بی آر ایس پر قبضہ کرنے ہریش راؤ کی سازش : کے کویتا

بی آر ایس پر قبضہ کرنے ہریش راؤ کی سازش۔
تلنگانہ کے اداروں میں آندھرائی افراد کے تقرر پر روک لگائی جائے
چیف منسٹر ریونت ریڈی آندھراکے ایجنٹ۔ صدر ٹی آر ایس کویتا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا کہ ’گُنتا نَکّا‘ (ہریش راؤ) بی آر ایس پر قبضہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے لئے پردے کے پیچھے سازشیں کی جارہی ہیں۔ جمعرات کو بنجارہ ہلز میں تلنگانہ رکشنا سینا کے دفتر میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ این ٹی آر کے خلاف چندرا بابو نائیڈو کی مبینہ بغاوت کی طرح کے سی آر کے خلاف بھی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں میدک کے بعض ارکانِ اسمبلی سے خفیہ مشاورت کی گئی اور کہا گیا کہ کے سی آر کی سیاسی جانشینی کے ٹی آر کو نہیں ملنی چاہئے۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ہریش راؤ ایک طرف بی جے پی اور دوسری طرف ’گُپُّمِستری‘ (ریونت ریڈی) کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ ہریش راؤ کی دوستی کے سلسلے میں ان کے پاس شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق راج پُشپا اسکائی واک اوپن ولاز میں بی جے پی کے ایک اہم رہنما کے ساتھ ہریش راؤ کی اکثر ملاقاتیں ہوتی ہیں اور جس دن اس رہنما کے ساتھ ملاقات ہوتی ہے، ہریش راؤ اپنے دیگر پروگرام منسوخ کردیتے ہیں۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ ہریش راؤ اور ’گُپُّمِستری‘ کے درمیان حال ہی میں لندن میں خفیہ ملاقات ہوئی اور دونوں کے درمیان مفاہمت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ کے وزیرِ صحت رہنے کے دوران نارائنا اور چیتنیہ کالجس کو ماہانہ تقریباً 5 کروڑ روپئے کا دودھ فراہم کیا گیا اور آٹھ سال کے دوران دونوں اداروں کے ذریعے 960 کروڑ روپئے کا کاروبار ہوا۔ اس کے علاوہ کامینینی، یشودھا اور کِمس جیسے کارپوریٹ اسپتالوں کو بھی دودھ کی سربراہی کی گئی
۔ کویتا نے کہا کہ ماضی میں فون ٹیپنگ اور کالیشورم معاملات میں ہریش راؤ کا نام لینے والے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اب خاموش کیوں ہیں، اس کی وضاحت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں ہونے والی مبینہ مفاہمت کی تفصیلات تلنگانہ رکشنا سینا کی جانب سے ایک ایک کرکے عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
تلنگانہ رکشنا سینا چیف نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ تلنگانہ کے مفادات کو گروی رکھ کر آندھرا کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے برہمن پریشد کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدوں پر آندھرا سے تعلق رکھنے والے افراد کی تقرری پر اعتراض کیا اور سوال کیا کہ کیا تلنگانہ کے برہمنوں میں اہل افراد موجود نہیں ہیں۔کویتا نے برہمن پریشد کے چیئرمین بسواراجو سرینواس راجو پر تلنگانہ مخالف ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران تلنگانہ حامیوں اور دلتوں کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے شخص کو اہم عہدہ دینا افسوسناک ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ برہمن پریشد کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدے فوری طور پر تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیئے جائیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ جنا سینا سے وابستہ ایک رکنِ پارلیمنٹ کے بیٹے کی گاڑی سے اوڈیشہ سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ لڑکی کی ہلاکت کے معاملے میں پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں متعدد تفصیلات درج نہیں کی گئیں۔ انہوں نے حکومت اور ڈی جی پی سے سوال کیا کہ کیا دوسرے مقدمات میں بھی اسی طرح ایف آئی آر درج کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رہنما کے بیٹے کے معاملے میں سخت کارروائی ہوسکتی ہے تو آندھرا کے بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والے شخص کے معاملے میں کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ہے؟
کویتا نے الزام عائد کیا کہ ریڈکو کے چیئرمین، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سکریٹری، برقی اور آبپاشی کے محکموں سمیت کئی اہم شعبوں میں آندھرا کے افراد کا غلبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بایوکان کمپنی میں تلگو زبان بولنے کی وجہ سے تقریباً 200 افراد کو ملازمت سے ہٹائے جانے کے معاملے پر بھی وزیراعلیٰ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تلنگانہ کے پانی اور دیگر وسائل کے معاملے میں بھی ریاستی حکومت خاموش ہے اور اہم کنٹراکٹ مسلسل آندھرا سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیئے جارہے ہیں۔ کویتا نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کو واقعی تلنگانہ سے وفاداری ہے تو انہیں فوری طور پر برہمن پریشد کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے عہدوں پر تلنگانہ کے افراد کو مقرر کرنا چاہئے اور ریاست کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہئے۔کلواکنٹلہ کویتا نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کی ناکامیوں پر سوال اٹھانے کے بجائے بی آر ایس نے حکومت سے مکمل سمجھوتہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ مبینہ طور پر دودھ کے کاروباری مفادات اور کے ٹی آر مبینہ طور پر رئیل اسٹیٹ کے تعلقات کی وجہ سے حکومت کے خلاف آواز نہیں اٹھارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اب یہ دعویٰ کررہی ہے کہ کانگریس حکومت ناکام ہوچکی ہے اور بی آر ایس دوبارہ اقتدار میں آئے گی، لیکن ان کے مطابق بی آر ایس نے اپنے دورِ اقتدار میں مبینہ طور پر منظم بدعنوانی کو فروغ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آبپاشی، دودھ کے کاروبار، رئیل اسٹیٹ اور ریت کے کاروبار کو مختلف افراد میں تقسیم کرکے مفادات کا نظام قائم کیا گیا۔کویتا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دونوں جماعتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور ایسی سیاسی قوت کو موقع دیں جو شفافیت، بدعنوانی سے پاک حکمرانی اور نئے لوگوں کو مواقع فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ اور عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کرے گی۔



