نیشنل

مہاراشٹرا میں مراٹھی نہ بولنے والے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیورس کو بڑی راحت

ممبئی: مہاراشٹر میں مراٹھی نہ بولنے والے آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو دیویندر فڑنویس حکومت نے بڑی راحت دی ہے۔ ریاستی حکومت نے مہاجر ڈرائیوروں کو بنیادی مراٹھی زبان سیکھنے کے لیے ایک سال کا وقت دیا ہے۔

 

اس ایک سال کے دوران ان ڈرائیوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس ایک سال کے دوران مراٹھی زبان کی لازمی شرط پوری نہ کرنے پر ڈرائیوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

 

اس فیصلے کے نتیجے میں مراٹھی زبان کی لازمی شرط مؤثر طور پر ایک سال کے لیے مؤخر کر دی گئی ہے۔ یہ قدم آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی تنظیموں کے نمائندوں کی فڑنویس سے ملاقات اور تعمیل کے لیے مزید وقت طلب کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

 

وزیرِ اعلیٰ فڑنویس نے ملاقات کے دوران کہا کہ آٹو رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی تنظیموں کے نمائندوں نے ممبئی میں کام کرنے والے مہاجر ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان میں مہارت کو لازمی قرار دینے کے حکومت کے اقدام کی حمایت کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مختلف عمر کے ان افراد کے لیے یہ شرط پوری کرنا مشکل ہے

 

جنہوں نے کئی سال پہلے اپنی باقاعدہ تعلیم چھوڑ دی تھی۔ فڑنویس نے کہا کہ ڈرائیوروں نے ایک سال کا وقت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ان کا مطالبہ مان لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس ایک سال کا استعمال ڈرائیوروں کے خلاف جرمانے یا سزا کی کارروائی کرنے کے بجائے

 

کلاسز اور مطالعاتی مواد کے ذریعے انہیں بنیادی مراٹھی سکھانے کے لیے کرے گی۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس ایک سال کے دوران ان ڈرائیوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

 

انہوں نے کہا، "ہم مختلف قسم کی کلاسز منعقد کرکے اور مطالعاتی مواد تیار کرکے ان کی مدد کریں گے تاکہ وہ بنیادی مراٹھی سیکھ سکیں۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button