گاڑی مالکان کو بڑی راحت ؛ اب آر ٹی او کے چکر ختم – ملکیت کی منتقلی سے این او سی تک گھر بیٹھے سہولت

حیدرآباد: محکمہ ٹرانسپورٹ نے گاڑی مالکان کو بڑی راحت فراہم کرتے ہوئے تین اہم خدمات آن لائن دستیاب کردی ہیں۔ اب گاڑی کی ملکیت کی منتقلی، دیگر ریاستوں میں گاڑی لے جانے کے لیے این او سی اور ای۔کے وائی سی تفصیلات کی تازہ کاری کے لئے ل آر ٹی او دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکام کے مطابق واہن سٹیزن سروسز پورٹل کے ذریعے آدھار او ٹی پی کی مدد سے یہ تمام کارروائیاں گھر بیٹھے مکمل کی جاسکتی ہیں۔
ملکیت کی منتقلی کا آن لائن طریقہ
گاڑی فروخت کرنے کی صورت میں فروخت کنندہ اور خریدار دونوں کو پورٹل پر اپنی تفصیلات درج کرنا ہوں گی۔ اس کے لئے گاڑی کا نمبر، چیسس یا انجن نمبر کے آخری پانچ ہندسے اور انشورنس یا آلودگی سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ فروخت کنندہ آدھار او ٹی پی کے ذریعہ کارروائی شروع کرے گا، جس کے بعد خریدار کی تفصیلات درج کرنے پر درخواست نمبر جاری ہوگا۔
خریدار اس نمبر کے ذریعہ لاگ اِن کرکے اپنی تفصیلات کی تصدیق کرے گا۔ گاڑی کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے یا نہیں، اس کی جانچ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کے ذریعے کی جاسکے گی۔ مقررہ فیس کی ادائیگی اور دونوں جانب سے آدھار ای۔سائن مکمل ہونے کے بعد درخواست خودکار طور پر منظور ہوجائے گی اور آر ٹی او کی جانب سے نیا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (آر سی) جاری کیا جائے گا۔
دوسری ریاستوں کے لئے این او سی
گاڑی کو دوسری ریاست منتقل کرنے یا وہاں فروخت کرنے کے لیے بھی آن لائن این او سی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گاڑی کی تفصیلات اور آدھار او ٹی پی سے تصدیق کے بعد این سی آر بی رپورٹ ڈاؤن لوڈ کرکے مقررہ فیس ادا کرنی ہوگی۔ اس کے بعد فارم 28 اور متعلقہ دستاویزات پورٹل پر اپ لوڈ کرکے درخواست جمع کی جاسکتی ہے۔ درخواست براہ راست متعلقہ آر ٹی او دفتر پہنچ جائے گی اور کسی درمیانی شخص کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ای۔کے وائی سی کے لئے خصوصی ہدایات
گاڑی کے ریکارڈ میں مالک کے پتے اور آدھار کی تفصیلات اپ ڈیٹ کرنے کے لیے بھی ای۔کے وائی سی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ آدھار سے منسلک موبائل نمبر پر موصول ہونے والے او ٹی پی، جس کی مدت 10 منٹ ہوگی، کے ذریعے تصدیق مکمل کرکے آدھار کی نقل اور اصل آر سی اپ لوڈ کرنا ہوگا۔
تاہم محکمہ ٹرانسپورٹ نے واضح کیا ہے کہ ای۔کے وائی سی درخواست جمع کرنے کے بعد تفصیلات میں تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔ غلط معلومات درج ہونے کی صورت میں درخواست واپس لینے کے ساتھ ادا کردہ فیس بھی ضبط ہوسکتی ہے۔ حکام نے گاڑی مالکان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آدھار سے منسلک موبائل نمبر اپنے پاس رکھیں، او ٹی پی کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور صرف سرکاری پورٹل کے ذریعے ہی خدمات حاصل کریں۔




