نیپال سیلاب سابق مرکزی وزیر کی بہو بھی لاپتہ

نئی دہلی: نیپال کے تبت سرحدی علاقوں میں آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ بھارت کے سابق ریلوے وزیر مکل رائے کی بہو اور ترنمول کانگریس کے سابق رکنِ اسمبلی شُبھرانشو رائے کی اہلیہ شرمِشٹھا بھومک رائے لاپتا ہوگئی ہیں۔
شمالی 24 پرگنہ ضلع سے تعلق رکھنے والی شرمِشٹھا 21 اگست کو ایک ٹرایول ایجنسی کے ذریعے نیپال کے سفر پر گئی تھیں۔ اہلِ خانہ کے مطابق 25 اگست کی رات ان سے آخری مرتبہ بات ہوئی تھی جس کے بعد ان سے مکمل طور پر رابطہ منقطع ہوگیا۔
شرمِشٹھا بھومک رائے کے علاوہ کولکتہ سے کیلاش مانسروور یاترا پر جانے والا 32 افراد پر مشتمل ایک گروپ بھی سیلاب میں پھنسنے کے بعد لاپتا ہوگیا ہے۔اس گروپ میں 30 سیاح اور 2 ٹور مینیجرز شامل تھے۔
یہ افراد 21 اگست کو کولکتہ سے روانہ ہوئے تھے اور نیپال-تبت سرحد کے قریب رسواگڑھی کے مقام پر موجود تھے، جب وہاں اچانک انتہائی شدید سیلاب آیا۔اسی مانسروور یاترا میں ڈی آر ڈی او کے سابق سربراہ ستییش ریڈی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھے۔
تاہم بتایا جا رہا ہے کہ جس مقام پر یہ حادثہ پیش آیا، اس سے وہ تقریباً 700 کلومیٹر دور تھے۔اطلاعات کے مطابق ستییش ریڈی اور ان کی اہلیہ نے سیلاب سے ایک روز قبل اس راستے کا سفر کیا تھا جو بعد میں آنے والے اچانک سیلاب میں تباہ ہوگیا۔



