جنرل نیوز

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ، تعلیمات پر عمل آوری ضروری- مسجدِ نبوی کی تصاویر اور خطاطی کی نمائش کا افتتاح بدست عامر علی خان 

حیدرآباد – (پریس نوٹ )جناب عامر علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست حیدرآباد نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات قیامت تک کے لیے ہمارے لیے راہ نجات ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حرم مدینہ کی تصاویر اور خطاطی کی نمائش وجلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم” بعد از خدا توئی قصہ مختصر” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ نمائش معروف آرکیٹچرل فوٹوگرافر کے این واصف کی لی ہوئی تصاویر اور باکمال خطاط غوث ارسلان کے خطاطی کے نمونون پر مشتمل تھی۔ جو میڈیا پلس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام میڈیا پلس آڈیٹوریم گن فاؤنڈری حیدرآباد میں منعقد ہوئی۔ جناب عامر علی خان نے اس موقع پر ممتاز و سینیئر صحافی جناب کے این واصف کی حرم مدینہ کے بیرونی و اندرونی تصاویر اور جناب غوث ارسلان کے فن خطاطی کے نمونوں کی نمائش کا افتتاح کیا۔

 

جناب عامر علی خان نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید ساری دنیا کے لیے راہ ہدایت ہے ہم کو چاہیے کہ سیرت طیبہ پر سختی سے عمل کریں۔ انھون نے کہا کہ ہم اہل ایمان تو ہیں لیکن ہم اخلاقیات میں ہم ہیں جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واخلاق کے ساتھ پیش آنے پر بہت زور دیا۔ ہم پر حضور کی تعلیمات کو عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل لوگ بالکل بے راہ روی کا شکار تھے گمراہی کے اندھیروں گم تھے۔ لیکن آپ کے تشریف لانے کے بعد سارے عالم میں اجالا ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر دیکھنے میں یہآ آتا ہے کہ جلسوں میں دوران تقاریر جب بھی اذان ہوتی ہے تو تقریر کرنے والے رک جاتے ہیں لیکن جب ہم دوسرا پہلو دیکھتے ہیں تو یہ نظر آتا ہے کہ مقرر تو اذان کے دوران رک جاتے ہیں لیکن دیگرلوگ ادھر ادھر باتوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

 

اس طرح کے عمل سے ہمیں پرہیز کرنا چاہئیے۔ انہوں نے مسجدِ نبوی سے متعلق جناب کے این واصف کی بنائی تصاویر اور جناب غوث ارسلان کی نعتیہ اشعار پر مشتمل خوش نویسی کے نمونوں کی بہترین الفاظ میں ستائش کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں میڈیا فاؤنڈیشن کو مبارکباد پیش کی۔ صدر محفل مولانا پروفیسر راشد نسیم ندوی نے اپنے پر مغز خطاب میں کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات ساری دنیا پر ہیں۔ آفتاب رسالت طلوع ہونے کے بعد سارا ماحول منور ہو گیا حضور اکرم بچپن ہی سے والدین کی شفقت سے محروم تھے لیکن آپ نے ایک مختصر سے وقفے میں اپنے اخلاق اور کردار کے ذریعے اسلام کا ایسا مثالی نمونہ پیش کیا جس کی قیامت تک مثال نہیں مل سکتی۔ اللہ تعالی کے حکم پر آپ نے اپنے خاندان سے ہی اصلاح کا کام شروع کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ والدین کی خدمت کریں اور غیر مسلم پڑوسی کی بھی خبر گری کریں یہ عظیم الشان ارشادات ہیں جنہیں عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔

 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت دنیا میں تشریف لائے شراب نوشی، قتل و غارت گری اور کئی سماجی برائیاں جو عام تھیں آپ ایسے حالات سے بہت ہی فکر مند تھے اور جب آپ نے امت کی اصلاح کا کام شروع کیا سب کو دین کی دعوت عام کی تو پھر رفتہ رفتہ دین پھیلتا گیا۔ کینسر اسپیشلسٹ و چیئرمین ایم سی سی ای شکاگو ڈاکٹر محمد تجمل حسین آنکا لوجسٹ نے صاحبزادہ میر محمود علی خان کی کتاب "سیرت ان قرآن” (انگریزی) کی رسم اجراء انجام دیتے ہوئے کہا کہ سائنس وٹکنالوجی سے اجالے نہیں پھیلتے بلکہ دین محمدی عام ہو جانے سے ہی دنیا میں اجالے پھیلین گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی نے ساری انسانیت کے لیے قیامت تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا عظیم الشان تحفہ عطا فرمایا ہے۔

