انٹر نیشنل

H-1B ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس ٹرمپ نے پھر دیا جھٹکا

نئی دہلی: H-1B ویزا درخواستوں پر عائد ایک لاکھ ڈالر کی فیس کے معاملے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے ان کمپنیوں سے مزید ایک سال تک فیس وصول کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جو H-1B ویزا کے ذریعے غیر ملکی ملازمین کو ملازمت دیتی ہیں۔

 

ٹرمپ نے حال ہی میں اس سلسلے میں ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے ہیں۔عام طور پر H-1B ویزا کی درخواست پر ہونے والا خرچ کمپنیاں برداشت کرتی ہیں۔ ماضی میں اس کے لیے تقریباً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک خرچ ہوتا تھا تاہم گزشتہ سال ستمبر میں ٹرمپ حکومت نے H-1B ویزا کی فیس بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کردی تھی۔

 

اس ضابطے کو نافذ ہوئے ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ٹرمپ حکومت نے اب اس اضافے کو مزید 12 ماہ کے لیے بڑھا دیا ہے۔امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ 2025 میں لیے گئے اس فیصلے کے نتیجے میں آئی ٹی خدمات کی آؤٹ سورسنگ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے H-1B رجسٹریشن میں 92 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

 

حکومت کے مطابق اس سے امریکی کارکنوں اور گریجویٹس کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ ٹرمپ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد کمپنیوں کو صرف انتہائی ہنرمند افراد کو ملازمت دینے کی جانب راغب کرنا ہے۔ H-1B پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے غیر ملکی شہریوں میں ہندوستانی شہری سرفہرست ہیں۔

 

امریکہ میں طلبہ ویزا پر مقیم افراد جو H-1B ویزا کے لیے درخواست دیتے ہیں ان پر یہ فیس لاگو نہیں ہوگی۔ امریکہ سے باہر گئے بغیر موجودہ ویزا اسٹیٹس تبدیل کرنے کے لیے دی جانے والی درخواستوں کو بھی اس فیس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

 

تاہم بیرونِ ملک سے H-1B ویزا کے لیے درخواست دینے والوں کو ایک لاکھ ڈالر کی یہ فیس ادا کرنا ہوگی۔ایک لاکھ ڈالر کی اس فیس کو امریکہ کی 20 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے بوسٹن کی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ یہ فیس غیر قانونی ہے۔ تاہم یہ معاملہ دیگر وفاقی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔

 

فیس کے حوالے سے قانونی پیچیدگیاں برقرار ہونے کے باوجود ٹرمپ کی جانب سے ایک لاکھ ڈالر کی فیس کو مزید ایک سال کے لیے توسیع دینے کا حکم جاری کرنا قابلِ ذکر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button