تلنگانہ

والد اور بیٹی کو تکلیف پہنچانے والے پرشانت ریڈی کو زندگی بھر معاف نہیں کروں گی – میرا بددعا کا اثر ضرور ہوگا : نظام آباد جلسہ عام سے کویتا کا خطاب  

عوام کی زندگیوں میں بامعنی تبدیلی لانے کے عزم کے ساتھ میدان سیاست میں آئی ہوں

آئندہ ایم پی ٹی سی، زیڈ پی ٹی سی انتخابات میں تمام نشستوں پر مقابلہ کریں گے

کانگریس کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ ٹی آر ایس کو مضبوط بنائیں گے

آئندہ اسمبلی انتخابات میں نظام آباد ضلع کی پانچوں نشستوں پر کامیابی حاصل کریں گے

بغیر کسی غلطی کے جیل میں ڈالا گیا، چار سال تک ای ڈی اور سی بی آئی کی مشکلات کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا، راستہ نہیں بدلا

والد اور بیٹی کو تکلیف پہنچانے والے پرشانت ریڈی کو زندگی بھر معاف نہیں کروں گی، میرا بددعا کا اثر ضرور ہوگا۔نظام آباد میں جلسہ عام سے  کے کویتا کا خطاب

 

نظام آباد31/اگست(محمد یوسف الدین خان نمائندہ اردو لیکس)

تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ تلنگانہ کو صرف ’’سنہری تلنگانہ‘‘ نہیں بلکہ ’’بہوجن تلنگانہ‘‘ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگیوں میں بامعنی اور معیاری تبدیلی لانے کے عزم کے ساتھ وہ دوبارہ نظام آباد کی سرزمین پر آئی ہیں اور عوام کی حمایت اورآشیرواد کے ساتھ نئی سیاسی طاقت کو آگے بڑھائیں گی۔ نظام آباد میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ پارٹی کے قیام کے چار ماہ بعد پہلی مرتبہ اپنے آبائی ضلع نظام آباد کی سرزمین پر عوام سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ ہم نے تلنگانہ اس لئے حاصل کیا تھا کہ ہماری خود کی حکومت ہواور اپنے لوگوں کی بھلائی کے لئے فیصلے کریں۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد کچھ اچھے کام ضرور ہوئے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ تلنگانہ کے عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری کیسے لائی جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے لئے ہم نے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگایا۔ اس جدوجہد میں 1600 نوجوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی، یہ محض سیاسی لڑائی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کی جنگ تھی۔ لیکن تلنگانہ بننے کے بعد کیا واقعی ہماری زندگیوں میں وہ تبدیلی آئی جس کا خواب دیکھا گیا تھا، اس پر ایک مرتبہ ضرور غور کرنا چاہئے۔ دس سال تک بی آر ایس کو اقتدار دینے کے باوجود ایک لاکھ کروڑ روپئے سے کالیشورم تعمیر کیا گیا، لیکن نظام آباد کے ایک ایکڑ کو بھی اس سے پانی نہیں ملا۔ اگر تلنگانہ بننے کے بعد بھی ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے تو ہمیں نئے انداز میں سوچنے اور ایک نئی سیاسی طاقت کی ضرورت ہے۔

 

کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ نظام آباد کی بہو اور اس سرزمین کی بیٹی کی حیثیت سے عوام انہیں گزشتہ 20 برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ عوام نے انہیں ایم پی اور ایم ایل سی منتخب کیا اور جہاں کہیں بھی گئیں، نظام آباد کے عوام کے دیئے ہوئے حوصلے کے ساتھ اپنی آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ آج انہوں نے عہدوں کے لئے نہیں بلکہ عوام کے لئے پارٹی قائم کی ہے اور ایک مرتبہ پھر عوام انہیں وہی حوصلہ دیں۔ عہدوں کے لئے سیاست کرنا مقصد ہوتا تو وہ کسی بھی پارٹی میں شامل ہوسکتی تھیں، لیکن عوام کے لئے کچھ اچھا کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں آئی ہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ انہیں آخر کس غلطی کی وجہ سے تہاڑ جیل میں رکھا گیا؟

 

جن سیاسی قائدین نے اس وقت انہیں ناانصافی سے جیل بھیجے جانے کے خلاف آواز اٹھائی تھی، وہ بعد میں خاموش کیوں ہوگئے؟ انہوں نے کہا کہ چار سال تک سی بی آئی اور ای ڈی نے انہیں جس قدر مشکلات سے دوچار کیا، اس کے باوجود ان کا حوصلہ کم نہیں ہوا اور انہوں نے اپنا راستہ نہیں بدلا۔ ’’آپ کی نظام آباد کی بیٹی آگ ہے، میں نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی اسی بات کو واضح کیا اور ملک میں اپنی نوعیت کے منفرد فیصلے میں سی بی آئی عہدیدار کے خلاف ہی تحقیقات کی ہدایت دی گئی۔

