آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام عدل و انصاف، دستوری بالادستی، مذہبی آزادی، قومی یکجہتی اور امن و امان کے فروغ کیلئے ملک گیر عوامی تحریک

نئی دہلی : 31/اگست ۔ہندوستان کا دستور تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ، عزت و وقار اور قانون کے مساوی نفاذ کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں ایسے حالات مسلسل پیدا ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں ملک کے کمزور و محروم طبقات بالخصوص مسلمان، مذہبی، سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر شدید دباؤ، عدمِ تحفظ اور امتیازی رویّوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہجومی تشدد، ماورائے قانون بلڈوزر کارروائیاں، مساجد، مدارس اور درگاہوں کو نشانہ بنانا، اوقافی املاک اور قبرستانوں پر ناجائز قبضے، مسلم نوجوانوں کی بے بنیاد مقدمات کے تحت بے جا گرفتاریاں، مذہبی آزادی میں مداخلت، یو سی سی کے ذریعہ مسلم پرسنل لا کو بے اثر بنانے کی کوششیں، وندے ماترم کے لزوم کے ذریعہ اقلیتوں کے عقائد پر ضرب لگانے کی کوششیں، نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے چھیڑ چھاڑ اور تعلیمی اداروں میں ایسے اقدامات جن سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں، ان سب اقدامات نے نہ صرف ملک کی ایک بڑی آبادی میں احساسِ عدمِ تحفظ کو گہرا کیا ہے بلکہ دستورِ ہند، قانون کی حکمرانی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لئے بھی سنگین چیلنجز پیدا کر دئے ہیں ۔یہ صورتِ حال محض مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے آئینی تشخص، جمہوری اقدار اور مشترکہ قومی ورثے کا معاملہ ہے۔
ان ہی حالات کے پیشِ نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، ملک کے انصاف پسند، جمہوریت پسند، امن پسند اور دستور پر یقین رکھنے والے تمام طبقات، مذہبی و سماجی تنظیموں، دانشوروں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے اشتراک سے ’’تحریک تحفظِ دستور و شریعت‘‘ کے عنوان سے ایک ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز کر رہا ہے۔ اس تحریک کا مقصد دستور کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدل و انصاف، مذہبی آزادی، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ تحریک “مجلسِ عمل” کے ذریعے درج ذیل منصوبے کے مطابق چلائی جائے گی۔
تحریک کے بنیادی مقاصد:
* دستورِ ہند اور قانون کی بالادستی کا تحفظ۔
* عدل و انصاف اور بنیادی شہری حقوق کے حق میں قومی رائے عامہ ہموار کرنا۔
* مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے منظم اور مؤثر جدوجہد۔
* نفرت، فرقہ واریت اور تشدد کے مقابلے میں امن، اخوت، محبت اور باہمی احترام کے پیغام کو عام کرنا۔
* ظلم و ناانصافی کے متأثرین کو قانونی، سماجی اور عوامی تعاون فراہم کرنا۔
* مسلمانوں کی جان و مال، مذہبی آزادی اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات کرنا۔
* یو سی سی کے نفاذاور وندے ماترم کے لزوم کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنا۔
* انصاف پسند افراد، تنظیموں اور سول سوسائٹی کو ایک مشترکہ قومی پلیٹ فارم پر متحد کرنا۔
یہ تحریک مکمل طور پر آئینی، جمہوری، پرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر چلائی جائے گی۔ تحریک کا ہر پروگرام اس انداز سے ترتیب دیا جائے گا کہ کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی، تشدد یا امن و امان میں خلل پیدا نہ ہو، بلکہ ملک میں امن، بھائی چارے، مکالمے اور دستور پسندی کو فروغ ملے۔
اہم سرگرمیاں
1۔ عوامی اجتماعات اور احتجاج
ملک کے مختلف بڑے شہروں میں آئینی و پرامن عوامی اجتماعات اور احتجاجی پروگرام منعقد کئے جائیں گے، جن سے ممتاز علماء، مختلف مذاہب کے رہنما، دانشور، سماجی و سیاسی شخصیات خطاب کریں گی۔
