے اس نظام کو مستقل طور پر ختم کر دیا جائے، تاکہ سفر کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button