جرائم و حادثات

خاتون کا قتل، سوٹ کیس میں جسم کے ٹکڑے – باقی اعضا سے بریانی بنانے کی کوشش ؛ مقتولہ کی شناخت حیات نشا کے طور پر ہوئی

نئی دہلی :  چنئی سے دہلی جانے والی ٹرین میں ملنے والے سوٹ کیس میں خاتون کی نعش کے ٹکڑے برآمد ہونے کے معاملہ کو پولیس نے حل کرلیا ہے۔ اترپردیش کے آگرہ ریلوے اسٹیشن پر ملنے والے سوٹ کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس کو اس کے تار چنئی سے ملے۔ 350 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کے بعد پولیس مشتبہ افراد کے گھر تک پہنچ گئی،

 

جہاں خون کے دھبوں سمیت کئی اہم شواہد ملے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ خاتون کے جسم کے ٹکڑے کرنے کے بعد کچھ حصے سوٹ کیس میں رکھ کر ٹرین کے ذریعہ بھیجے گئے، جبکہ باقی حصوں کو بظاہر شواہد مٹانے کے لئے بریانی میں پکانے کی کوشش کی گئی۔

 

آگرہ میں سوٹ کیس سے پھیلی سنسنی

5 اگست کو چنئی سے دہلی روانہ ہونے والی تمل ناڈو ایکسپریس آگرہ ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ ٹرین کے ایک جنرل کمپارٹمنٹ سے شدید بدبو آنے پر مسافروں نے ریلوے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے تلاشی لی تو سرخ رنگ کا ایک مشتبہ سوٹ کیس ملا۔ اسے کھولنے پر خاتون کے جسم کے ٹکڑے برآمد ہوئے، جس سے اسٹیشن پر سنسنی پھیل گئی۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ سوٹ کیس چنئی سے ہی ٹرین میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد آگرہ پولیس نے تمل ناڈو پولیس سے رابطہ کیا۔

 

350 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ

معاملہ کی تحقیقات کے لئے چنئی پولیس نے چنئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن اور اطراف کے علاقوں میں نصب 350 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگالی۔ اس دوران ایک مرد اور ایک خاتون کو سرخ رنگ کے سوٹ کیس کے ساتھ اسٹیشن پہنچتے ہوئے دیکھا گیا۔ دونوں نے سوٹ کیس تمل ناڈو ایکسپریس میں رکھا اور وہاں سے چلے گئے۔ بعد میں دونوں چنئی پارک ریلوے اسٹیشن سے مضافاتی ٹرین میں سوار ہوکر گڈووانچیری پہنچے۔

 

گڈووانچیری ریلوے اسٹیشن کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے پر پولیس کو دونوں افراد سوٹ کیس کے ساتھ ایک آٹو میں جاتے ہوئے نظر آئے۔ آٹو کا پیچھا کرتے ہوئے پولیس گڈووانچیری مسجد اسٹریٹ میں واقع ان کے گھر تک پہنچ گئی۔ گھر کی تلاشی کے دوران قتل سے متعلق اہم شواہد ملے۔ کمروں میں خون کے دھبے دیکھ کر پولیس کا شبہ مزید مضبوط ہوگیا۔

 

بریانی کے بگونے میں بھی انسانی جسم کے ٹکڑے

پولیس کو گھر میں ایک بڑا بریانی کا بگونہ بھی ملا۔ بگونہ کو ڈھکن سے بند کرکے اس کے اطراف میدے کا لیپ کیا گیا تھا۔ ڈھکن کھولنے پر چاولوں کے ساتھ انسانی جسم کے ٹکڑے دیکھ کر پولیس اہلکار بھی حیران رہ گئے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ خاتون کے جسم کے کچھ حصے کاٹ کر سوٹ کیس میں رکھے گئے اور باقی حصوں کو پکا کر شواہد مٹانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم مقتولہ کا سر تاحال برآمد نہیں ہوا اور پولیس اس کی تلاش کر رہی ہے۔

 

تحقیقات میں مقتولہ کی شناخت اڈیشہ سے تعلق رکھنے والی حیات نشا کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ شوہر سے علیحدگی کے بعد چنئی میں رہ رہی تھی۔ پولیس کے مطابق اس کا 19 سالہ بیٹا تامبرم علاقے میں اے سی مکینک کے طور پر کام کرتا ہے۔

 

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ نشا کے ساتھ مانک اُتین لسکر اور اس کی بیوی بھاگمتی ماجک بھی رہتے تھے۔ دونوں نے خود کو نشا کا رشتہ دار بتایا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ لسکر اور اس کی بیوی نے نشا کو قتل کیا، تاہم قتل کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہوسکی ہے۔

 

پولیس مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا نشا کو رقم اور زیورات کے لئے قتل کیا گیا یا پھر اس کے اور مشتبہ افراد کے درمیان کسی ذاتی تنازعہ نے اس قتل کی وجہ بنی۔ پولیس مقتولہ کے بیٹے سے بھی پوچھ تاچھ کر رہی ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ نشا کے کن افراد سے روابط تھے، اس نے آخری مرتبہ کس سے ملاقات کی تھی اور مشتبہ جوڑے کے ساتھ اس کے تعلقات کس نوعیت کے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button