نیشنل

جیل سے نکلتے ہی اعظم خان گرفتار – رہائی کے چند گھنٹوں بعد ای ڈی کا شکنجہ، اعظم خان کا سوال: کیا مسلمان ہونا گناہ ہے؟

رامپور: اترپردیش کے رامپور میں سماج وادی پارٹی کے سینئر قائد اعظم خان کو ہفتہ کے روز انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جیل سے رہائی کے فوراً بعد گرفتار کرلیا۔ اعظم خان کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد ہفتہ کی شام رامپور جیل سے رہا کیا گیا تھا، تاہم رہائی کے چند گھنٹوں بعد ہی ای ڈی کی ٹیم انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔ ایجنسی انہیں اتوار کی صبح تقریباً 10 بجے عدالت میں پیش کرکے تحویل میں دینے کی درخواست کرے گی۔

 

اطلاعات کے مطابق ای ڈی نے اعظم خان کے خلاف 14 اکتوبر کو منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ہائی کورٹ سے راحت ملنے کے بعد اعظم خان اور ان کے فرزند عبداللہ اعظم کی رہائی متوقع تھی، اسی دوران ای ڈی کی ٹیم سی آر پی ایف کے جوانوں کے ساتھ رامپور جیل پہنچ گئی۔ اعظم خان کو حراست میں لے کر گرفتار کرلیا گیا، جبکہ عبداللہ اعظم کی رہائی کے بارے میں صورتحال تاحال واضح نہیں ہے۔

 

دو پیان کارڈ معاملے میں ہائی کورٹ سے راحت

اعظم خان اور عبداللہ اعظم نے دو پین کارڈ معاملے میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کریمنل ریویژن درخواستیں داخل کی تھیں۔ دونوں نے سزا پر روک لگانے، سزا معطل کرنے اور عبوری ضمانت پر رہائی کی درخواست کی تھی۔

 

15 اکتوبر کو سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ بعد ازاں جسٹس سمیت گوپال کی سنگل بنچ نے دونوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا معطل کردی، تاہم سزا کے تحت جرم ثابت ہونے کے فیصلے پر روک لگانے کی درخواست مسترد کردی۔

 

اعظم خان نے قانون کی حکمرانی پر اٹھائے سوالات

رامپور جیل سے رہائی کے بعد اعظم خان نے قانون کی حکمرانی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اب کہنے کے لیے کیا باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا مسلمان ہونے کی یہی سزا ہے؟‘‘

 

اعظم خان نے کہا کہ ان کی غلطی صرف اتنی تھی کہ ایک مسلمان نے یونیورسٹی قائم کی اور بچوں کے لیے اسکول بنائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہی ان کا جرم ہے؟

 

1170 کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک کرنے کا دعویٰ

ای ڈی نے چہارشنبہ کو بتایا تھا کہ منی لانڈرنگ قانون کے تحت رامپور میں واقع اعظم خان کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو منسلک کیا گیا ہے، جن کی موجودہ بازار قیمت تقریباً 1170 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

 

ای ڈی کا الزام ہے کہ عوامی کاموں کے لیے مختص سرکاری فنڈس کا استعمال خانگی یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے کیا گیا۔ ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اعظم خان نے اترپردیش کے وزیر شہری ترقی اور اترپردیش جل نگم کے کابینی وزیر کی حیثیت سے اپنے اثر و رسوخ کا مبینہ بے جا استعمال کرتے ہوئے بے قاعدگیاں انجام دیں۔

 

رامپور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے جولائی میں یونیورسٹی کیمپس کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ نے اپیل دائر کی ہے۔

 

اکھلیش یادو کی حکومت پر تنقید

سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اعظم خان کی گرفتاری پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ اعظم خان کے خلاف مقدمات کے ذریعہ کی جانے والی مبینہ سازش کو پورا ملک اور دنیا دیکھ رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ایک عمر رسیدہ شخص کو بے بنیاد مقدمات میں بار بار پھنسا کر جیل بھیجنا انتہائی بزدلانہ عمل ہے۔ اکھلیش یادو نے خبردار کیا کہ وقت بدلنے پر اقتدار بھی بدل جاتا ہے اور ناانصافی جب حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو ظلم کرنے والوں کے لیے ہی مصیبت بن جاتی ہے۔

 

واضح رہے کہ اکھلیش یادو نے حال ہی میں جیل میں اعظم خان سے ملاقات کی تھی اور بی جے پی حکومت پر ان کے خلاف سیاسی انتقام کے تحت جھوٹے مقدمات درج کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ای ڈی نے اس معاملے میں اگست میں چھاپے بھی مارے تھے اور اعظم خان سے پوچھ تاچھ کی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button