امریکہ میں ہندوؤں کے خلاف نفرت انگیز نعرے، سیئٹل میں ٹرمپ حامیوں کا احتجاج، دیوالی تقریب کے دوران ہندوؤں کو ملک چھوڑنے کا مطالبہ

حیدرآباد – 8نومبر ( اردو لیکس ڈیسک،) امریکہ میں دیوالی کی تقریبات کے دوران ہندو برادری کے خلاف نفرت انگیز نعرے بازی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واشنگٹن ریاست کے شہر سیئٹل میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں نے احتجاج کرتے ہوئے ہندوؤں سے امریکہ چھوڑ کر جانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ہندوؤں پر امریکی ثقافت کو نقصان پہنچانے اور عیسائیت کے خاتمے کی سازش کرنے جیسے الزامات عائد کئے۔
اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج 7 نومبر کو سیئٹل سینٹر کے آرمری ہال میں منعقدہ ’’دیوالی: لائٹس آف انڈیا‘‘ تقریب کے دوران کیا گیا، جس کا اہتمام نارتھ ویسٹ شیئر نامی تنظیم نے کیا تھا۔ جیک لانگ کے ساتھ تھامس ایلن بھی احتجاج میں شریک تھے۔ دونوں نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’تمام ہندوستانی نژاد افراد کو امریکہ سے نکالو‘‘ اور ’’عیسائیوں کی جگہ ہندوؤں کو بسانا بند کرو‘‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ ہندو امریکی تہذیب اور عیسائی مذہب کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
احتجاج کے دوران تقریب میں موجود افراد نے مظاہرین کی مخالفت کی اور انہیں تقریب میں خلل ڈالنے سے روک دیا۔ اس واقعہ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئیں۔ بعد ازاں جیک لانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندو برادری کے خلاف توہین آمیز تبصرے کئے اور الزام لگایا کہ ہندوؤں کی وجہ سے ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
اس واقعہ پر امریکی کانگریس کی رکن پرمیلا جے پال نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نسل پرستانہ اور نفرت انگیز رویہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ دیوالی ایک اہم تہوار ہے اور ہماری برادری کو اسے محفوظ ماحول میں منانے کا حق حاصل ہے۔ شہر اور ملک میں اس طرح کی نفرت انگیزی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق معروف ہندوستانی نژاد امریکی تاجر اجے جین بھوٹوریا نے بھی احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی نسل پرستی اور مذہبی تعصب قرار دیا۔ شمالی امریکہ کی ہندو تنظیم (CoHNA) نے سیئٹل اور اطراف کے علاقوں میں رہنے والے ہندوؤں کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق مظاہرین نے بچوں کے ثقافتی پروگرام کے دوران تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کی اور آئندہ بھی دیگر تقریبات کو نشانہ بنانے کے اشارے دیئے ہیں۔
واضح رہے کہ جیک لانگ 6 جنوری 2021 کو امریکی پارلیمنٹ کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے میں شریک رہا تھا۔ اس معاملے میں چار سال قید کی سزا کاٹنے کے بعد اسے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2025 میں اپنی دوسری مدت صدارت کے پہلے ہی دن معافی دے دی تھی۔ وہ ’’وائٹ ریپلیسمنٹ‘‘ نامی تنظیم سے بھی وابستہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایک طرف سیئٹل میں ہندوؤں کے خلاف نفرت انگیز احتجاج کیا گیا، تو دوسری جانب امریکی وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستانی نژاد شخصیات کے ساتھ دیوالی منائی۔ واشنگٹن ریاست کے گورنر باب فرگوسن نے بھی ریاستی اسمبلی کی عمارت میں ہندوستانی قونصل جنرل اور سینیٹر منکا ڈھنگرا کے ساتھ دیوالی کی تقریب میں شرکت کی اور ریاست میں اس تہوار کو تسلیم کرتے ہوئے خصوصی اعلان کیا۔



