سمینار بعنوان “چھوٹی بچت،بڑا منافع” زیر اہتمام این آر آئی (NRI) ویلفیئر سوسائٹی

سمینار بعنوان “چھوٹی بچت،بڑا منافع” زیر اہتمام این آر آئی (NRI) ویلفیئر سوسائٹی
حیدرآباد – کے این واصف
این آر آئی وہلفئر سوسائٹی نے جدہ میں گلف این آر آئیز کی معلومات کے لئے ایک سمینار کا اہتمام کیا۔ اس اجلاس کے ذریعہ بہت سے ایسے ہندوستانیوں کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو واپس اپنے وطن لوٹ رہے ہیں یا اپنے اہلِ خانہ کو واپس بھیج رہے ہیں اور مشکل معاشی حالات کا سامنا کر رہے ہیں کے لیے یہ سمینار بہت ہی مفید و معلوماتی تھا۔ سینئر این آر آئی میمن عبدالقادر کے مطابق جدّہ میں تمام گلف این آر آئیز کے لیے "انڈیا میں مواقع، چھوٹی بچت بڑا منافع کے عنوان پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔سیمینار میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ ہندوستان ایک مواقع کی سرزمین ہے جس نے حال ہی میں دولت کی کمائی کے ایک بلین (ایک ارب) سے زائد لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے۔ ہندوستانی معیشت پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی گئی جس کا مقصد این آر آئیز کو بہت سے دلچسپ مواقع سے روشناس کرانا تھا۔ جن سے کوئی بھی شخص ہندوستان میں چھوٹی بچتوں کے ذریعے فائدہ اٹھا کر زیادہ مستقبل میں منافع حاصل کر سکتا ہے۔میمن اے قادر نے ایک ویڈیو پریزنٹیشن بھی پیش کی۔ انہوں نے اپنی پریزنٹیشن میں لبرلائزیشن (معاشی لچک) کے بعد کا دور دکھایا اور یہ واضح کیا کہ ہندوستان نے پچھلی دو دہائیوں میں کیا کچھ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال پہلے انڈیا کی معیشت 700 بلین ڈالر تھی، اور آج انڈیا 2.8 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن چکا ہے، جو کہ دولت کی تخلیق میں 4 گنا اضافہ ہے۔ دنیا کے مشہور مالیاتی ماہرین کے اداروں نے 2017 میں انڈیا کو تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت قرار دیا تھا۔ اس سے ہندوستان کے لوگوں خصوصاً ایک بلین سے زائد آبادی کے لیے خوشحالی آئی اور ان کا معیار زندگی بہتر ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے این آر آئی کمیونٹی، خاص طور پر ہنر مند طبقہ (کیٹیگری کے ورکرز)، آگاہی کی کمی کی وجہ سے اس سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکی۔میمن نے تمام لوگوں سے مشورہ دیا کہ وہ ہندوستان میں ہونے والی خوشحالی اور ترقی کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے ایک مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ صرف 10,000 روپے (150 ڈالر) کی سرمایہ کاری کی مالیت آج 20 سالوں میں 15,00,000 (15 لاکھ) روپے ہو چکی ہے۔ انہوں نے ماروتی کمپنی کی ایک بہترین مثال دی جس کے شیئرز دو دہائیاں قبل آئی پی او (IPO) کی قیمت 125 روپے پر لسٹ ہوئے تھے اور آج 20 سال بعد اس کے شیئرز کی تجارت تقریباً 10,500 روپے فی شیئر پر ہو رہی ہے۔ اس دولت کا تصور کریں جو ان لوگوں کے لیے پیدا ہوئی جنہوں نے اسے دو دہائیاں قبل خریدا تھا۔ میمن نے کہا، "ہم نے اب بھی انڈیا کی بس (موقع) مس نہیں کی ہے۔ دنیا کے مشہور مالیاتی اداروں کی جانب سے پیش گوئی کی گئی ہے کہ انڈیا 2030 تک 11.3 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی (GDP) کے ساتھ تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا اور جاپان اور جرمنی کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ این آر آئیز کے لیے یہ دوسرا موقع ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہونے والی دولت کی مضبوط تخلیق کا حصہ بنیں۔”لیکن سوال اس میں حصہ کیسے لیا جائے؟ ہم میں سے اکثر لوگ اس کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔ میمن نے پھر مشورہ دیا کہ اس میں حصہ لینے کا سب سے بہترین اور آسان طریقہ میوچل فنڈز کا راستہ ہے اور وہ بھی ماہانہ بنیادوں پر ایس آئی پی (SIP – سسٹیمیٹک انویسٹمنٹ پلان) خرید کر۔میمن نے ایک سلائیڈ دکھائی جس میں ماہانہ 75 ڈالر کی سرمایہ کاری دکھائی گئی تھی، جو 20 سالوں میں بڑھ کر 2,50,000 (ڈھائی لاکھ) ڈالر ہو جاتی ہے، اور اتنی رقم بڑھاپے کی پنشن یا کسی لڑکی کی شادی، میڈیکل وغیرہ کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ اپنے گھر کے پچھواڑے میں پیسے کا ایک ایسا درخت لگانے کا سب سے محفوظ طریقہ ہے جو آنے والی نسلوں کو پھل دے گا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہر بچے کے نام پر اس کے مستقبل کی تعلیم، شادی کے لیے یہ ایس آئی پی کی جائے اور بعد میں ریٹائرمنٹ کے وقت کوئی بھی شخص اس ایس آئی پی کو ایس ڈبلیو پی (SWP – سسٹیمیٹک ودڈرال پلان) میں تبدیل کر سکتا ہے۔ تاکہ پنشن کے طور پر رقم نکلوائی جا سکے۔دوسرے اسپیکر معروف ہندوستانی مالیاتی اور مارکیٹ ٹرینر امیر شاہ پنڈکاد تھے، جو پچھلے کئی سالوں سے ہندوستانی تارکینِ وطن (Expats) کے لیے ٹریننگ کا انعقاد کر رہے ہیں اور ان کی بنیادی توجہ ایس آئی پی (SIP) پر ہے۔ انہوں نے این آر آئیز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ کا کم از کم 10 سے 15 فیصد بچائیں۔ وہ جلد ہی مملکت (سعودی عرب) سے رخصت ہو رہے ہیں۔ دونوں مقررین نے درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی:تمام این آر آئیز کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ انڈیا میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور وہاں ہونے والی بے پناہ دولت کی تخلیق میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے ماہانہ بچت کی بنیاد پر ایکویٹی بیسڈ ایس آئی پی شروع کریں۔
مزید تفصیلات کے لیے میمن عبدالقادر سے سعودی عرب میں یا کسی بھی ملک سے فون پر رابطہ کیاجاسکتا ہے۔
Mobile No. 050 437 4326

