دو خاتون پولیس کانسٹیبلس کی شادی کی تیاری، پولیس محکمہ میں بحث

ممبئی: ریاست مہاراشٹرا پِمپری-چِنچواڑ پولیس کمشنریٹ سے تعلق رکھنے والی دو خاتون کانسٹیبلوں نے 30 اگست کو الندی میں شادی کی تقریب منعقد کرنے کی تیاری کی ہے جس کے باعث پولیس محکمہ میں یہ معاملہ موضوع بحث بن گیا ہے۔
دونوں خواتین گزشتہ تین سال سے ایک ساتھ رہ رہی ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد نے اس رشتے کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس حکام سے رجوع کیا تاہم حکام نے واضح کیا کہ دونوں بالغ ہیں اس لیے ان کے ذاتی فیصلے میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔
بھارت میں بالغ افراد کے درمیان ہم جنس تعلقات قانونی ہیں لیکن 2023 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایسی شادی کو فی الحال فوری طور پر قانونی ازدواجی حیثیت حاصل نہیں ہوتی تاہم اس جوڑے میں سے ایک کانسٹیبل اس وقت جنس کی تبدیلی کے طبی علاج سے گزر رہی ہے۔
دونوں کا ارادہ ہے کہ علاج مکمل ہونے کے بعد اپنی شادی کو قانونی طور پر رجسٹر کرائیں۔اسی پولیس کمشنریٹ میں ایک اور پولیس ملازم نے بھی جنس کی تبدیلی کے بعد اپنے سروس ریکارڈ میں ذاتی تفصیلات تبدیل کرنے کے لیے حکومت سے درخواست کی ہے۔
یہ درخواست ابھی زیرِ غور ہے۔مجموعی طور پر یہ دونوں الگ الگ واقعات ایک بار پھر ذاتی آزادی، صنفی شناخت، پولیس سروس کے قوانین اور ہم جنس تعلقات کی قانونی حیثیت جیسے اہم معاملات پر بحث کا باعث بن گئے ہیں۔



