جنرل نیوز

موجودہ حالات میں شکوہ نہیں، عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے: مفتی محمد معصوم ثاقب

7 ستمبر 2026: جمعیۃ علماء کریم نگر کے زیر اہتمام امپریل فنکشن ہال، کریم نگر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا مفتی محمد معصوم ثاقب صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے ’’موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے نہایت مؤثر، فکر انگیز اور بصیرت افروز خطاب فرمایا۔

 

یہ اجلاس حضرت مولانا محمد غیاث الدین رحمانی صاحب دامت برکاتہم، صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا کی سرپرستی، حضرت مولانا مفتی محمد زبیر صاحب قاسمی دامت برکاتہم، ریاستی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء تلنگانہ کی صدارت اور حضرت مولانا مفتی محمد اعتماد الحق صاحب قاسمی دامت برکاتہم، صدر جمعیۃ علماء کریم نگر کی نگرانی میں منعقد ہوا۔

 

پروگرام کا آغاز حافظ محمد معظم حسین صاحب فیضی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ محترم مفیض صاحب نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی حضرت مولانا مفتی محمد معصوم ثاقب صاحب قاسمی نے ’’موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق، مظلوم کی حمایت اور معاشرتی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

 

حضرت والا نے فرمایا کہ ہمیں اپنے ہونے کا ثبوت محض دعووں اور نعروں سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق، کردار اور اعمال سے پیش کرنا چاہیے۔ سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی صبر، حکمت، حسنِ اخلاق اور عملی جدوجہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ شعبِ ابی طالب کے سخت حالات ہوں یا زندگی کے دیگر آزمائشی مراحل، آپ ﷺ نے حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنے مشن اور جدوجہد کو جاری رکھا۔

 

انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہر حال میں حسنِ سلوک کا معاملہ کرنا چاہیے، خواہ وہ ہماری بات قبول کریں یا نہ کریں۔ ہمارے اخلاق دوسروں کے رویے کے محتاج نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ ہمارے اخلاق و معاملات ایسے ہوں کہ لوگ ہمارے کردار کو دیکھ کر اسلام کی خوبصورتی کو محسوس کریں۔

 

آسام کے سیلاب کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت والا نے محمد یونس کی مثال پیش کی، جنہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر سیلاب میں بہتے ہوئے ایک جوڑے کو بچایا تھا۔ اسی خیرخواہی کے جذبے سے متاثر ہو کر اس غیر مسلم جوڑے نے اپنی بچی کا نام محمد یونس رکھا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ ایسے واقعات ہمارے لیے سبق ہیں کہ انسانیت کی خدمت، دوسروں کی خیرخواہی اور مصیبت زدہ لوگوں کے کام آنا ہمارے کردار کی اصل پہچان ہونی چاہیے۔

 

حضرت مفتی محمد معصوم ثاقب صاحب نے واضح فرمایا کہ ہماری جنگ عوام کے خلاف نہیں بلکہ ظالموں کے خلاف ہے۔ عام انسانوں کے ساتھ ہمارا رویہ محبت، ہمدردی، خیرخواہی اور حسنِ سلوک پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہمیں کسی فرد یا طبقے کے غلط رویے کی وجہ سے پوری انسانیت کے ساتھ بدسلوکی نہیں کرنی چاہیے۔

 

انہوں نے فرمایا کہ ہمیں حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اور امت و ملت کی خدمت کے لیے عملی میدان میں آگے بڑھنا چاہیے۔ جمعیۃ علماء ہمیشہ ملت اور عوام کے مسائل و مشکلات میں ان کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

 

سیرتِ نبوی ﷺ کے ایک اہم واقعے حلفُ الفضول کا ذکر کرتے ہوئے حضرت والا نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے بعثت سے قبل اس معاہدے میں شرکت فرمائی، جس کا مقصد مظلوم کی مدد کرنا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا تھا۔ آپ ﷺ نے بعد میں بھی اس معاہدے کو پسند فرمایا۔ یہ واقعہ ہمارے لیے واضح پیغام رکھتا ہے کہ مظلوم کی حمایت، انصاف کا ساتھ دینا اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا اسلامی اخلاق کا اہم حصہ ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم مایوسی اور شکوے کے بجائے اپنے کردار، اخلاق اور عملی خدمت کے ذریعے دین کی صحیح نمائندگی کریں، انسانیت کی خدمت کریں، مظلوم کا ساتھ دیں، پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں اور معاشرے کی اصلاح کے لیے مثبت و پُرامن جدوجہد جاری رکھیں۔

 

پروگرام کی نظامت کے فرائض مولانا سید خواجہ فرقان علی صاحب قاسمی دامت برکاتہم، جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء کریم نگر نے انجام دیے۔ اجلاس میں مولانا کاظم صاحب الحسنی، مفتی محمد صادق حسین صاحب قاسمی، مفتی اویس فاروق صاحب حسامی، مولانا مبشر صاحب مفتاحی، مفتی شیخ مبشر الدین صاحب قاسمی، حافظ ضیاء اللہ خان صاحب، حافظ محمد صادق علی صاحب، حافظ محمد وسیم الدین صاحب، مولانا شیخ عبداللہ صاحب قاسمی، حافظ محمد اسماعیل صاحب، حافظ محمد عبدالحکیم صاحب، مولانا عبد الفتاح صاحب، حافظ وصی صاحب اور دیگر حفاظ و علماء کرام کی کثیر تعداد موجود تھی۔

 

اس موقع پر صدر جمعیۃ علماء کریم نگر حضرت مولانا مفتی محمد اعتماد الحق صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے جمعیۃ علماء کریم نگر کی دینی، ملی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ علماء کریم نگر نے مختلف ادوار میں ملت کی دینی و ملی رہنمائی اور خدمت کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بالخصوص حضرت مولانا محمد برکت اللہ خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی میں ردِّ قادیانیت کے میدان میں اہم کام کیا گیا، جبکہ تعلیمی اعتبار سے بھی مختلف خدمات انجام دی گئیں۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ جمعیۃ علماء کریم نگر نے ضرورت مندوں اور مصیبت زدہ افراد کی امداد کے لیے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ آسام کے سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے جمعیۃ علماء کریم نگر کی جانب سے دو لاکھ اسی ہزار روپے تک کا تعاون پیش کیا گیا، جو خدمتِ خلق اور انسانی ہمدردی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔

 

صدر جمعیۃ علماء کریم نگر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دینی، تعلیمی، ملی، اصلاحی اور سماجی میدانوں میں خدمت کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا اور ملت کے مسائل کے حل کے لیے اجتماعی طور پر مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

 

آخر میں مولانا سید خواجہ فرقان علی صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے تمام مہمانان، علماء کرام اور شرکاءِ اجلاس کا شکریہ ادا کیا۔ مہمانِ خصوصی حضرت مولانا مفتی محمد معصوم ثاقب صاحب قاسمی دامت برکاتہم کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button