نیشنل

ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کا سپریم کورٹ میں جوابی حلف نامہ

نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی کرانے کے اپنے فیصلے کا سپریم کورٹ میں دفاع کیا ہے۔

 

الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ایس آئی آر کا عمل قانون کے مطابق انجام دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں جاری کیے گئے تین احکامات کو چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنروں نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔

 

سپریم کورٹ کی ہدایت پر الیکشن کمیشن نے پیر کے روز ان درخواستوں کے جواب میں حلف نامہ داخل کیا جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں تبدیلیاں کی گئیں اور دیگر فیصلے بھی دونوں الیکشن کمشنروں کی منظوری کے بغیر لیے گئے۔

 

کمیشن نے واضح کیا کہ حلف نامے کو چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنروں نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامے میں واضح کیا کہ نہ تو قانون میں اور نہ ہی ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔کمیشن نے مزید کہا کہ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کو قانونی طور پر ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔

 

اس لیے محض ایسی خبروں کی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر کو ان کے فرائض انجام دینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ایس آئی آر کے احکامات کے ذریعے فارم 6 میں تبدیلی کیے جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ اس عمل کے لیے استعمال کیا گیا اعلانِ حلفی (Declaration) ایک الگ دستاویز ہے اور فارم 6 کا حصہ نہیں ہے۔

 

آخر میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ اس معاملے سے متعلق تمام درخواستوں کو خارج کر دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button