ایجوکیشن

غوث نگر ہائی اسکول میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کے لیے ڈسٹر میکنگ ورکشاپ کا انعقاد

غوث نگر ہائی اسکول میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کے لیے ڈسٹر میکنگ ورکشاپ کا انعقاد

700 سے زائد ڈسٹرز کی تیاری، طلبہ میں خود اعتمادی، فائن موٹر اسکلز اور کاروباری ذہنیت کے فروغ کی منفرد کاوش

 

**حیدرآباد:** گورنمنٹ ہائی اسکول غوث نگر، بنڈلہ گوڑہ حیدرآباد میں طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی فائن موٹر اسکلز (Fine Motor Skills)، توجہ و ارتکاز (Focus and Concentration)، خود اعتمادی اور تخلیقی رجحانات کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک منفرد اور دلچسپ **ڈسٹر میکنگ ورکشاپ (Duster Making Workshop)** کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔

 

ہر سال کی طرح اس سال بھی اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد طلبہ کو ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنی پوشیدہ اور فطری صلاحیتوں کو عملی طور پر بروئے کار لاتے ہوئے کچھ نیا تخلیق کرسکیں۔ طلبہ نے غیر معمولی جوش و خروش، دلچسپی، مستعدی اور یکسوئی کے ساتھ ورکشاپ میں حصہ لیا اور اپنی محنت و لگن سے **700 سے زائد ڈسٹرز تیار کرکے ایک قابلِ ستائش مثال قائم کی۔**

 

اس ورکشاپ کی خاص بات یہ رہی کہ طلبہ نے محض ایک تعلیمی سرگرمی کے طور پر ڈسٹرز تیار نہیں کیے بلکہ اس کے ذریعے انہیں عملی زندگی کی اہم مہارتوں سے روشناس کرانے کی کوشش کی گئی۔ ڈسٹرز کی تیاری کے دوران طلبہ کی انگلیوں اور ہاتھوں کی باریک حرکات، ہاتھ اور آنکھ کے باہمی تال میل، توجہ، صبر، منصوبہ بندی اور کام کو تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیتوں کو فروغ ملا۔

 

مزید برآں، تیار کردہ ڈسٹرز کو نہ صرف اسکول میں سال بھر تدریسی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا بلکہ قریبی سرکاری اسکولوں کو بھی انتہائی مناسب اور کم قیمت پر فروخت کیا جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے طلبہ میں کاروباری سوچ (Entrepreneurial Mindset)، خود انحصاری، محنت کی قدر اور اپنی تیار کردہ اشیاء کی فروخت و مارکیٹنگ کا ابتدائی شعور پیدا کرنے کی ایک بامقصد کوشش کی گئی ہے۔

 

### صدر مدرس کا خطاب

 

اس موقع پر صدر مدرس **شاہد علی حسرت** نے اپنے خطاب میں کہا کہ:

 

"تعلیم کا مقصد صرف کتابوں میں موجود معلومات فراہم کرنا یا امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ بچوں کے اندر موجود فطری صلاحیتوں کو پہچاننا، انہیں نکھارنا اور عملی زندگی کے لیے تیار کرنا بھی ہے۔ ہر بچے کے اندر کوئی نہ کوئی منفرد صلاحیت ضرور موجود ہوتی ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اسے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مناسب ماحول اور مواقع فراہم کیے جائیں۔

 

ہماری کوشش ہے کہ غوث نگر ہائی اسکول کے طلبہ صرف تعلیم حاصل کرنے والے بچے نہ رہیں بلکہ وہ تخلیق کرنے والے، نئے خیالات پیش کرنے والے اور مستقبل میں خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے والے باصلاحیت نوجوان بنیں۔

 

آج ہمارے طلبہ نے 700 سے زائد ڈسٹرز تیار کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر بچوں کو موقع، رہنمائی اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے تو وہ اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں سے حیرت انگیز نتائج پیش کرسکتے ہیں۔ ہماری یہ سرگرمی بچوں میں اعتماد، خود انحصاری اور کاروباری ذہنیت پیدا کرنے کی جانب ایک چھوٹا مگر اہم قدم ہے۔”

 

انہوں نے مزید کہا کہ غوث نگر ہائی اسکول میں تعلیم کو محض نصابی حدود تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سرگرمیوں، تجربات، تخلیقی ورکشاپس اور ہنر مندی کے ذریعے طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

 

### اساتذہ اور سرپرستوں کا تعاون

 

اس کامیاب ورکشاپ کے انعقاد میں اسکول کے اساتذہ نے بھرپور دلچسپی اور تعاون کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر محمد رفیع، سید خالد، حمیرا فاطمہ، عارفہ بیگم، سوری ولیم، سمرین فاطمہ، فرحین خاتون، عرفانہ انجم، نسیم النساء، شیخ میمونہ بیگم، نازیہ تنویر، رقیہ فاطمہ، سویتا، مبینہ بیگم، صبا آفرین، وسیمہ بیگم، عطیہ طلعت اور دیگر اساتذہ موجود تھے۔

 

طلبہ کے اولیائے کرام نے بھی اس منفرد تعلیمی و تربیتی سرگرمی کو خوب سراہا اور اس بات کا اظہار کیا کہ اس طرح کی ورکشاپس بچوں کو صرف تعلیمی میدان ہی میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کرتی ہیں۔

 

### نئی سوچ، نئی فکر اور خود انحصاری کی جانب قدم

 

غوث نگر ہائی اسکول کی یہ کاوش اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جب تعلیم کو عملی تجربات اور تخلیقی سرگرمیوں سے مربوط کیا جاتا ہے تو طلبہ میں سیکھنے کا جذبہ، خود اعتمادی اور نئے امکانات تلاش کرنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔

 

**700 سے زائد ڈسٹرز کی تیاری محض ایک عدد نہیں بلکہ سینکڑوں طلبہ کی محنت، تخلیقی صلاحیت، اعتماد اور خود انحصاری کے سفر کی ایک خوبصورت علامت ہے۔**

 

غوث نگر ٹیم کا یہی عزم ہے کہ طلبہ کو صرف مستقبل کے ملازمت حاصل کرنے والے افراد نہیں بلکہ مستقبل کے ہنرمند، تخلیق کار اور کامیاب کاروباری افراد بنانے کے لیے بھی مسلسل مواقع فراہم کیے جائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button