انٹر نیشنل

حوثی باغیوں سے معاہدے کے لئے سعودی عرب کی بڑی پیشکش – 9,500 کروڑ روپے دے کر امن خریدنے کی کوشش؟

ریاض: یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں سے پریشان سعودی عرب کی جانب سے مبینہ طور پر حوثیوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنے ملک پر حملے روکنے کے لیے حوثی باغیوں کو 9,500 کروڑ روپے دینے پر آمادہ ہے۔

 

ذرائع ابلاغ کے مطابق، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان پیر کو اس سلسلے میں بات چیت کے لیے تہران پہنچے۔ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا کہ وزیر دفاع کے زیر استعمال ہرکیولس فوجی طیارے میں ہی یہ رقم بھی لائی گئی، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

 

سعودی وزارت دفاع کی عمارت پر میزائل حملے کا دعویٰ

مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں وزارت دفاع کی عمارت کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور میزائل براہ راست ہدف پر لگا۔ تاہم، اس دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے دو میزائلوں کو فضا ہی میں روک دیا۔

 

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی ذرائع ابلاغ پر بتایا کہ ان کی فوج نے ریاض میں سعودی وزارت دفاع کو نشانہ بناتے ہوئے بیلسٹک میزائل داغا۔ تاہم حملے میں عمارت کو پہنچنے والے نقصان یا جانی نقصان سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

 

حوثیوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل صاف کرنے والی تنصیبات میں شامل راس تنورہ ریفائنری پر بھی میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق، حملے کے بعد ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button