 

صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت جناب سید ایوب حسینی نے کہا کہ تعمیر ملت وہ عظیم الشان تنظیم ہےجس نے مولانا غوث خاموشی، جناب سید خلیل اللہ حسینی، جناب عبدالرحیم قریشی اور مولانا سلیمان سکندر کی رہبری و رہنمائی میں قوم و ملت کی عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں جنہیں ملت فراموش نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہم معاف کرنا سیکھیں نا اتفاقیاں دور کریں اور کلمہ کی بنیاد پر متحد ہو جائیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ ماں باپ کی عزت کریں اور ماں باپ بوڑھے ہو جانے کے بعد بھی ان کے دل و جان سے خدمت کریں انہیں اولڈ ایج ہوم کے حوالے نہ کریں۔

 

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد ایڈوکیٹ نے کہا کہ مولانا ڈاکٹر اسرار احمد اورجناب شاہ بلیغ الدین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ان کے ملک میں بھی اتنے بڑے مذہبی جلسے نہیں ہوتے جتنے ہندوستان میں دیکھنے میں آتے ہیں۔ انہوں نے فن خطاطی کے نمونوں اور مسجد نبوی کی تصاویر کی نمائش پر جناب کے این واصف اور جناب غوث ارسلان کو دلی مبارکباد پیش کی۔ صاحبزادہ میر احمد علی خان سابق سی ای او وقف بورڈ نے نے اس موقع سے طلباء کی کردار سازی میں جناب خلیل اللہ حسینی مرحوم کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ موجودہ حالات اس بات کے سخت متقاضی ہیں کہ ہم اللہ اور رسول کی تعلیمات پر سختی سے عمل کریں۔

 

ڈاکٹر فاضل حسین پرویز چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ نے جناب کے این واصف اور جناب غوث ارسلان کی فنی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنے استاد محترم جناب سید خلیل اللہ حسینی کی تعلیمی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے فرزند سید ایوب حسینی سے بھی توقع کا اظہار کیا کہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملت اسلامیہ کی سربلندی کے لیے مزید مثالی کام انجام دیں گے۔ جناب کے این واصف نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں بتایا کہ انہوں نے آرکیٹچرل میگزین “البنا” میں ملازمت کے دوران بڑی محنت کے ساتھ حرم منورہ کی تصویر کشی کی اور کوئی ۳۵ سال وطن واپسی پر ان کی نمائش کا اہتمام کیا۔ جناب غوث ارسلان نے اپنے تیار کردہ خوش نویسی کے فن ہارون کی تفصیلات سے واقف کروایا اور کہا کہ ایک نمونہ اس میں ایسا بھی ہے جو امجد حیدرابادی کی رباعی پر مشتمل ہے مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت امجد حیدرابادی نے اپنے جن احساسات کا اظہار کیا تھا۔ اس کو اشعار کی شکل میں لکھا تھا وہ بھی اس نمائش میں رکھا گیا ہے۔

 

اس متبرک جلسے کا اغاز جناب محمد منظم القاسمی کی قرات کلام پاک سے ہوا جبکہ جناب شعیب رضا خان فاضل بریلوی نے نعت مبارکہ پیش کرنے سعادت حاصل کی۔اس موقع پر ممتاز و معروف صحافی جناب جے ایس افتخار کے علاوہ پروفیسر وحید اللہ، جناب عظمت اللہ صدیقی سیکرٹری انتظامی کمیٹی مسجد عالیہ، جناب سید ظہور الدین چیئرمین سکندرآبادکوآپریٹو بینک، کرشما گروپ کے چیئرمین جناب محمد اسماعیل، جناب جناب محمد حسام الدین ریاض، ممتاز و معروف مزاحیہ و سنجیدہ شاعرجناب لطیف الدین لطیف، جناب بصیر خالد، ڈاکٹر ناظم علی، جناب سلیم احمد فاروقی، جناب سید محمد زین العابدین عثمان غوری

 

جناب مظفر احمد، ڈاکٹر فہمیدہ بیگم، حکیم سلیم فاروقی، جناب مجاہد محی الدین جناب محمد قیصر اور دیگر معززین کی کثیر تعداد شریک تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button