تلنگانہ

چاول کی قیمتوں میں من مانی اضافہ پر تلنگانہ حکومت کا شکنجہ – مقررہ قمیت سے زائد فروخت کرنے پر سخت کارروائی کا انتباہ

حیدرآباد: چاول کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتوں میں من مانی اضافہ کرنے والے رائس ملرس اور تاجروں کو قابو میں لانے کے لیے محکمہ سیول سپلائز تلنگانہ نے اہم فیصلہ کیا ہے۔

 

گزشتہ چند دنوں سے جاری معائنوں کے درمیان ہفتہ کو رائس ملرس اور تاجروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے صارفین کو فروخت کئے جانے والے چاول کے نرخ مقرر کئے گئے۔ حکام نے واضح کیا کہ مقررہ قیمتوں سے زیادہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

 

فی الحال عمدہ قسم کے باریک چاول 75 سے 80 روپے فی کلو کے بجائے 95 روپے تک فروخت کئے جارہے ہیں۔ اس معاملے پر وزیر سیول سپلائز اُتم کمار ریڈی نے جمعہ کو منعقدہ اجلاس میں قیمتوں پر قابو پانے کے لئے معائنوں میں شدت پیدا کرنے کی ہدایت دی تھی۔

 

انہوں نے اعلیٰ عہدیداروں کو واضح احکامات جاری کئے کہ بی پی ٹی چاول کی قیمت 66 روپے فی کلو سے تجاوز نہ کرے۔ اس سلسلے میں کمشنر اسٹیفن رویندر کی ہدایت پر محکمہ سیول سپلائز کے ڈائرکٹر شیام پرسادال نے رائس ملرس اور تاجروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔

 

ڈائرکٹر نے کہا کہ ملک بھر میں دھان کی کاشت، پیداوار اور خریداری میں تلنگانہ سرفہرست ہے، ایسے میں ریاست میں چاول کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ناقابل قبول ہے۔ ملرس، ہول سیل اور ریٹیل تاجروں کے منافع کی حد کا جائزہ لیں، تاہم صارفین کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمتوں پر ہی چاول فروخت کئے جائیں۔ مقررہ نرخوں سے زیادہ وصول کرنے والوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی۔

 

دکانوں پر قیمتوں کی فہرست آویزاں کرنے کی ہدایت

محکمہ سیول سپلائز نے صارفین کو فروخت کئے جانے والے چھ اقسام کے باریک چاول کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں مقرر کرتے ہوئے ملرس اور تاجروں کو ان پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

* ایچ ایم ٹی اور جے ایس آر: 79 روپے فی کلو

* آر این آر اور تلنگانہ سونا: 74 روپے فی کلو

* بی پی ٹی اور کے این ایم: 66 روپے فی کلو

 

دوسری جانب ہفتہ کو محکمہ شہری رسد اور متعلقہ محکموں کے عہدیداروں نے حیدرآباد کے کوکٹ پلی علاقے میں چاول کی دکانوں کا معائنہ کیا۔ شام 5 بجے تک چھ مقدمات درج کئے گئے۔

 

معائنوں کے دوران بوریوں پر درج وزن سے کم چاول ہونا اور ایم آر پی اسٹیکرس تبدیل کرکے قیمتوں میں اضافہ کرنے جیسی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔ محکمہ شہری رسد کے ویجلنس عہدیدار ششی دھر راجو نے بتایا کہ چاول کے تاجروں کے خلاف دھوکہ دہی کے تحت تعزیرات ہند کی دفعہ 420 اور ضروری اشیاء قانون کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

 

دوسری جانب رائس ملوں، گوداموں اور چاول کی دکانوں کے معائنوں کے لیے عملے کی قلت مشکلات پیدا کررہی ہے۔ مزید یہ کہ کسی ایک دکان میں معائنہ شروع ہوتے ہی اطراف کی دیگر دکانوں کے تاجر اپنے کاروبار بند کرکے فرار ہورہے ہیں، جس سے کارروائیوں میں دشواری پیش آرہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button