جنرل نیوز

قرآنِ مجید انسان کو کائنات کی نشانیوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق، حصولِ علم اور تسخیرِ کائنات کی قرآنی تعلیم

اسلام علم و تحقیق، مشاہدہ و تفکر اور سائنسی شعور کا علم بردار ہے؛ قرآنِ مجید انسان کو کائنات کی نشانیوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حیدرآباد، 14 اکتوبر (پریس ریلیز):

علم و عقل، تحقیق و جستجو اور غور و فکر وہ روشن چراغ ہیں جن کی روشنی میں انسان کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے اور زندگی کے حقائق تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب علم کو فکر کی گہرائی، مشاہدے کی وسعت اور تحقیق کی سنجیدگی میسر آتی ہے تو ترقی کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ اسلام نے ابتدا ہی سے علم کو غیر معمولی اہمیت عطا کی اور انسان کو کائنات، زمین و آسمان، شب و روز کی گردش اور قدرت کی بے شمار نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت دی۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر معرفت، شعور اور تحقیق کی روشنی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج صدر دفتر لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، بنجارہ ہلز، روڈ نمبر 12، حیدرآباد میں منعقدہ شرعی نشست کے دوران عوام کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ اسلام اور سائنس کا باہمی تعلق تصادم کا نہیں، بلکہ علم، تحقیق، مشاہدے اور کائنات میں غور و فکر کے ذریعے حقائق کو سمجھنے کا تعلق ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو علم حاصل کرنے، عقل سے کام لینے، قدرت کی نشانیوں پر غور کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید کی پہلی وحی ہی حصولِ علم کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ارشاد فرمایا:

اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۝

ترجمہ: ”پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا فرمایا۔“ (سورۃ العلق: 1)

اس آیتِ مبارکہ سے علم کی عظمت، مطالعے کی اہمیت اور معرفت کے حصول کی بنیاد واضح ہوتی ہے۔ اسلام انسان کو محض معلومات جمع کرنے کی ترغیب نہیں دیتا، بلکہ علم کو خالق کی معرفت، اخلاقی تربیت، انسانی خدمت اور معاشرتی ترقی کا ذریعہ بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ علم جب کردار سے وابستہ ہوتا ہے تو انسان کے اندر ذمہ داری، دیانت داری اور حق شناسی پیدا کرتا ہے۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ سائنس بنیادی طور پر مشاہدے، تجربے، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر قدرتی مظاہر کو سمجھنے کا ایک منظم طریقۂ کار ہے۔ اسلام بھی انسان کو کائنات میں غور و فکر کرنے، عقل و دانش سے کام لینے اور قدرت کی نشانیوں کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ۝

ترجمہ: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ (سورۃ آل عمران: 190)

انہوں نے وضاحت کی کہ اس آیتِ کریمہ میں انسان کو کائنات کے نظام پر غور کرنے اور عقل و بصیرت سے کام لینے کی دعوت دی گئی ہے۔ فلکیات میں اجرامِ سماوی کی گردش، حیاتیات میں جانداروں کی ساخت، طبیعیات میں مادے اور توانائی کے مظاہر اور دیگر سائنسی شعبوں میں ہونے والی تحقیق انسان کے علم میں اضافہ کرتی ہے۔ ان حقائق کا مطالعہ انسان کو کائنات کے نظم و ضبط پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآنِ مجید انسان کو زمین و آسمان میں موجود وسائل سے فائدہ اٹھانے اور انہیں اپنی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لانے کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ ۚ

ترجمہ: ”اور اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔“ (سورۃ الجاثیہ: 13)

اس قرآنی تعلیم کی روشنی میں انسان کو چاہیے کہ وہ قدرت کے عطا کردہ وسائل کو علم، تحقیق اور دانش مندی کے ساتھ استعمال کرے۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے طب، زراعت، مواصلات، تعلیم، صنعت اور دیگر شعبوں میں انسانی زندگی کو آسان بنانے کے بے شمار امکانات پیدا کیے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ان صلاحیتوں کو انسانیت کی بھلائی، بیماریوں کے علاج، جہالت کے خاتمے اور معاشرتی ترقی کے لیے استعمال کرنا ایک قابلِ قدر مقصد ہے۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے علم و تحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ الجبرا، طب، بصریات، فلکیات اور دیگر علوم میں مسلم اہلِ علم کی کاوشوں نے عالمی علمی روایت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ محمد بن موسیٰ الخوارزمی، ابن الہیثم، ابن سینا اور دیگر مسلم مفکرین و محققین کی علمی خدمات اس تاریخی ورثے کی روشن مثالیں ہیں۔ ان اہلِ علم نے تحقیق، مشاہدے، استدلال اور علمی جستجو کے ذریعے اپنے عہد کے علوم کو فروغ دیا اور بعد کی علمی روایتوں پر بھی اثرات مرتب کیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی علمی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم کسی ایک قوم یا خطے کی میراث نہیں، بلکہ انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ آج کے دور میں بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ تعلیم، سائنسی تحقیق، طب، انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدانوں میں آگے بڑھیں، نئی نسل میں تحقیقی ذوق پیدا کریں اور علم کو عملی زندگی میں بروئے کار لائیں۔ دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کا حصول بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ اسلام اور سائنس کے تعلق کو سمجھتے ہوئے یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ قرآنِ مجید بنیادی طور پر ہدایت، عقیدہ، اخلاق اور زندگی کے اصولوں کی کتاب ہے، جب کہ سائنس قدرتی مظاہر کی تحقیق کے لیے تجرباتی اور مشاہداتی طریقے اختیار کرتی ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو غور و فکر کی دعوت ضرور دیتا ہے، لیکن ہر نئی سائنسی دریافت کو کسی آیت کی قطعی سائنسی تشریح قرار دینا درست علمی رویہ نہیں۔ سائنسی نظریات کا جائزہ شواہد اور تحقیق کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، جب کہ قرآنی آیات کی تفسیر معتبر علمی اصولوں اور سیاق و سباق کی روشنی میں کی جاتی ہے۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ حقیقی علم انسان کے اندر عاجزی، ذمہ داری اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اگر سائنسی ترقی کے ذریعے انسان کو سہولتیں حاصل ہوں، لیکن اس کے ساتھ اخلاقی شعور اور انسانی ہمدردی نہ ہو تو ترقی کے فوائد محدود ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جدید سائنسی صلاحیتوں کو اخلاقی اقدار، عدل و انصاف اور انسانی فلاح کے ساتھ مربوط رکھا جائے۔ اسلام علم کے ایسے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو انسان اور معاشرے کے لیے مفید ہو اور جس سے ظلم، فساد اور نقصان کے بجائے خیر و بھلائی کو فروغ ملے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اسلام اور سائنس کے باہمی تعلق کو مثبت انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام انسان کو علم حاصل کرنے، کائنات میں غور کرنے، عقل سے کام لینے اور مخلوقِ خدا کے لیے نفع بخش کردار ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمان اگر قرآن و سنت کی ہدایات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے جدید علوم میں مہارت، تحقیق میں سنجیدگی اور کردار میں پاکیزگی پیدا کریں تو وہ نہ صرف اپنی علمی روایت کو زندہ کرسکتے ہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے چیلنجوں کا مؤثر مقابلہ بھی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button