نیشنل

کاکروچ جنتا پارٹی نے استعفیٰ پیش کرنے کی دی چیف الیکشن کمشنر کو 48 گھنٹے کی مہلت، ملک گیر احتجاج کی دھمکی

نئی دہلی: کوکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کو استعفیٰ دینے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ پارٹی نے آنے والے تمام ریاستی اسمبلی انتخابات کو بھی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے CJP کے بانی اور کنوینر ابھجیت ڈپکے نے کہا کہ پارٹی نئی دہلی سمیت ملک بھر میں دھرنا دے گی۔

 

پارٹی کے شریک کنوینر سوراو داس نے تین اہم مطالبات پیش کیے۔ ان میں چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ، گیانیش کمار اور مبینہ طور پر انہیں ہدایات دینے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی اور تمام آئندہ انتخابات کو عارضی طور پر روکنا شامل ہے۔

 

پارٹی نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو واپس لے کر 2025 کی ووٹر فہرست بحال کرنے، SIR سے متعلق تمام فائلیں سپریم کورٹ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی تحویل میں دینے اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق قانون منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

 

یہ مطالبات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے تھے۔

 

رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے اور ووٹر ڈیٹا سے متعلق نظام جیسے معاملات شامل تھے۔

 

تاہم الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اختلافِ رائے، تحریری مشاہدات اور داخلی جانچ و توازن کسی بھی ادارے میں فیصلہ سازی کا معمول کا حصہ ہیں۔ کمیشن کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران SIR سمیت تمام اہم فیصلے مکمل کمیشن کی متفقہ رائے سے کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button