تاریخی مکہ مسجد میں 47واں مرکزی جلسۂ جشنِ عید میلادالنبی ﷺ، تزک و احتشام کے ساتھ انعقاد

تاریخی مکہ مسجد میں 47واں مرکزی جلسۂ جشنِ عید میلادالنبی ﷺ، تزک و احتشام کے ساتھ انعقاد

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری مولانا سید علی پاشاہ قادریمولانا ڈاکٹر سید شاہ خلیل اللہ اویس بخاریکے ایمان افروز خطابات، عشقِ رسول ﷺ اور سیرتِ طیبہ سے عملی وابستگی کا عہد
حیدرآباد، 27 اگست: ربیع الاول شریف کی آمد اہلِ ایمان کے لیے محبت و عقیدت، ذکر و درود اور سیرتِ طیبہ کی یاد تازہ کرنے کا روح پرور پیغام لے کر آتی ہے۔ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عالمِ انسانیت کو اپنے محبوب و مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس سے سرفراز فرمایا، جنہیں قرآنِ کریم نے رحمت للعالمین قرار دیا۔ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا تذکرہ دراصل محبتِ رسول ﷺ کو تازہ کرنے، سیرتِ طیبہ کو سمجھنے اور اسوۂ حسنہ کو عملی زندگی میں اختیار کرنے کا ذریعہ ہے۔
اسی ایمانی جذبہ اور والہانہ عقیدت کے ساتھ کل ہند مجلس فیضانِ مصطفیٰ ﷺ کے زیرِ اہتمام 47واں مرکزی جلسۂ جشنِ عید میلادالنبی ﷺ تاریخی مکہ مسجد، چارمینار، حیدرآباد میں نہایت تزک و احتشام اور مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوا۔ جلسہ میں دکن کے ممتاز علماء و مشائخ، ائمہ و خطباء، حفاظ و نعت خواں حضرات اور عاشقانِ رسول ﷺ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
جلسہ کی نگرانی جناب محمد رحیم اللہ خان نیازی نے کی، جبکہ جناب قاری محمد حسین نقشبندی زبیر نے بحیثیت ناظمِ جلسہ انتظامی امور انجام دیے۔ جناب قاری محمد سلمان اور دیگر نعت خواں حضرات نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتیہ کلام پیش کرکے محفل کو مزید روح پرور بنا دیا۔
شہ نشین پر مولانا سید شاہ غیاث الدین چشتی اجمیری، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد مستان علی قادری، بانی و ناظمِ اعلیٰ جامعۃ المؤمنات مغل پورہ حیدرآباد، مولانا سید رفعت علی خطیب نقشبندی، حضرت سید شوکت حسین قادری، جناب عبدالجلیل طارق اور دیگر علماء و مشائخ موجود تھے۔
علماء و مشائخ کے ایمان افروز خطابات
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری، خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز نامپلی حیدرآباد نے اپنے خطاب میں حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کو امتِ مسلمہ کے لیے عظیم نعمت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا۔ انہوں نے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے لیے کامل رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا اتباعِ سنت اور کردار و عمل کی پاکیزگی ہے۔
انہوں نے سیرتِ طیبہ کے عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جشنِ میلاد کا پیغام صرف اظہارِ مسرت تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نماز کی پابندی، پاکیزہ کردار، حسنِ اخلاق، حقوق العباد کی ادائیگی، والدین کا احترام اور سنتِ رسول ﷺ سے عملی وابستگی بھی ہماری زندگی کا حصہ بننی چاہیے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو بالخصوص سیرتِ نبوی ﷺ سے جوڑنے اور اپنی زندگیوں کو تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق ڈھالنے پر زور دیا۔
مولانا سید علی پاشاہ قادری، نبیرۂ حضرت شیخ الاسلام، بارگاہِ قادری چمن نے عشقِ رسول ﷺ کی اہمیت اور اس کے تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سچی محبتِ مصطفیٰ ﷺ انسان کے کردار، اخلاق، گفتار اور معاملات سے ظاہر ہوتی ہے اور یہی محبت دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔
انہوں نے رحمتِ عالم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ، انسانیت نوازی، عفو و درگزر، صبر و برداشت اور محبت و اخوت کے روشن پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے امت کو حسنِ اخلاق اور باہمی محبت کو اپنی زندگی کا شعار بنانے کی تلقین کی۔
مولانا ڈاکٹر سید شاہ خلیل اللہ اویس بخاری نے حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیماتِ رحمت و محبت پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ ﷺ کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل کو سیرتِ رسول ﷺ سے وابستہ کرنا اور ان کے اندر دینی و اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا عبد الحمید رحمانی نے محبتِ رسول ﷺ کو ایمان کا بنیادی تقاضا قرار دیتے ہوئے سیرتِ پاک کے مختلف روشن واقعات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دل میں حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت موجود ہو تو اس کے اثرات انسان کی گفتگو، معاملات، اخلاق اور معاشرتی رویوں میں نمایاں ہونا لازمی ہیں۔
مولانا ممتاز احمد اشرفی نے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی روحانی و ایمانی برکات پر خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو کثرت سے درود و سلام پڑھنے، ذکرِ رسول ﷺ کو عام کرنے اور سنتِ نبوی ﷺ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی۔
دیگر علماء و مشائخ نے بھی اپنے خطابات میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے پیغامِ امن، محبت، اخوت اور اتحاد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر اتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی گزارنے اور اسلامی تعلیمات پر مضبوطی سے قائم رہنے کی دعوت دی۔
مقررین نے حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے والدین کے احترام، پڑوسیوں کے حقوق، ضرورت مندوں کی مدد، صلہ رحمی، حسنِ معاشرت اور معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر بھی خصوصی توجہ دلائی۔
نماز اور عملِ صالح پر زور
علماء نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی زندگی میں اس کے آثار ظاہر ہونا ہے۔ نماز کی پابندی، حلال و حرام کی تمیز، پاکیزہ کردار، سچائی، امانت داری، حسنِ سلوک اور حقوق العباد کی ادائیگی ہی وہ اوصاف ہیں جو سیرتِ طیبہ سے حقیقی وابستگی کی علامت ہیں۔
انہوں نے والدین، اساتذہ، پڑوسیوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق ادا کرنے، نوجوانوں کو اخلاق و کردار کی تربیت دینے اور گھروں میں دینی ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جلسہ کے اختتام پر امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق، ملک و ملت کی سلامتی، امن و خوشحالی، عالمِ اسلام کے استحکام اور تمام مسلمانوں کے لیے خیر و عافیت کی خصوصی دعائیں کی گئیں۔
شرکائے جلسہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عشقِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا سرمایہ بناتے ہوئے سیرتِ طیبہ کے اخلاق و کردار کو اپنائیں گے، نماز اور دیگر فرائض کی پابندی کریں گے اور نسلِ نو تک پیغامِ مصطفیٰ ﷺ محبت، حکمت اور عمل کے ساتھ پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔



