جرائم و حادثات

حیدرآباد میں نقلی ڈاکٹر گرفتار

حیدرآباد: کمشنر ٹاسک فورس (گولکنڈہ ٹیم) پولیس نے گولکنڈہ پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گولکنڈہ، محلہ گنج، ایم ایس کے فنکشن ہال کے قریب واقع "حکمہ ہیلت کیئر سینٹر” پر چھاپہ مارا اور محمد عدنان نامی شخص کو حراست میں لے لیا۔

 

پولیس کے مطابق وہ اپنی والدہ صبا خان عرف محمدی بیگم اور بھائی محمد فیضان کی مدد سے کسی بھی معتبر لائسنس یا طبی اہلیت کے بغیر یہ کیئر سینٹر چلا رہا تھا۔ وہ لوگ خود کو مستند ڈاکٹر ظاہر کرکے آسانی سے پیسہ کمانے کے لیے معصوم لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے تھے۔

 

ملزم نے اپنی طبی خدمات کی تشہیر فیس بک، انسٹاگرام کے ذریعہ کی۔پولیس نے ملزم کے قبضے سے بڑی مقدار میں بغیر لیبل والی ادویات/دوائیں بھی ضبط کیں۔اس کے علاوہ "حکمہ ہیلتھ کیئر” کے نام سے نسخہ لکھنے والی کتابیں بھی ضبط کیں۔ملزم حیدرآباد کے گولکنڈہ علاقے کا رہنے والا ہے۔

 

اس کی تعلیمی قابلیت صرف انٹرمیڈیٹ CEC (2018-2020) تک ہے۔پولیس کے مطابق اس کے آباؤ اجداد حکیم کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس کے نانا (والدہ کے والد) راجندر نگر میں P.V.N.R پلر نمبر 179 کے قریب "حکیم اے۔آر۔ آرتھو” کے نام سے کام کرتے تھے اور ملزم کی والدہ صبا خان عرف محمدی بیگم ان کی مدد کرتی تھیں۔

 

نانا کی وفات کے بعد اس کی والدہ خود اس کلینک کو چلا رہی تھیں۔ اپنی والدہ صبا خان اور بھائی محمد فیضان کی مدد سے اس نے "حکمہ ہیلتھ کیئر” قائم کیا۔ پولیس کے مطابق، محمد عدنان اس کی والدہ صبا خان عرف محمدی بیگم اور اس کا بھائی خود کو موروثی حکیم ظاہر کرتے ہوئے بغیر کسی طبی اہلیت کے لوگوں کا علاج کرتے تھے۔

 

وہ جنسی مسائل، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بار بار قے، شدید جسمانی درد، گردے/پسلیوں کے درد اور پیشاب سے متعلق مسائل کے لیے مریضوں کو نسخے اور بغیر لیبل والی ادویات دیتے تھے الزام ہے کہ یہ افراد آسانی سے پیسہ کمانے کے لیے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے تھے۔

 

ملزم نے فیس بک، انسٹاگرام کے علاوہ ایک یو ٹیوب چینل کی تشہیری خبروں کے ذریعے اپنی خدمات کی تشہیر بھی کی تھی۔ پولیس نے ملزم کو گرفتارکرلیا جبکہ اس کی ماں اور بھائی کو تلاش کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button