2۔ وہائٹ پیپر (White Paper) کی اشاعت
مسلمانوں کے خلاف پیش آنے والے واقعات، آئینی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر مشتمل ایک جامع وہائٹ پیپر تیار کیا جائے گا، جسے میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں، عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں تک پہنچایا جائے گا۔
3۔ قانونی رہنما کتابچہ (Legal Booklet)
غیر قانونی انہدام، بلڈوزر کارروائیوں، اوقافی املاک، قبرستانوں، مساجد اور مدارس کے تحفظ سے متعلق قانونی حقوق، عدالتی رہنمائی اور عملی اقدامات پر مشتمل ایک جامع قانونی رہنما کتابچہ شائع کیا جائے گا۔
4۔ ہجومی تشدد (Mob Lynching) پر جامع اعلامیہ
ہجومی تشدد کے مسئلے پر ایک جامع اعلامیہ جاری کیا جائے گا، جس میں قانون کی بالادستی، ریاست و انتظامیہ کی ذمہ داریاں، متأثرین کے قانونی حقوق اور ملکی قوانین کے مطابق جان و مال کے تحفظ کے حق کو واضح کیا جائے گا۔
5۔ چارٹر آف ڈیمانڈ (Charter of Demands)
ہر ریاست میں گورنر اور ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ کے ذریعے صدرِ جمہوریہ ہند کو ایک جامع چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا، جس میں آئینی حقوق کے تحفظ، نفرت انگیز جرائم کے خاتمے، مذہبی آزادی، غیر قانونی انہدام کی روک تھام، اوقافی املاک اور مذہبی مقامات کے تحفظ اور قانون کی مساوی عملداری سے متعلق مطالبات شامل ہوں گے۔
6۔ میڈیا اور سوشل میڈیا مہم
تحریک کے ہر مرحلے پر پریس کانفرنسوں، میڈیا بریفنگ، ویڈیو ڈاکومنٹیشن، سوشل میڈیا مہمات اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس (X)، پر مربوط ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی۔
7۔ دہلی میں عظیم الشان قومی اجتماع
تحریک کے ایک اہم مرحلے پر نئی دہلی میں ایک بڑا عوامی اجتماع و احتجاج منعقد کیا جائے گا، جس میں ملک بھر سے مختلف طبقات، مذاہب اور مکاتبِ فکر کے نمائندوں کو شریک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی اجتماع میں تحریک کے آئندہ مرحلے کے لائحۂ عمل کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
ہماری اپیل
تحریک برائے تحفظِ ملک و ملت کسی ایک طبقے یا برادری کی تحریک نہیں، بلکہ ہندوستان کے دستور، جمہوریت کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، انسانی وقار، قومی یکجہتی اور امن و اخوت کے تحفظ کی مشترکہ قومی جدوجہد ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ انصاف، محبت، مکالمہ، باہمی احترام اور آئینی جدوجہد ہی ہندوستان کے روشن، مضبوط اور پرامن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہیں۔ اسی یقین کے ساتھ ہم ملک کے ہر انصاف پسند، جمہوریت پسند اور امن پسند شہری، ہر سماجی و مذہبی تنظیم اور سول سوسائٹی کے ہر ذمہ دار فرد کو اس قومی تحریک میں شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے
1. جناب سید سعادت اللہ حسینی امیر، جماعتِ اسلامی ہند و نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
2. مولانا محمد علی محسن تقوی نائب صدر،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
3. مولانا محمد فضل الرحیم مجددی جنرل سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ
4. مولانا سید محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند
5. مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
6. جناب عارف مسعود ایم ایل اے رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
7. مولانا محمد ابو طالب رحمانی رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
8. ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
E-mail: aimplboard@gma



