جنرل نیوز

گلف این آرآئیز کے مسائل کی یکسوئی کیلئے مرکز سے نمائندگی ۔ این آرآئیز کے ساتھ عنقریب اہم اجلاس محمدقیصر کی تہنیتی تقریب سے بنڈارودتاتریہ کا خطاب 

حیدرآباد، 23 اگست۔ سابق مرکزی وزیر اور سابق گورنر بندارو دتاتریہ نے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانی برادری کو یقین دلایا کہ وہ ان کے دیرینہ مسائل کو ذاتی طور پر حکومتِ ہند کے سامنے پیش کریں گے اور ان کے حل کے لیے مؤثر کوششیں کریں گے۔

 

دتاتریہ نے ریاض میں تنظیم ہم ہندوستانی کے صدر اور عثمانیہ یونیورسٹی ایلومنائی ایسوسی ایشن، ریاض کے صدر محمد قیصر کے اعزاز میں میڈیاپلس اڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ سعودی عرب میں مقیم این آر آئی برادری کی جانب سے منعقدہ اس تقریب میں 200 سے زائد افراد، کمیونٹی رہنماؤں اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔

 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دتاتریہ نے کہا کہ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانیوں کے مسائل مرکزی حکومت تک پہنچائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان مسائل کو حکومت کے علم میں لانے اور مناسب حل تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے خلیجی ہندوستانی برادری کے ساتھ اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔دتاتریہ نے محمد قیصر کو روایتی پھولوں کا ہار، شال اور یادگاری تحفہ پیش کرکے اعزاز سے نوازا۔ انہوں نے قیصر کو ایک باصلاحیت اور مخلص شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کئی دہائیوں سے ریاض میں اپنے ہم وطنوں کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 

سابق مرکزی وزیر نے انوارالعلوم کالج کے سابق طالب علم کی حیثیت سے اپنی وابستگی کو بھی یاد کیا۔ اس موقع پر محمد قیصر، جو انوارالعلوم ایوننگ کالج کے سابق طالب علم اور سابق اسٹوڈنٹس یونین صدر بھی رہ چکے ہیں، نے ریاض میں اپنی کئی دہائیوں پر محیط سماجی خدمات اور ذاتی تجربات کا ذکر کیا۔انہوں نے خلیجی ممالک میں مقیم ہندوستانیوں کو درپیش متعدد حل طلب مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا کہ انہیں ’کنٹریکٹ لیبر‘ کا سرکاری درجہ دیا جائے، تاکہ وہ ہندوستان واپسی کے بعد مختلف سرکاری اسکیموں سے استفادہ کرسکیں۔

 

محمد قیصر نے کہا کہ خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں ہندوستانی سخت محنت کرکے نہ صرف اپنا روزگار کماتے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کی کفالت بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خدمات اور ملک و خاندان کے لیے ان کی قربانیوں کو مزید سرکاری اور ادارہ جاتی طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ریاض اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد قیصر کے دیرینہ دوستوں اور رفقا نے سعودی عرب میں ان کے ساتھ گزاری ہوئی کئی دہائیوں کی رفاقت اور یادوں کا تذکرہ کیا۔

 

تقریب سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر نیاز احمد خان، ڈاکٹر محمد اشرف علی، ڈاکٹر عابد معیز، ڈاکٹر خواجہ ناصرالدین، ڈاکٹر شجاعت علی صوفی، ڈاکٹر فاضل حسین پرویز، ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد، پروفیسر ایس اے شکور اور بندارو دتاتریہ شامل تھے۔ تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر نیاز احمد خان، یونس سلیم، ایڈوکیٹ محمد ولی الرحمٰن اور شاہ غلام سبحانی نے مہمانِ خصوصی، مہمانِ اعزاز اور دیگر معزز مہمانوں کو گلدستے پیش کیے۔ سینئر صحافی و فوٹو جرنلسٹ کے این واصف، کنوینر و چیئرمین آرگنائزنگ کمیٹی، نے تقریب کی صدارت کی۔ انہوں نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا

 

اور محمد قیصر کی خدمات اور شخصیت کا مختصر تعارف پیش کیا۔ تقریب کی نظامت شریک کنوینر، سید ضیاء الرحمٰن، ایڈیٹر و سی ای او YaHind.Com نے انجام دی۔ تقریب کے اختتام پر محمد قیصر کے متعدد دیرینہ دوستوں اور خیرخواہوں نے ایک بار پھر انہیں ہار اور شال پیش کرکے خراجِ تحسین پیش کیا۔ میڈیا پلس کی جانب سے بھی انہیں روایتی شال پیش کی گئی۔

 

اس موقع پر میڈیا پلس کے سی ای او محمد خالد شہباز نے میڈیا پلس دفتر کے اپنے پہلے دورے پر بندارو دتاتریہ کو یادگاری تحفہ پیش کیا۔ سینئر صحافی میر محسن علی، شریک کنوینر، نے کلماتِ تشکر پیش کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، معزز شخصیات، منتظمین اور تمام شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے اظہارِ تشکر میں محمد قیصر نے ایک مرتبہ پھر اس جانب توجہ دلائی کہ تمام این آر آئیز خوشحال نہیں ہیں اور بہت سے افراد ہندوستان واپس آنے کے بعد بھی سنگین مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

 

اس پر فوری ردعمل دیتے ہوئے بندارو دتاتریہ نے کمیونٹی سے کہا کہ وہ ایک مختصر وفد کی شکل میں ان کی رہائش گاہ پر آئے اور اپنے مطالبات پر مشتمل تحریری یادداشت پیش کرے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اس تجویز کو حکومت تک پہنچائیں گے۔ توقع ہے کہ این آر آئی برادری کا ایک وفد جلد ہی دتاتریہ سے ملاقات کرے گا۔

 

تقریب میں متین مجددی، معین بیگ، وقار حسینی، سید ذبیح الرحمٰن، محمد صمد، محمد سلیم، عبد القیوم مخفی، آصف علی، قاسم مصطفیٰ، تاجمل علی خان، محمد بن زبیر، حامد کمال، محمد مظفر احمد، شیخ رفیع، مرزا انور بیگ اور خلیل اللہ حسینی کے صاحبزادے ایوب حسینی سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button