 

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ جب ایک بیٹی مشکلات میں ہو تو اسے سہارا دینے کے بجائے بے رحمی سے گھر سے نکال دیا گیا۔ آج اپنے آبائی شہر واپس آنے کے بعد دل کی تکلیف سے آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کو روکنا مشکل ہو رہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کمزور ہیں۔ ’’ایک بیٹی کو دکھ پہنچے تو آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور عہدوں کے لئے نہیں بلکہ ایک عزم کے ساتھ نظام آباد کی سرزمین پرعوام کے سامنے آئی ہوں۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ جب مشکل وقت میں ان کے مائیکے والوں نے انہیں بے رحمی سے گھر سے نکال دیا تو ان کے سسرال والوں نے انہیں اپنی بیٹی کی طرح دل میں جگہ دی اور سنبھالا۔ انہوں نے کہا کہ جب ماں کے گھر والوں نے انہیں نکال دیا تو وہ عوام کے لئے آگے آئی ہیں اور عوام سے اپنے لئے آشیرواد مانگ رہی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ریاست میں پہلے ہی اتنی سیاسی جماعتیں موجود ہیں تو پھر نئی پارٹی قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، یہ سوال عوام کے ذہن میں ہوسکتا ہے۔ لیکن کانگریس کو اقتدار میں آئے کل ایک ہزار دن مکمل ہونے والے ہیں، کیا ان ایک ہزار دنوں میں اس حکومت نے ایک بھی وعدہ صحیح طریقہ سے پورا کیا؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کسان بھروسہ اسکیم کا حال خراب ہوگیا اور کسان پریشان ہوگئے، حکومت نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ یہ وزیراعلیٰ انتخابات آنے پر ووٹ مانگتے ہیں اور انتخابات کے بعد عوام کو برا بھلا کہنا شروع کردیتے ہیں، لیکن عوام کے لئے کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ جھوٹے وعدوں کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے والوں سے سوال کرنا چاہئے یا نہیں، یہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا۔کلواکنٹلہ کویتا نے سوال کیا کہ کانگریس حکومت سے سوال کرنے کی ذمہ داری بی آر ایس کی ہے، لیکن وہ خاموش کیوں ہے؟ نظام آباد ضلع کی حد تک بھی بی آر ایس کے ارکان اسمبلی حکومت سے سوال کیوں نہیں کرتے؟ بودھن میں سیلاب آنے کے وقت کیا بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کبھی عوام کے لئے دھرنا دینے پہنچے؟ انہوں نے پرشانت ریڈی، جیون ریڈی اور باجی ریڈی گووردھن سے حکومت کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن سو رہی ہے تو کیا ہم بھی خاموش رہیں؟ عوام کو ان کا اصل رویہ بتانا ضروری ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے پرشانت ریڈی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر نے انہیں اپنے بڑے بیٹے کی طرح عزت دی، اپنے گھر میں بٹھایا اور کئی مرتبہ کھانا کھلایا، لیکن آج وہ خود کو کے سی آر جیسا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیر کو دیکھ کر لومڑی اس کی نقل نہیں کرسکتی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ والد اور بیٹی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے میں پرشانت ریڈی کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہریش راؤ اور سنتوش راؤ کو شاید معاف کردیں، لیکن پرشانت ریڈی کو کبھی معاف نہیں کریں گی اور ’’میری بددعا کا اثر ضرور ہوگا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس کی شکست کے دوسرے ہی دن پرشانت ریڈی نے کانگریس میں جانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق گانجے کے پیسے کے بل بوتے پر انتہائی معمولی فرق یعنی تین ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی گئی۔ انہوں نے پرشانت ریڈی کو بالکنڈہ سے سیاست چھوڑ کر چلے جانے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اب انہیں شکست دینے کے لئے ان کا پیچھا کیا جائے گا۔کویتا نے کہا کہ جب ان کی صحت خراب تھی تب بھی انہوں نے پرشانت ریڈی کو کامیاب بنانے کے لئے محنت کی اور انہیں وزیر کا عہدہ بھی ملا۔ پھر ایسی کیا کمی رہ گئی تھی کہ بی آر ایس کی شکست کے فوراً بعد کانگریس میں جانے کی کوشش کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ وہ باجی ریڈی گووردھن ، جیون ریڈی اور پرشانت ریڈی کو کامیاب بنائیں تاہم انہی لوگوں نے انہیں شکست دی۔ دھوکہ دیئے جانے کے باوجود وہ گھر میں نہیں بیٹھیں بلکہ عوام کے لئے جدوجہد کرنے نئی پارٹی قائم کی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس کے قائدین گزشتہ دس برسوں کے دوران مبینہ طور پر لوٹے گئے پیسے اب بھی گن رہے ہیں اور ان کی پارٹی میں شامل ہونے والوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کے دن اب ختم ہوچکے ہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ نظام آباد میں آئندہ پانچوں اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی پانچ اہم نکات کے ساتھ آگے بڑھے گی۔

کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم اور علاج پر خرچ کر رہا ہے۔ گھر میں کسی کی طبیعت خراب ہوجائے تو لوگ اپنی محنت سے جمع کی ہوئی رقم ختم کرنے کے علاوہ گھر اور سونا تک فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر عوام انہیں کامیاب بناتے ہیں تو مفت تعلیم اور مفت طبی سہولت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ مخالفین پوچھیں گے کہ ان تمام اسکیموں کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا اور جھوٹ پھیلائیں گے، لیکن تلنگانہ کے پاس دو لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی ہے اور ایک لاکھ کروڑ روپئے تعلیم و طب کے لئے خرچ کئے جاسکتے ہیں۔

کویتا نے کہا کہ نوجوانوں کو صنعتیں قائم کرنے اور خود روزگار حاصل کرنے کے لئے قرض فراہم کئے جائیں گے۔ سماجی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ ہر شعبہ میں تمام طبقات کے لوگوں کو نمائندگی اور مواقع حاصل ہوں۔ ان کی پارٹی تمام طبقات کی بھلائی کے لئے جدوجہد کرے گی۔ تلنگانہ میں اگر ایک بھی طبقہ خوشحال نہیں ہوگا تو ریاست آگے نہیں بڑھ سکتی۔ تمام طبقات کی خوشحالی ضروری ہے اور اعلیٰ طبقات میں موجود غریبوں کی بھلائی بھی ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ جن غریبوں کے پاس زمین نہیں اور جو اس کے اہل ہیں، انہیں ایک ایکڑ زمین فراہم کی جائے گی۔ زمین غریب کے لئے عزت و وقار کی علامت ہے، اسی لیے ’’بھولکشمی‘‘ اسکیم کے ذریعہ ایک ایکڑ زمین فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا کہ جس حکومت کو غریبوں کو زمین فراہم کرنی چاہئے وہ اس کے بجائے اسائنڈ زمینیں چھین رہی ہے۔ حیدرآباد میں حیدرا کے نام پر پیدا کئے گئے خوف کے بعد اب نظام آباد میں ’’نیڈرا‘‘ کے نام پر غریبوں کو پریشان کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ نظام آباد کے بیڑی ورکرس کے لئے پنشن کے حصول میں انہوں نے خود کوشش کی تھی، لیکن گزشتہ 12 برسوں میں پنشن میں اضافہ نہیں کیا گیا اور نئے مستحقین کو بھی پنشن فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بودھن شوگر فیکٹری کو دوبارہ کھولنے کے لئے انہوں نے بہت کوشش کی، لیکن کے سی آر حکومت کے دوران بھی یہ فیکٹری نہیں کھولی گئی۔ شوگر فیکٹری کے ملازمین کو دی جانے والی 18 کروڑ روپئے کی رقم بھی کے ٹی آر نے جاری نہیں کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ کے ٹی آر کے دوست کی وجہ سے شوگر فیکٹری نہیں کھولی گئی۔ انہوں نے سارنگاپور میں شوگر فیکٹری کے لئے احتجاج کرنے والے ملازمین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ان کے لئے یہاں آکر جدوجہد بھی کریں گی۔انہوں نے یاد دلایا کہ کھمم کے ویلوگومتلہ میں غریبوں کے مکانات منہدم کئےگئے تو انہوں نے تین دن تک کھانا نہ کھاتے ہوئے بھوک ہڑتال کی تھی، جس کے بعد حکومت نے غریبوں کے لئے 400 مکانات تعمیر کرنے کا وعدہ کیا۔

کلواکنٹلہ کویتا نے نظام آباد کے ایم پی دھرماپوری اروند سے سوال کیا کہ مادھو نگر برج سات سال سے زیر تعمیر کیوں ہے اور اب تک مکمل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ جب وہ ایم پی تھیں تو اسی برج کی تعمیر مکمل نہ ہونے پر اروند نے ’’کے کے ٹیکس‘‘ کا الزام عائد کیا تھا، تو پھر سات برسوں سے وہ خود اس پل کا کام مکمل کیوں نہیں کرواسکے؟ انہوں نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ وہ کونسا ٹیکس وصول کر رہے ہیں اور سات سال سے کیا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرماپوری اروند کے نام میں ’’دھرم‘‘ ضرور ہے، لیکن ان کے عمل میں مکمل طور پر ’’ادھرم‘‘ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اروند جس ہلدی بورڈ کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں، اس سے کسانوں کو ایک پیسے کا بھی فائدہ نہیں ہوا۔ سوال کرنے پر غیر مناسب زبان استعمال کرنے کے علاوہ انہوں نے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔کویتا نے یہ بھی کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ اروند اور پرشانت ریڈی کانگریس میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اروند نے کے سی وینوگوپال سے بھی ملاقات کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر عوام کے لئے پارٹیاں تبدیل کی جائیں تو یہ قابل قبول ہوسکتا ہے، لیکن صرف عہدوں کے لئے پارٹی بدلنے والوں کو کیا برداشت کیا جائے؟

کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی میں بڑے قائدین نہیں ہیں، لیکن بڑے قائدین والی بی آر ایس کو عوام نے گھر نہیں بھیجا؟ انہوں نے کہا کہ چھوٹے قائدین ہوں تو بھی کوئی فرق نہیں، عوام کے لئے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ساوتری بائی پھولے بودھن کی بیٹی تھیں اور وہ ان کے نظریات سے متاثر ہوکر کام کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کو ’’سنہری تلنگانہ‘‘ نہیں بلکہ ’’بہوجن تلنگانہ‘‘ چاہئے۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں صرف چار گھرانوں کے لئے سنہری تلنگانہ بن گیا۔ پرشانت ریڈی اور جیون ریڈی کے ایم ایل اے بننے سے پہلے اور بعد کے اثاثوں کا جائزہ لیا جائے تو سب کچھ واضح ہوجائے گا۔کویتا نے کہا کہ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ بی آر ایس کی بدعنوانیوں میں ان کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بی آر ایس کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے اپنی کمپنی فروخت کردی تھی۔ ان کے مطابق بی آر ایس حکومت کے دوران مبینہ بدعنوانی سے صرف چند افراد کو فائدہ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ جب کے سی آر تلنگانہ کے لئے سدی پیٹ سے روانہ ہوئے تھے تو تمام لوگ ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے، اب وہ بہوجن تلنگانہ کے لئے روانہ ہوئی ہیں اور انہیں عوام کے آشیرواد کی ضرورت ہے۔

کویتا نے کہا کہ ان کا عزم عوام کی زندگیوں میں بامعنی تبدیلی لانا ہے۔ اگر دوبارہ بی آر ایس کو موقع دیا گیا تو کیا وہی جیون ریڈی، باجی ریڈی گووردھن ، پرشانت ریڈی اور گنیش گپتا کو ٹکٹ دیئے جائیں گے؟ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ان کے بجائے ان کی پارٹی میں موجود نئی نوجوان قیادت کو موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسمبلی حلقہ میں ’’شیڈو ایم ایل اے‘‘ تیار کئے جائیں گے۔

کویتا نے کہا کہ نظام آباد ضلع میں بھوپتی ریڈی، سوریہ نارائن گپتا، سدرشن ریڈی، پرشانت ریڈی جیسے افراد کی مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف ان کی پارٹی جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اتنی مبینہ بے قاعدگیوں کے باوجود کانگریس حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے ساتھ ان کے درمیان کیا مفاہمت ہے، یہ عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کانگریس حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور دوسری طرف ٹی آر ایس کو تنظیمی طور پر مضبوط کیا جائے گا۔ آئندہ ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی انتخابات میں تمام نشستوں پر مقابلہ کیا جائے گا۔ اقلیتوں کے حقوق کے لئے ان کی پارٹی ان کی آواز بن کر جدوجہد کرے گی۔

کلواکنٹلہ کویتا نے مطالبہ کیا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی جانب سے کسانوں کو پریشان کرنے کے لئے متعارف کرائی گئی ایپس کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل حل کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات میں مبتلا کرنا۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نئی سیاسی طاقت کو موقع دیں تاکہ تلنگانہ میں شفاف، سماجی انصاف پر مبنی اور عوامی مفاد کی حکمرانی قائم کی جاسکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button