آنکھوں میں مرچ پاؤڈر چھڑک کر پولیس پر حملہ، تین ملازمین زخمی ۔ دہلی میں واقعہ

نئی دہلی۔تین پولیس ملازمین اس وقت زخمی ہوگئے جب مبینہ طور پر موٹر سائیکل ضبط کیے جانے پر ہونے والے تنازعہ کے دوران ایک گروپ نے ان پر اینٹوں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا اور ان کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر چھڑک دیا۔
یہ واقعہ ہفتے کی دوپہر دہلی کے بھلسوا ڈیری علاقے میں واقع مکندپور کے جنتا وہار علاقے میں پیش آیا۔ پولیس ملازمین معمول کی گشت اور چیکنگ کر رہے تھے۔ چیکنگ کے دوران پولیس نے ایک موٹر سائیکل ضبط کی جسے مبینہ طور پر درست دستاویزات کے بغیر چلایا جا رہا تھا اور اسے پولیس اسٹیشن لے گئی۔
دہلی پولیس کے مطابق تقریباً ساڑھے تین بجے موٹر سائیکل کے مالک اور اس کے ارکان خاندان نے موٹر سائیکل ضبط کیے جانے پر پولیس حکام سے بحث شروع کردی صورتحال جلد ہی پرتشدد ہوگئی۔ مبینہ طور پر گروپ نے پولیس ملازمین کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر پھینکا اور ان پر اینٹوں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔
ابتدائی طور پر دو ہیڈ کانسٹیبلز، دنیش اور راجیش پر حملہ کیا گیا۔ ایک اور ہیڈ کانسٹیبل تینو، جو اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے موقع پر پہنچے انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ایک پولیس آفیسر نے بتایا ” موٹر سائیکل کے مالک اور اس کے خاندان کے کچھ افراد نے پولیس ملازمین سے مبینہ طور پر جھگڑا کیا اور پرتشدد ہوگئے۔ ملزمین نے پولیس ملازمین کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر چھڑک دیا اور ان پر اینٹوں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے پہنچنے والے ہیڈ کانسٹیبل تینو پر بھی حملہ کیا گیا۔”
اس حملے میں تینوں پولیس ملازٹ زخمی ہوئے۔ ہیڈ کانسٹیبل دنیش کے سر پر چوٹ آئی۔ زخمی ملازمین کو طبی امداد فراہم کی گئی اور ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔مقامی افراد کی مدد سے پولیس نے موقع سے ایک 17 سالہ نابالغ کو حراست میں لے لیا۔ دیگر ملزمین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جنہیں تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
دہلی پولیس نے سنیل عرف پنکج کو اس معاملے میں مرکزی ملزم اور مبینہ حملہ آور قرار دیا ہے۔ پولیس کے مطابق پنکج علاقے کا ایک بدنام شخص ہے اور اس کے خلاف پہلے بھی پانچ مجرمانہ مقدمات درج ہوچکے ہیں جن میں سنگین جرائم سے متعلق مقدمات اور نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ (NDPS ایکٹ) کے تحت دو مقدمات بھی شامل ہیں۔
بھلسوا ڈیری پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔مزید تفتیش جاری ہے اور باقی ملزمین کو گرفتار کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔



